Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا: مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے، تو انہوں نے کہا: اچھا ( پھر کہا: ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہو گا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے“، ( صعصعہ کہتے ہیں ) میں نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ تو انہوں نے کہا: اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر بن المفضل، عن يونس، عن الحسن، عن صعصعة بن معاوية، قال لقيت ابا ذر قال قلت حدثني . قال نعم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من عبد مسلم ينفق من كل مال له زوجين في سبيل الله الا استقبلته حجبة الجنة كلهم يدعوه الى ما عنده " . قلت وكيف ذلك قال " ان كانت ابلا فبعيرين وان كانت بقرا فبقرتين
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا“۔
اخبرنا ابو بكر بن ابي النضر، قال حدثنا ابو النضر، قال حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن سفيان الثوري، عن الركين الفزاري، عن ابيه، عن يسير بن عميلة، عن خريم بن فاتك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انفق نفقة في سبيل الله كتبت له بسبعماية ضعف
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ( اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں ) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے ( ثواب ) کے ساتھ آئے گا“۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابا عمرو الشيباني، عن ابي مسعود، ان رجلا، تصدق بناقة مخطومة في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لياتين يوم القيامة بسبعماية ناقة مخطومة
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد دو طرح کے ہیں: ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو، امام ( سردار ) کی اطاعت کرے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہو گا۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امیر ( سردار و سپہ سالار ) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ۱؎“۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد، عن ابي بحرية، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " الغزو غزوان فاما من ابتغى وجه الله واطاع الامام وانفق الكريمة وياسر الشريك واجتنب الفساد كان نومه ونبهه اجرا كله واما من غزا رياء وسمعة وعصى الامام وافسد في الارض فانه لا يرجع بالكفاف
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ۱؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا، ( یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے ( نہ ) لے گا۔ تو تمہارا کیا خیال ہے؟“ ۲؎۔
اخبرنا حسين بن حريث، ومحمود بن غيلان، - واللفظ لحسين - قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حرمة نساء المجاهدين على القاعدين كحرمة امهاتهم وما من رجل يخلف في امراة رجل من المجاهدين فيخونه فيها الا وقف له يوم القيامة فاخذ من عمله ما شاء فما ظنكم
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں۔ اگر وہ ( مجاہد ) کسی کو گھر پر ( دیکھ بھال کے لیے ) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی ( امانت میں ) خیانت کی۔ تو قیامت کے دن اس ( مجاہد ) سے کہا جائے گا ( یہ ہے تیرا مجرم ) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) تمہارا کیا گمان ہے“ ( کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا؟ ) ۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا حرمي بن عمارة، قال حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " حرمة نساء المجاهدين على القاعدين كحرمة امهاتهم واذا خلفه في اهله فخانه قيل له يوم القيامة هذا خانك في اهلك فخذ من حسناته ما شيت فما ظنكم
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی، ( اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی ) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں ہے ( تمہارا مجرم آؤ اور ) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟“۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا قعنب، - كوفي - عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " حرمة نساء المجاهدين على القاعدين في الحرمة كامهاتهم وما من رجل من القاعدين يخلف رجلا من المجاهدين في اهله الا نصب له يوم القيامة فيقال يا فلان هذا فلان فخذ من حسناته ما شيت " . ثم التفت النبي صلى الله عليه وسلم الى اصحابه فقال " ما ظنكم ترون يدع له من حسناته شييا
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے، اپنی زبانوں سے، اور اپنے مالوں کے ذریعہ“ ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جاهدوا بايديكم والسنتكم واموالكم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جو ان کے بدلے ( اور انتقام و قصاص ) سے ڈرے ( اور ان کو نہ مارے ) وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اخبرنا ابو محمد، موسى بن محمد - هو الشامي - قال حدثنا ميمون بن الاصبغ، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال انبانا شريك، عن ابي اسحاق، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن عبد الله، رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه امر بقتل الحيات وقال " من خاف ثارهن فليس منا
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبر رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، جب گھر میں ( اندر ) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں: ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے ( لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی ) ۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کر دیا جائے؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہو گی۔ ( سنو ) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، ( دیوار وغیرہ کے نیچے ) دب کر مرنا شہادت ہے، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے، حالت حمل میں مر جانے والی عورت شہید ہے“، ایک شخص نے کہا: تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو۔ ( انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے ) البتہ جب انتقال ہو جائے تو کوئی رونے والی اس پر ( زور زور سے ) نہ روئے“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا جعفر بن عون، عن ابي عميس، عن عبد الله بن عبد الله بن جبر، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عاد جبرا فلما دخل سمع النساء يبكين ويقلن كنا نحسب وفاتك قتلا في سبيل الله . فقال " وما تعدون الشهادة الا من قتل في سبيل الله ان شهداءكم اذا لقليل القتل في سبيل الله شهادة والبطن شهادة والحرق شهادة والغرق شهادة والمغموم - يعني الهدم - شهادة والمجنوب شهادة والمراة تموت بجمع شهيدة " . قال رجل اتبكين ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد قال " دعهن فاذا وجب فلا تبكين عليه باكية
جبر بن عتیک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کے یہاں پہنچے تو عورتیں رونے لگیں تو انہوں نے کہا: تم رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں رونے دو جب تک کہ وہ ان میں موجود ہے۔ پھر جب وہ انتقال کر جائے تو کوئی عورت ( چیخ چیخ کر ) نہ روئے“۔
اخبرنا احمد بن يحيى، قال حدثنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا داود، - يعني الطايي - عن عبد الملك بن عمير، عن جبر، انه دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على ميت فبكى النساء فقال جبر اتبكين ما دام رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا قال " دعهن يبكين ما دام بينهن فاذا وجب فلا تبكين باكية