Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ”جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے“۔ ( الحج: ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے“۔
اخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا اسحاق الازرق، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن مسلم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما اخرج النبي صلى الله عليه وسلم من مكة قال ابو بكر اخرجوا نبيهم انا لله وانا اليه راجعون ليهلكن . فنزلت { اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير } فعرفت انه سيكون قتال . قال ابن عباس فهي اول اية نزلت في القتال
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو ( جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے ) لڑائی نہ کرو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ ( بجائے اس کے کہ خوش ہوتے ) باز رہے ( ہچکچائے، ڈرے ) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا ( النساء: ۷۷ ) اخیر تک نازل فرمائی۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، قال انبانا ابي قال، انبانا الحسين بن واقد، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان عبد الرحمن بن عوف، واصحابا، له اتوا النبي صلى الله عليه وسلم بمكة فقالوا يا رسول الله انا كنا في عز ونحن مشركون فلما امنا صرنا اذلة . فقال " اني امرت بالعفو فلا تقاتلوا " . فلما حولنا الله الى المدينة امرنا بالقتال فكفوا فانزل الله عز وجل { الم تر الى الذين قيل لهم كفوا ايديكم واقيموا الصلاة}
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جامع کلمات ۱؎ دے کر بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب ۲؎ سے کی گئی ہے۔ اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئیں، اور میرے ہاتھوں میں تھما دی گئیں“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) رخصت ہو گئے لیکن تم ان خزانوں کو نکال کر خرچ کر رہے ہو ۳؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، قال سمعت معمرا، عن الزهري، قال قلت عن سعيد، قال نعم عن ابي هريرة، ح وانبانا احمد بن عمرو بن السرح، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ لاحمد - قالا حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بعثت بجوامع الكلم ونصرت بالرعب وبينا انا نايم اتيت بمفاتيح خزاين الارض فوضعت في يدي " . قال ابو هريرة فذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتم تنتثلونها
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔
اخبرنا هارون بن سعيد، عن خالد بن نزار، قال اخبرني القاسم بن مبرور، عن يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ۱؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں ( اور پیش کرتے ہوئے ) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( اس کی وضاحت کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) چلے گئے اور تم ان ( خزانوں ) سے فیض اٹھا رہے ہو۔ ( انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو)
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بعثت بجوامع الكلم ونصرت بالرعب وبينا انا نايم اتيت بمفاتيح خزاين الارض فوضعت في يدي " . فقال ابو هريرة فقد ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتم تنتثلونها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں۔ تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے ۱؎، اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ کے ذمہ ہے ۲؎“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله عصم مني ماله ونفسه الا بحقه وحسابه على الله
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنا دیئے گئے، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ۱؎، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، ( جس طرح نماز بدن کا حق ہے ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے، اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔
اخبرنا كثير بن عبيد، عن محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر وكفر من كفر من العرب قال عمر يا ابا بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله عصم مني نفسه وماله الا بحقه وحسابه على الله " . قال ابو بكر رضى الله عنه والله لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة فان الزكاة حق المال والله لو منعوني عناقا كانوا يودونها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها فوالله ما هو الا ان رايت الله عز وجل قد شرح صدر ابي بكر للقتال وعرفت انه الحق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ( جس طرح نماز بدن کا ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں۔
اخبرنا احمد بن محمد بن مغيرة، قال حدثنا عثمان بن سعيد، عن شعيب، عن الزهري، قال حدثنا عبيد الله، ح وانبانا كثير بن عبيد، قال حدثنا بقية، عن شعيب، قال حدثني الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان ابا هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ابو بكر بعده وكفر من كفر من العرب قال عمر رضى الله عنه يا ابا بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله فقد عصم مني ماله ونفسه الا بحقه وحسابه على الله " . قال ابو بكر رضى الله عنه لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة فان الزكاة حق المال والله لو منعوني عناقا كانوا يودونها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها . قال عمر فوالله ما هو الا ان رايت ان الله عز وجل شرح صدر ابي بكر للقتال فعرفت انه الحق . واللفظ لاحمد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں کو ) ان ( منکرین زکاۃ و مرتدین دین ) سے جنگ کے لیے اکٹھا کیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: ”مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، اور جب انہوں نے یہ کلمہ کہہ لیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا۔ مگر اس کے حق کے بدلے ( جان و مال پر جو حقوق لگا دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہ کرے گا تو سزا کا حقدار ہو گا۔ مثلاً قصاص و حدود ضمانت وغیرہ میں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ ( دونوں فریضوں ) میں فرق کرے گا۔ اور قسم اللہ کی اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک چھوٹا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں نے اچھی طرح جان لیا کہ ان ( منحرفین ) سے جنگ کے معاملہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پورے طور پر شرح صدر حاصل ہے۔ ( تبھی وہ اتنے مستحکم اور فیصلہ کن انداز میں بات کر رہے ہیں ) اور مجھے یقین آ گیا کہ وہ حق پر ہیں۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا مومل بن الفضل، قال حدثنا الوليد، قال حدثني شعيب بن ابي حمزة، وسفيان بن عيينة، وذكر، اخر عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال لما جمع ابو بكر لقتالهم فقال عمر يا ابا بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالوها عصموا مني دماءهم واموالهم الا بحقها " . قال ابو بكر رضى الله عنه لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة والله لو منعوني عناقا كانوا يودونها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها . قال عمر رضى الله عنه فوالله ما هو الا ان رايت ان الله تعالى قد شرح صدر ابي بكر لقتالهم فعرفت انه الحق
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے، تو عرب ( دین اسلام سے ) مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے لڑائی لڑیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لوگ گواہی دینے لگیں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے لگیں، اور زکاۃ دینے لگیں، قسم اللہ کی، اگر انہوں نے ایک بکری کا چھوٹا بچہ دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں اس کی خاطر بھی ان سے لڑائی لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے دیکھی کہ انہیں اس پر شرح صدر حاصل ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ حق پر ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عمران بن قطان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس سے پہلے والی حدیث صحیح و درست ہے، زہری کی حدیث کا سلسلہ «عن عبيد اللہ بن عبداللہ بن عتبة عن أبي هريرة» ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عمرو بن عاصم، قال حدثنا عمران ابو العوام القطان، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن انس بن مالك، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم ارتدت العرب قال عمر يا ابا بكر كيف تقاتل العرب فقال ابو بكر رضي الله عنه انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله واني رسول الله ويقيموا الصلاة ويوتوا الزكاة " . والله لو منعوني عناقا مما كانوا يعطون رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم عليه . قال عمر رضى الله عنه فلما رايت راى ابي بكر قد شرح علمت انه الحق . قال ابو عبد الرحمن عمران القطان ليس بالقوي في الحديث وهذا الحديث خطا والذي قبله الصواب حديث الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا ( قبول کر لیا ) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کر لیا۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جا سکے گا جب اس کا حق ( وقت و نوبت ) آ جائے ۱؎۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ۲؎۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان، عن شعيب، عن الزهري، ح واخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا ابي قال، حدثنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قالها فقد عصم مني نفسه وماله الا بحقه وحسابه على الله
انس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنے ہاتھوں، اور اپنی زبانوں کے ذریعہ“ ۱؎۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، ومحمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قالا حدثنا يزيد، قال انبانا حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " جاهدوا المشركين باموالكم وايديكم والسنتكم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎“۔
اخبرنا عبدة بن عبد الرحيم، قال حدثنا سلمة بن سليمان، قال انبانا ابن المبارك، قال انبانا وهيب، - يعني ابن الورد - قال اخبرني عمر بن محمد بن المنكدر، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مات ولم يغز ولم يحدث نفسه بغزو مات على شعبة نفاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا، ( لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔
اخبرنا احمد بن يحيى بن الوزير بن سليمان، عن ابن عفير، عن الليث، عن ابن مسافر، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " والذي نفسي بيده لولا ان رجالا من المومنين لا تطيب انفسهم ان يتخلفوا عني ولا اجد ما احملهم عليه ما تخلفت عن سرية تغزو في سبيل الله عز وجل والذي نفسي بيده لوددت اني اقتل في سبيل الله ثم احيا ثم اقتل ثم احيا ثم اقتل ثم احيا ثم اقتل
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں“۔ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے ( وہ ایک نابینا صحابی تھے ) انہوں نے ( حسرت بھرے انداز میں ) کہا: اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا ( مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں ) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے ( کلام پاک کا یہ ٹکڑا ) «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔ ”ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں“ اور ( اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر ( بھی ) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی، پھر یہ کیفیت موقوف ہو گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے، علی بن مسہر، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - قال انبانا عبد الرحمن بن اسحاق، عن الزهري، عن سهل بن سعد، قال رايت مروان بن الحكم جالسا فجيت حتى جلست اليه فحدثنا ان زيد بن ثابت حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انزل عليه لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله . فجاء ابن ام مكتوم وهو يملها على فقال يا رسول الله لو استطيع الجهاد لجاهدت فانزل الله عز وجل وفخذه على فخذي فثقلت على حتى ظننت ان سترض فخذي ثم سري عنه { غير اولي الضرر } قال ابو عبد الرحمن عبد الرحمن بن اسحاق هذا ليس به باس وعبد الرحمن بن اسحاق يروي عنه علي بن مسهر وابو معاوية وعبد الواحد بن زياد عن النعمان بن سعد ليس بثقة
زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بول کر لکھایا «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ( النساء: ۹۵ ) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے۔ تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا یہ حصہ «غير أولي الضرر» نازل فرمایا، ( اس آیت کے اترتے وقت ) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے سبب ) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہو جائے گی، پھر وحی موقوف ہو گئی ( تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہو گیا ) ۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، قال حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني سهل بن سعد، قال رايت مروان جالسا في المسجد فاقبلت حتى جلست الى جنبه فاخبرنا ان زيد بن ثابت اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم املى عليه لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله . قال فجاءه ابن ام مكتوم وهو يملها على فقال يا رسول الله لو استطيع الجهاد لجاهدت . وكان رجلا اعمى فانزل الله على رسوله صلى الله عليه وسلم وفخذه على فخذي حتى همت ترض فخذي ثم سري عنه فانزل الله عز وجل { غير اولي الضرر}
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن ) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی ( کچھ ) لاؤ۔ ( جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا ) چنانچہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ) لکھا: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ ( وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے ) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ ( میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا ) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ”ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر“۔
اخبرنا نصر بن علي، قال حدثنا معتمر، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن البراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم ثم ذكر كلمة معناها قال " ايتوني بالكتف واللوح " . فكتب { لا يستوي القاعدون من المومنين } وعمرو بن ام مكتوم خلفه فقال هل لي رخصة فنزلت { غير اولي الضرر}
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ ( میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا ) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، ( جہاد بھی نہیں کر سکتا ) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: «غير أولي الضرر» نازل ہوئی ( یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن عبيد، قال حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال لما نزلت { لا يستوي القاعدون من المومنين } جاء ابن ام مكتوم وكان اعمى فقال يا رسول الله فكيف في وانا اعمى قال فما برح حتى نزلت { غير اولي الضرر}
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن يحيى بن سعيد، عن سفيان، وشعبة، قالا حدثنا حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يستاذنه في الجهاد فقال " احى والداك " . قال نعم . قال " ففيهما فجاهد
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے“ ۱؎۔
اخبرنا عبد الوهاب بن عبد الحكم الوراق، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني محمد بن طلحة، - وهو ابن عبد الله بن عبد الرحمن - عن ابيه، طلحة عن معاوية بن جاهمة السلمي، ان جاهمة، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اردت ان اغزو وقد جيت استشيرك . فقال " هل لك من ام " . قال نعم . قال " فالزمها فان الجنة تحت رجليها