Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”افضل وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرے“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ مومن جو پہاڑوں کی کسی گھاٹی میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو، اور لوگوں کو ( ان سے دور رہ کر ) اپنے شر سے بچاتا ہو“۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا بقية، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اى الناس افضل قال " من جاهد بنفسه وماله في سبيل الله " . قال ثم من يا رسول الله قال " ثم مومن في شعب من الشعاب يتقي الله ويدع الناس من شره
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے، آپ نے کہا: ”کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ ( قرآن ) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ ( قرآن ) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن ابي الخطاب، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم عام تبوك يخطب الناس وهو مسند ظهره الى راحلته فقال " الا اخبركم بخير الناس وشر الناس ان من خير الناس رجلا عمل في سبيل الله على ظهر فرسه او على ظهر بعيره او على قدمه حتى ياتيه الموت وان من شر الناس رجلا فاجرا يقرا كتاب الله لا يرعوي الى شىء منه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ ( تھن سے نکلا ہوا ) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا جعفر بن عون، قال حدثنا مسعر، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال لا يبكي احد من خشية الله فتطعمه النار حتى يرد اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في منخرى مسلم ابدا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے ۱؎، اور اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن المبارك، عن المسعودي، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يلج النار رجل بكى من خشية الله تعالى حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان نار جهنم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں ( یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول ) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ۱؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے“ ۲؎۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يجتمعان في النار مسلم قتل كافرا ثم سدد وقارب ولا يجتمعان في جوف مومن غبار في سبيل الله وفيح جهنم ولا يجتمعان في قلب عبد الايمان والحسد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن سهيل، عن صفوان بن ابي يزيد، عن القعقاع بن اللجلاج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في جوف عبد ابدا ولا يجتمع الشح والايمان في قلب عبد ابدا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے ( یعنی جہاد ) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن سهيل بن ابي صالح، عن صفوان بن سليم، عن خالد بن اللجلاج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في وجه رجل ابدا ولا يجتمع الشح والايمان في قلب عبد ابدا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں“۔
اخبرني محمد بن عامر، قال حدثنا منصور بن سلمة، قال انبانا الليث بن سعد، عن ابن الهاد، عن سهيل بن ابي صالح، عن صفوان بن ابي يزيد، عن القعقاع بن اللجلاج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في جوف عبد ولا يجتمع الشح والايمان في جوف عبد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عرعرة بن البرند، وابن ابي عدي، قالا حدثنا محمد بن عمرو، عن صفوان بن ابي يزيد، عن حصين بن اللجلاج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يجتمع غبار في سبيل الله عز وجل ودخان جهنم في منخرى مسلم ابدا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مومن کے نتھنے میں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی مسلمان کے نتھنے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں“ ۱؎۔
اخبرني شعيب بن يوسف، قال حدثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن عمرو، عن صفوان بن ابي يزيد، عن حصين بن اللجلاج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في منخرى مسلم ولا يجتمع شح وايمان في قلب رجل مسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت ( کنجوسی ) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن صفوان بن ابي يزيد، عن ابي العلاء بن اللجلاج، انه سمع ابا هريرة، يقول لا يجمع الله عز وجل غبارا في سبيل الله ودخان جهنم في جوف امري مسلم ولا يجمع الله في قلب امري مسلم الايمان بالله والشح جميعا
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ ( راستے میں ) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہو جاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں ( کیونکہ ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے“ ۱؎۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا يزيد بن ابي مريم، قال لحقني عباية بن رافع وانا ماش، الى الجمعة فقال ابشر فان خطاك هذه في سبيل الله سمعت ابا عبس يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اغبرت قدماه في سبيل الله فهو حرام على النار
ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے“ ۱؎۔
اخبرنا عصمة بن الفضل، قال حدثنا زيد بن حباب، عن عبد الرحمن بن شريح، قال سمعت محمد بن شمير الرعيني، يقول سمعت ابا علي التجيبي، انه سمع ابا ريحانة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " حرمت عين على النار سهرت في سبيل الله
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام ( کسی وقت بھی نکلنا ) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے“۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، قال حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الغدوة والروحة في سبيل الله عز وجل افضل من الدنيا وما فيها
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں صبح کو نکلنا ہو، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، قال حدثني شرحبيل بن شريك المعافري، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، انه سمع ابا ايوب الانصاري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غدوة في سبيل الله او روحة خير مما طلعت عليه الشمس وغربت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، ( ایک ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، عن ابيه، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة كلهم حق على الله عز وجل عونه المجاهد في سبيل الله والناكح الذي يريد العفاف والمكاتب الذي يريد الاداء
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین ( طرح کے لوگ شامل ) ہیں ( ایک ) مجاہد ( دوسرا ) حاجی، ( تیسرا ) عمرہ کرنے والا“ ۱؎۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم، قال حدثنا ابن وهب، عن مخرمة، عن ابيه، قال سمعت سهيل بن ابي صالح، قال سمعت ابي يقول، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وفد الله عز وجل ثلاثة الغازي والحاج والمعتمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے ( شہید کا درجہ دے کر ) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تكفل الله عز وجل لمن جاهد في سبيله لا يخرجه الا الجهاد في سبيله وتصديق كلمته بان يدخله الجنة او يرده الى مسكنه الذي خرج منه مع ما نال من اجر او غنيمة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے ( یعنی جہاد کے لیے ) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے ( تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو ) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد، عن عطاء بن ميناء، مولى بن ابي ذباب سمع ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انتدب الله عز وجل لمن يخرج في سبيله لا يخرجه الا الايمان بي والجهاد في سبيلي انه ضامن حتى ادخله الجنة بايهما كان اما بقتل او وفاة او ارده الى مسكنه الذي خرج منه نال ما نال من اجر او غنيمة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال ( اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے ) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا ( موت نہیں دے گا تو ) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا“۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، قال حدثنا ابي، عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، قال سمعت ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثل المجاهد في سبيل الله - والله اعلم بمن يجاهد في سبيل الله - كمثل الصايم القايم وتوكل الله للمجاهد في سبيله بان يتوفاه فيدخله الجنة او يرجعه سالما بما نال من اجر او غنيمة