Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اور مال غنیمت پاتے ہیں، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پا لیتے ہیں ۱؎، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر ( آخرت میں ) محفوظ رہتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حيوة، وذكر، اخر قالا حدثنا ابو هاني الخولاني، انه سمع ابا عبد الرحمن الحبلي، يقول سمعت عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من غازية تغزو في سبيل الله فيصيبون غنيمة الا تعجلوا ثلثى اجرهم من الاخرة ويبقى لهم الثلث فان لم يصيبوا غنيمة تم لهم اجرهم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا ( یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا ) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کر لوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا“۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن يونس، عن الحسن، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يحكيه عن ربه عز وجل قال " ايما عبد من عبادي خرج مجاهدا في سبيل الله ابتغاء مرضاتي ضمنت له ان ارجعه ان ارجعته بما اصاب من اجر او غنيمة وان قبضته غفرت له ورحمته
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ( اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں ( واقعی ) جہاد کرنے والا کون ہے ) ۔ اس کی مثال مسلسل روزے رکھنے والے، نمازیں پڑھنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے کی سی ہے“ ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثل المجاهد في سبيل الله - والله اعلم بمن يجاهد في سبيله - كمثل الصايم القايم الخاشع الراكع الساجد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ( یعنی وہی درجہ رکھتا ہو ) آپ نے فرمایا: ”میں نہیں پاتا کہ تو وہ کر سکے گا، جب مجاہد جہاد کے لیے ( گھر سے ) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو ( اور پڑھتے ہی رہو ) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو، اور روزے رکھو ( رکھتے جاؤ ) افطار نہ کرو“، اس نے کہا یہ کون کر سکتا ہے؟ ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عفان، قال حدثنا همام، قال حدثنا محمد بن جحادة، قال حدثني ابو حصين، ان ذكوان، حدثه ان ابا هريرة حدثه قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال دلني على عمل يعدل الجهاد قال " لا اجده هل تستطيع اذا خرج المجاهد تدخل مسجدا فتقوم لا تفتر وتصوم لا تفطر " . قال من يستطيع ذلك
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، قال اخبرني عروة، عن ابي مراوح، عن ابي ذر، انه سال نبي الله صلى الله عليه وسلم اى العمل خير قال " ايمان بالله وجهاد في سبيل الله عز وجل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، قال سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الاعمال افضل قال " ايمان بالله " . قال ثم ماذا قال " الجهاد في سبيل الله " . قال ثم ماذا قال " حج مبرور
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوسعید! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎، ( راوی کہتے ہیں ) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ ( چنانچہ ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے ( اور درجے بھی کیسے؟ ) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا: یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ( یہ دوسری عبادت ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے“۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال حدثني ابو هاني، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يا ابا سعيد من رضي بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا وجبت له الجنة " . قال فعجب لها ابو سعيد قال اعدها على يا رسول الله . ففعل ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " واخرى يرفع بها العبد ماية درجة في الجنة ما بين كل درجتين كما بين السماء والارض " . قال وما هي يا رسول الله قال " الجهاد في سبيل الله الجهاد في سبيل الله
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز قائم کی اور زکاۃ دی، اور اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک کئے بغیر مرا تو چاہے ہجرت کر کے مرا ہو یا ( بلا ہجرت کے ) اپنے وطن میں مرا ہو، اللہ پر اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اللہ اسے بخش دے، ہم صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ خبر لوگوں کو نہ پہنچا دیں جسے سن کر لوگ خوش ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا: ”جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان آسمان و زمین اتنا فاصلہ ہے، اور یہ درجے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنائے ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا اور انہیں سوار کرا کے لے جانے کے لیے سواری نہ پاؤں گا اور میرے بعد میرا ساتھ چھوٹ جانے کی انہیں ناگواری اور تکلیف ہو گی تو میں کسی سریہ ( فوجی دستے ) کے ساتھ جانے سے بھی نہ چوکتا اور میں تو پسند کرتا اور چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، اور پھر قتل کیا جاؤں“ ۱؎۔
اخبرنا هارون بن محمد بن بكار بن بلال، قال حدثنا محمد بن عيسى بن القاسم بن سميع، قال حدثنا زيد بن واقد، قال حدثني بسر بن عبيد الله، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقام الصلاة واتى الزكاة ومات لا يشرك بالله شييا كان حقا على الله عز وجل ان يغفر له هاجر او مات في مولده " . فقلنا يا رسول الله الا نخبر بها الناس فيستبشروا بها فقال " ان للجنة ماية درجة بين كل درجتين كما بين السماء والارض اعدها الله للمجاهدين في سبيله ولولا ان اشق على المومنين ولا اجد ما احملهم عليه ولا تطيب انفسهم ان يتخلفوا بعدي ما قعدت خلف سرية ولوددت اني اقتل ثم احيا ثم اقتل
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مجھ پر ایمان لایا، اور میری اطاعت کی، اور ہجرت کی، تو میں اس کے لیے جنت کے احاطے ( فصیل ) میں ایک گھر اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں۔ اور میں اس شخص کے لیے بھی جو مجھ پر دل سے ایمان لائے، اور میری اطاعت کرے، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے ضمانت لیتا ہوں جنت کے گرد و نواح میں ( فصیل کے اندر ) ایک گھر کا، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بلند بالا خانوں ( منزلوں ) میں سے بھی ایک گھر ( اونچی منزل ) کا۔ جس نے یہ سب کیا ( یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد ) اس نے خیر کے طلب کی کوئی جگہ نہ چھوڑی ا؎ اور نہ ہی شر سے بچنے کی کوئی جگہ ۲؎ جہاں مرنا چاہے مرے“ ۳؎۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني ابو هاني، عن عمرو بن مالك الجنبي، انه سمع فضالة بن عبيد، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انا زعيم - والزعيم الحميل - لمن امن بي واسلم وهاجر ببيت في ربض الجنة وببيت في وسط الجنة وانا زعيم لمن امن بي واسلم وجاهد في سبيل الله ببيت في ربض الجنة وببيت في وسط الجنة وببيت في اعلى غرف الجنة من فعل ذلك فلم يدع للخير مطلبا ولا من الشر مهربا يموت حيث شاء ان يموت
سبرہ بن ابی فاکہہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: شیطان ابن آدم کو بہکانے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا۔ کبھی وہ اسلام کے راستہ سے سامنے آیا۔ کہا: تم اسلام لاتے ہو؟ اپنے دین کو، اپنے باپ کے دین کو اور اپنے دادا کے دین کو چھوڑ رہا ہے؟ ( یہ اچھی بات نہیں ) لیکن انسان نے اس کی بات نہیں مانی اور اسلام لے آیا۔ پھر وہ ہجرت کے راستے سے اسے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم ہجرت کر رہے ہو؟ تم اپنی زمین اور اپنا آسمان چھوڑ کر جا رہے ہو، مہاجر کی مثال لمبی رسی میں بندھے گھوڑے کی مثال ہے ( جو رسی کے دائرے سے باہر کہیں آ جا نہیں سکتا ) ، لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی ( اس کے بہکانے میں نہیں آیا ) اور ہجرت کی۔ پھر وہ انسان کو جہاد کے راستے سے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم جہاد کرتے ہو؟ یہ تو جان و مال کو کھپا دینا اور ضائع کر دینا ہے۔ تم جہاد کرو گے تو قتل کر دیئے جاؤ گے۔ تمہاری بیوی کی شادی کر دی جائے گی، اور تمہارا مال بانٹ دیا جائے گا۔ لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی اور جہاد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کیا اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے ( اپنی رحمت سے ) جنت میں داخل فرمائے، اور جو شخص ( اس راہ میں ) شہید ہو گیا اللہ تعالیٰ پر ایک طرح سے واجب ہو گیا کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اگر وہ ( اس راہ میں ) ڈوب گیا تو اسے بھی جنت میں داخل کرنا اللہ پر اس کا حق بنتا ہے، اگر اسے اس کی سواری گرا کر ہلاک کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی ( اپنے فضل و کرم سے ) جنت میں داخل فرمائے“۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابو النضر، هاشم بن القاسم قال حدثنا ابو عقيل عبد الله بن عقيل، قال حدثنا موسى بن المسيب، عن سالم بن ابي الجعد، عن سبرة بن ابي فاكه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الشيطان قعد لابن ادم باطرقه فقعد له بطريق الاسلام فقال تسلم وتذر دينك ودين ابايك واباء ابيك فعصاه فاسلم ثم قعد له بطريق الهجرة فقال تهاجر وتدع ارضك وسماءك وانما مثل المهاجر كمثل الفرس في الطول فعصاه فهاجر ثم قعد له بطريق الجهاد فقال تجاهد فهو جهد النفس والمال فتقاتل فتقتل فتنكح المراة ويقسم المال فعصاه فجاهد " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فمن فعل ذلك كان حقا على الله عز وجل ان يدخله الجنة ومن قتل كان حقا على الله عز وجل ان يدخله الجنة وان غرق كان حقا على الله ان يدخله الجنة او وقصته دابته كان حقا على الله ان يدخله الجنة
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ۱؎، جنت میں ( اسے مخاطب کر کے ) کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز۔ تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازہ ) سے بلایا جائے گا“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان حميد بن عبد الرحمن، اخبره ان ابا هريرة كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من انفق زوجين في سبيل الله نودي في الجنة يا عبد الله هذا خير فمن كان من اهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الريان " . فقال ابو
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، ان عمرو بن مرة، اخبرهم قال سمعت ابا وايل، قال حدثنا ابو موسى الاشعري، قال جاء اعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الرجل يقاتل ليذكر ويقاتل ليغنم ويقاتل ليرى مكانه فمن في سبيل الله قال " من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله عز وجل
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( کی مجلس ) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: شیخ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہو گا، وہ تین ( طرح کے لوگ ) ہوں گے، ایک وہ ہو گا جو شہید کر دیا گیا ہو گا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی ( ان ) نعمتوں کی پہچان کروائے گا ( جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں ) ۔ وہ انہیں پہچان ( اور تسلیم کر ) لے گا۔ اللہ ( اس ) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا ۱؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر لے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہو گا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے ( دوسروں کو ) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چنانچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا“۔ ایک اور شخص ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہو گی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چنانچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں «تحب» ( کا مفہوم ) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے «تحب» کے آگے «أن ينفق فيها» “ کہا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثنا يونس بن يوسف، عن سليمان بن يسار، قال تفرق الناس عن ابي هريرة، فقال له قايل من اهل الشام ايها الشيخ حدثني حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اول الناس يقضى لهم يوم القيامة ثلاثة رجل استشهد فاتي به فعرفه نعمه فعرفها قال فما عملت فيها قال قاتلت فيك حتى استشهدت . قال كذبت ولكنك قاتلت ليقال فلان جريء فقد قيل ثم امر به فسحب على وجهه حتى القي في النار ورجل تعلم العلم وعلمه وقرا القران فاتي به فعرفه نعمه فعرفها قال فما عملت فيها قال تعلمت العلم وعلمته وقرات فيك القران . قال كذبت ولكنك تعلمت العلم ليقال عالم وقرات القران ليقال قاري فقد قيل ثم امر به فسحب على وجهه حتى القي في النار ورجل وسع الله عليه واعطاه من اصناف المال كله فاتي به فعرفه نعمه فعرفها فقال ما عملت فيها قال ما تركت من سبيل تحب " . قال ابو عبد الرحمن ولم افهم تحب كما اردت " ان ينفق فيها الا انفقت فيها لك . قال كذبت ولكن ليقال انه جواد فقد قيل ثم امر به فسحب على وجهه فالقي في النار
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال ( اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی ) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی“ ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن جبلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غزا في سبيل الله ولم ينو الا عقالا فله ما نوى
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد کیا اور اس نے ( مال غنیمت میں ) صرف عقال ( یعنی ایک معمولی چیز ) حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا“ ۱؎۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال انبانا حماد بن سلمة، عن جبلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من غزا وهو لا يريد الا عقالا فله ما نوى
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“ ۱؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو“۔
اخبرنا عيسى بن هلال الحمصي، قال حدثنا محمد بن حمير، قال حدثنا معاوية بن سلام، عن عكرمة بن عمار، عن شداد ابي عمار، عن ابي امامة الباهلي، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ارايت رجلا غزا يلتمس الاجر والذكر ما له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا شىء له " . فاعادها ثلاث مرات يقول له رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا شىء له " . ثم قال " ان الله لا يقبل من العمل الا ما كان له خالصا وابتغي به وجهه
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو ( مسلمان ) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی ( یعنی ذرا سی دیر کے لیے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے، پھر وہ مر جائے یا قتل کر دیا جائے تو ( دونوں ہی صورتوں میں ) اسے شہید کا اجر ملے گا، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہو جائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ ( زخمی ہونے کے وقت ) جیسا کچھ تھا، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہو گا، رنگ زعفران کی طرح اور ( اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہو گا بلکہ اس کی ) خوشبو مشک کی ہو گی، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہو گی“ ۱؎۔ ۱؎: یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہو گا۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال سمعت حجاجا، انبانا ابن جريج، قال حدثنا سليمان بن موسى، قال حدثنا مالك بن يخامر، ان معاذ بن جبل، حدثهم انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قاتل في سبيل الله عز وجل من رجل مسلم فواق ناقة وجبت له الجنة ومن سال الله القتل من عند نفسه صادقا ثم مات او قتل فله اجر شهيد ومن جرح جرحا في سبيل الله او نكب نكبة فانها تجيء يوم القيامة كاغزر ما كانت لونها كالزعفران وريحها كالمسك ومن جرح جرحا في سبيل الله فعليه طابع الشهداء
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ( جہاد کرتے کرتے ) بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا“۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا بقية، عن صفوان، قال حدثني سليم بن عامر، عن شرحبيل بن السمط، انه قال لعمرو بن عبسة يا عمرو حدثنا حديثا، سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من شاب شيبة في سبيل الله تعالى كانت له نورا يوم القيامة ومن رمى بسهم في سبيل الله تعالى بلغ العدو اولم يبلغ كان له كعتق رقبة ومن اعتق رقبة مومنة كانت له فداءه من النار عضوا بعضو
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا“ تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو ( اس کا ) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، قال حدثنا قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن ابي نجيح السلمي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من بلغ بسهم في سبيل الله فهو له درجة في الجنة " . فبلغت يوميذ ستة عشر سهما . قال وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من رمى بسهم في سبيل الله فهو عدل محرر
شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی“، انہوں نے ( پھر ) ان سے کہا: ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( کوئی اور ) حدیث بیان کیجئے، لیکن ( ڈر کر اور بچ کر ) بے کم و کاست ( سنائیے ) ۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ( دشمن کو ) تیر مارو، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا“، ( یہ سن کر ) ابن النحام نے کہا: اللہ کے رسول! وہ درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( سن ) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے ( جس کا فاصلہ بہت کم ہے ) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے“۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن شرحبيل بن السمط، قال لكعب بن مرة يا كعب حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واحذر . قال سمعته يقول " من شاب شيبة في الاسلام في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة " . قال له حدثنا عن النبي صلى الله عليه وسلم واحذر . قال سمعته يقول " ارموا من بلغ العدو بسهم رفعه الله به درجة " . قال ابن النحام يا رسول الله وما الدرجة قال " اما انها ليست بعتبة امك ولكن ما بين الدرجتين ماية عام