احادیث
#3194
سنن نسائی - Jihad
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبر رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، جب گھر میں ( اندر ) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں: ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے ( لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی ) ۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کر دیا جائے؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہو گی۔ ( سنو ) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، ( دیوار وغیرہ کے نیچے ) دب کر مرنا شہادت ہے، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے، حالت حمل میں مر جانے والی عورت شہید ہے“، ایک شخص نے کہا: تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو۔ ( انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے ) البتہ جب انتقال ہو جائے تو کوئی رونے والی اس پر ( زور زور سے ) نہ روئے“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا جعفر بن عون، عن ابي عميس، عن عبد الله بن عبد الله بن جبر، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عاد جبرا فلما دخل سمع النساء يبكين ويقلن كنا نحسب وفاتك قتلا في سبيل الله . فقال " وما تعدون الشهادة الا من قتل في سبيل الله ان شهداءكم اذا لقليل القتل في سبيل الله شهادة والبطن شهادة والحرق شهادة والغرق شهادة والمغموم - يعني الهدم - شهادة والمجنوب شهادة والمراة تموت بجمع شهيدة " . قال رجل اتبكين ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد قال " دعهن فاذا وجب فلا تبكين عليه باكية
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Jihad
- Hadith Index
- #3194
- Book Index
- 110
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
