احادیث
#3155
سنن نسائی - Jihad
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: ”سائل اب کہاں ہے“؟ وہ آدمی بولا: ہاں ( جی ) میں حاضر ہوں، ( یا رسول اللہ! ) آپ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( بخش دے گا ) سوائے قرض کے، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عاصم، قال حدثنا محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب على المنبر فقال ارايت ان قاتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر ايكفر الله عني سيياتي قال " نعم " . ثم سكت ساعة قال " اين السايل انفا " . فقال الرجل ها انا ذا . قال " ما قلت " . قال ارايت ان قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر ايكفر الله عني سيياتي قال " نعم الا الدين سارني به جبريل انفا
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Jihad
- Hadith Index
- #3155
- Book Index
- 71
Grades
- Abu GhuddahHasan Sahih
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
