Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ۱؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، ثم ذكر كلمة معناها عن عباس الجريري، قال سمعت ابا عثمان، عن ابي هريرة، قال اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث الوتر اول الليل وركعتى الفجر وصوم ثلاثة ايام من كل شهر
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں ۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ملازم بن عمرو، قال حدثني عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، قال زارنا ابي طلق بن علي في يوم من رمضان فامسى بنا وقام بنا تلك الليلة واوتر بنا ثم انحدر الى مسجد فصلى باصحابه حتى بقي الوتر ثم قدم رجلا فقال له اوتر بهم فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا وتران في ليلة
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر ( صبح ) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، اگر جنبی ہوتے تو ( اپنے اوپر پانی ڈالتے ) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، قال سالت عايشة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان ينام اول الليل ثم يقوم فاذا كان من السحر اوتر ثم اتى فراشه فاذا كان له حاجة الم باهله فاذا سمع الاذان وثب فان كان جنبا افاض عليه من الماء والا توضا ثم خرج الى الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر ( صبح ) تک پہنچ گیا تھا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابي حصين، عن يحيى بن وثاب، عن مسروق، عن عايشة، قالت اوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم من اوله واخره واوسطه وانتهى وتره الى السحر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، ان ابن عمر، قال من صلى من الليل فليجعل اخر صلاته وترا فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر بذلك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وتر صبح ہونے ( فجر نکلنے ) سے پہلے پڑھو ۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال انبانا محمد، - وهو ابن المبارك - قال حدثنا معاوية، - وهو ابن سلام بن ابي سلام - عن يحيى بن ابي كثير، قال اخبرني ابو نضرة العوقي، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوتر فقال " اوتروا قبل الصبح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر فجر نکلنے سے پہلے پڑھ لو ۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل القناد، قال حدثنا يحيى، - وهو ابن ابي كثير - عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اوتروا قبل الفجر
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہو گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا: کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے ( اٹھ کر ) نماز پڑھی۔
اخبرنا يحيى بن حكيم، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، انه كان في مسجد عمرو بن شرحبيل فاقيمت الصلاة فجعلوا ينتظرونه فجاء فقال اني كنت اوتر . قال وسيل عبد الله هل بعد الاذان وتر قال نعم وبعد الاقامة . وحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نام عن الصلاة حتى طلعت الشمس ثم صلى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن الاخنس، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر على الراحلة
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم اپنے اونٹ پر وتر پڑھتے تھے، اور ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال اخبرني عبد الله بن محمد بن علي، قال حدثنا زهير، عن الحسن بن الحر، عن نافع، ان ابن عمر، كان يوتر على بعيره ويذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن ابي بكر بن عمر بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، عن سعيد بن يسار، قال قال لي ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر على البعير
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا شعبة، عن ابي التياح، عن ابي مجلز، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الوتر ركعة من اخر الليل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، ومحمد، قالا حدثنا ثم، ذكر كلمة معناها شعبة عن قتادة، عن ابي مجلز، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الوتر ركعة من اخر الليل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔
اخبرنا الحسن بن محمد، عن عفان، قال حدثنا همام، قال حدثنا قتادة، عن عبد الله بن شقيق، عن ابن عمر، ان رجلا، من اهل البادية سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل قال " مثنى مثنى والوتر ركعة من اخر الليل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو ( طاق ) کر دے گی ۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا حجاج بن ابراهيم، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا اردت ان تنصرف فاركع بواحدة توتر لك ما قد صليت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر ایک رکعت ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا خالد بن زياد، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى والوتر ركعة واحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز ( تہجد ) دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر ( طاق ) کر دے گی ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، وعبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خشي احدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رات کی نماز ( تہجد ) دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کر لو ۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال حدثنا محمد، - يعني ابن المبارك - قال حدثنا معاوية، - وهو ابن سلام - عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ونافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سمعه يقول " صلاة الليل ركعتين ركعتين فاذا خفتم الصبح فاوتروا بواحدة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عبد الرحمن، قال حدثنا مالك، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل احدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة ثم يضطجع على شقه الايمن
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور غیر رمضان میں کسی میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ چار رکعت پڑھتے تو ان کا حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو ۱؎، پھر چار رکعت پڑھتے تو تم ان کا ( بھی ) حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو، پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ۲؎۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره انه، سال عايشة ام المومنين كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان قالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا غيره على احدى عشرة ركعة يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن ثم يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا قالت عايشة فقلت يا رسول الله اتنام قبل ان توتر قال " يا عايشة ان عيني تنام ولا ينام قلبي