Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر بن المفضل، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، ان عايشة، حدثته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يسلم في ركعتى الوتر
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری رکعت میں«قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، اور دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے، پھر جب ( وتر سے ) فارغ ہو جاتے تو فراغت کے وقت تین بار: «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور ان کے آخر میں کھینچتے۔
اخبرنا علي بن ميمون، قال حدثنا مخلد بن يزيد، عن سفيان، عن زبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر بثلاث ركعات كان يقرا في الاولى ب { سبح اسم ربك الاعلى } وفي الثانية ب { قل يا ايها الكافرون } وفي الثالثة ب { قل هو الله احد } ويقنت قبل الركوع فاذا فرغ قال عند فراغه " سبحان الملك القدوس " . ثلاث مرات يطيل في اخرهن
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الركعة الاولى من الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } وفي الثانية ب { قل يا ايها الكافرون } وفي الثالثة ب { قل هو الله احد}
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں ( پہلی رکعت میں ) «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، اور ان کے بالکل آخر ہی میں سلام پھیرتے، اور تین بار: «سبحان الملك القدوس» کہتے ( یعنی سلام پھیرنے کے بعد ) ۔
اخبرنا يحيى بن موسى، قال انبانا عبد العزيز بن خالد، قال حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } وفي الركعة الثانية ب { قل يا ايها الكافرون } وفي الثالثة ب { قل هو الله احد } ولا يسلم الا في اخرهن ويقول يعني بعد التسليم " سبحان الملك القدوس " . ثلاثا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے، پہلی میں «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے۔ زہیر نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، ( ان کی روایت اس کے بعد آ رہی ہے ) ۔
اخبرنا الحسين بن عيسى، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا زكريا بن ابي زايدة، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث يقرا في الاولى ب { سبح اسم ربك الاعلى } وفي الثانية ب { قل يا ايها الكافرون } وفي الثالثة ب { قل هو الله احد } اوقفه زهير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ وتر کی تینوں رکعتوں میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، انه كان يوتر بثلاث ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور مسواک کی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر سو گئے، ( دوبارہ ) آپ پھر اٹھے، اور مسواک کی، پھر وضو کیا، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ نے چھ رکعتیں پڑھیں، پھر تین رکعتیں وتر کی اور دو رکعتیں ( فجر کی ) پڑھیں۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا معاوية بن هشام، قال حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن محمد بن علي، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قام من الليل فاستن ثم صلى ركعتين ثم نام ثم قام فاستن ثم توضا فصلى ركعتين حتى صلى ستا ثم اوتر بثلاث وصلى ركعتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ نیند سے بیدار ہوئے، آپ نے وضو کیا، مسواک کی، آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے: «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ( آل عمران: ۱۹۰ ) یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ واپس آئے، اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ اٹھے، اور وضو کیا، مسواک کی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور تین رکعت وتر پڑھی۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن حصين، عن حبيب بن ابي ثابت، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابيه، عن جده، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فقام فتوضا واستاك وهو يقرا هذه الاية حتى فرغ منها { ان في خلق السموات والارض واختلاف الليل والنهار لايات لاولي الالباب } ثم صلى ركعتين ثم عاد فنام حتى سمعت نفخه ثم قام فتوضا واستاك ثم صلى ركعتين ثم نام ثم قام فتوضا واستاك وصلى ركعتين واوتر بثلاث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے مسواک کی، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
اخبرنا محمد بن جبلة، قال حدثنا معمر بن مخلد، - ثقة - قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد، عن حبيب بن ابي ثابت، عن محمد بن علي، عن ابن عباس، قال استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستن وساق الحديث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور تین رکعت وتر پڑھتے، اور دو رکعت فجر کی نماز سے پہلے پڑھتے۔ عمرو بن مرہ نے حبیب کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن الجزار سے اور یحییٰ جزار نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ( یعنی اس کو مسند ابن عباس رضی اللہ عنہم کے بجائے مسند ام سلمہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے۔)
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا ابو بكر النهشلي، عن حبيب بن ابي ثابت، عن يحيى بن الجزار، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثمان ركعات ويوتر بثلاث ويصلي ركعتين قبل صلاة الفجر . خالفه عمرو بن مرة فرواه عن يحيى بن الجزار عن ام سلمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو آپ نو رکعت وتر پڑھنے لگے۔ عمارہ بن عمیر نے عمرو کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن جزار سے اور یحییٰ بن جزار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ ( یعنی عمارہ بن عمیر نے اس کو مسند ام سلمہ کی بجائے مسند عائشہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے۔)
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن يحيى بن الجزار، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث عشرة ركعة فلما كبر وضعف اوتر بتسع . خالفه عمارة بن عمير فرواه عن يحيى بن الجزار عن عايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، جب آپ بوڑھے اور ( گوشت چڑھ جانے کی وجہ سے ) بھاری بھر کم ہو گئے تو ( صرف ) سات رکعتیں پڑھنے لگے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن سليمان، عن عمارة بن عمير، عن يحيى بن الجزار، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل تسعا فلما اسن وثقل صلى سبعا
دوید بن نافع نے زہری سے، اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء بن یزید نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ہے، جو چاہے سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، قال حدثني ضبارة بن ابي السليل، قال حدثني دويد بن نافع، قال اخبرني ابن شهاب، قال حدثني عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الوتر حق فمن شاء اوتر بسبع ومن شاء اوتر بخمس ومن شاء اوتر بثلاث ومن شاء اوتر بواحدة
اوزاعی نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ہے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہے ایک پڑھے ۔
اخبرنا العباس بن الوليد بن مزيد، قال اخبرني ابي قال، حدثنا الاوزاعي، قال حدثني الزهري، قال حدثنا عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الوتر حق فمن شاء اوتر بخمس ومن شاء اوتر بثلاث ومن شاء اوتر بواحدة
ابومعید نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: وتر حق ہے، جو پانچ رکعت پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے وہ تین پڑھے، اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الهيثم بن حميد، قال حدثني ابو معيد، عن الزهري، قال حدثني عطاء بن يزيد، انه سمع ابا ايوب الانصاري، يقول الوتر حق فمن احب ان يوتر بخمس ركعات فليفعل ومن احب ان يوتر بثلاث فليفعل ومن احب ان يوتر بواحدة فليفعل
سفیان زھری سے روایت کرتے ہیں، اور زہری عطاء بن یزید سے، اور عطاء ابوایوب سے، ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو چاہے وتر سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے، اور جو اشارے سے پڑھنا چاہے اشارے سے پڑھے ( یعنی بیمار آدمی ) ۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب، قال من شاء اوتر بسبع ومن شاء اوتر بخمس ومن شاء اوتر بثلاث ومن شاء اوتر بواحدة ومن شاء اوما ايماء
منصور روایت کرتے ہیں حکم سے، اور وہ مقسم سے اور مقسم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ یا سات رکعت وتر پڑھتے، اور ان کے درمیان آپ سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے اور نہ کلام کے ذریعہ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن مقسم، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بخمس وبسبع لا يفصل بينها بسلام ولا بكلام
منصور حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے اور مقسم ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن منصور، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بسبع او بخمس ولا يفصل بينهن بتسليم
سفیان بن الحسین حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے، مقسم کہتے ہیں کہ وتر سات رکعت ہے اور پانچ سے کم نہیں، میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا: انہوں نے اسے کس کے واسطہ سے ذکر کیا ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، حکم کہتے ہیں: پھر میں حج کو گیا تو میں نے مقسم سے ملاقات کی، اور ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک ثقہ شخص سے ۱؎، اور اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، عن يزيد، قال حدثنا سفيان بن الحسين، عن الحكم، عن مقسم، قال الوتر سبع فلا اقل من خمس فذكرت ذلك لابراهيم فقال عمن ذكره قلت لا ادري . قال الحكم فحججت فلقيت مقسما فقلت له عمن قال عن الثقة عن عايشة وعن ميمونة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عبد الرحمن، عن سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوتر بخمس ولا يجلس الا في اخرهن