Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور بدن پر گوشت چڑھ گیا، تو آپ سات رکعت پڑھنے لگے، اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت اور پڑھتے تو میرے بیٹے یہ نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی صلاۃ پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں، ( یہ حدیث مختصر ہے ) ۔ ہشام دستوائی نے شعبہ کی مخالفت کی ہے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت لما اسن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذ اللحم صلى سبع ركعات لا يقعد الا في اخرهن وصلى ركعتين وهو قاعد بعد ما يسلم فتلك تسع يا بنى وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى صلاة احب ان يداوم عليها . مختصر . خالفه هشام الدستوايي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نو رکعت وتر پڑھتے تو صرف آٹھویں رکعت میں قعدہ کرتے، اللہ کی حمد کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے، اور سلام نہیں پھیرتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، دعا کرتے، پھر ایک سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، صرف چھٹی میں قعدہ کرتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے، اور ساتویں رکعت پڑھتے، پھر ایک سلام پھیرتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اوتر بتسع ركعات لم يقعد الا في الثامنة فيحمد الله ويذكره ويدعو ثم ينهض ولا يسلم ثم يصلي التاسعة فيجلس فيذكر الله عز وجل ويدعو ثم يسلم تسليمة يسمعنا ثم يصلي ركعتين وهو جالس فلما كبر وضعف اوتر بسبع ركعات لا يقعد الا في السادسة ثم ينهض ولا يسلم فيصلي السابعة ثم يسلم تسليمة ثم يصلي ركعتين وهو جالس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے ( پھر ) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اور اللہ کی حمد کرتے، اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے، اور کوئی سلام نہ پھیرتے، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے، اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے، اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، عن عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، ان عايشة، قالت كنا نعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم سواكه وطهوره فيبعثه الله عز وجل لما شاء ان يبعثه من الليل فيستاك ويتوضا ويصلي تسع ركعات لا يجلس فيهن الا عند الثامنة ويحمد الله ويصلي على نبيه صلى الله عليه وسلم ويدعو بينهن ولا يسلم تسليما ثم يصلي التاسعة ويقعد وذكر كلمة نحوها ويحمد الله ويصلي على نبيه صلى الله عليه وسلم ويدعو ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين وهو قاعد
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اس ہستی کو نہ بتاؤں یا اس ہستی کی خبر نہ دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زمین والوں میں سب سے زیادہ جانتی ہے؟ میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، تو ہم ان کے پاس آئے، اور ہم نے انہیں سلام کیا، اور ہم اندر گئے، اور اس بارے میں میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، پھر رات کو جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، سوائے آٹھویں کے ان میں سے کسی میں قعدہ نہیں کرتے، اللہ کی حمد کرتے اس کا ذکر کرتے، اور دعا مانگتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے آپ ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں، لیکن جب آپ بوڑھے ہو گئے اور آپ کے جسم پر گوشت چڑھ گیا تو آپ وتر سات رکعت پڑھنے لگے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، اس طرح میرے بیٹے! یہ کل نو رکعتیں ہوتی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، ان سعد بن هشام بن عامر، لما ان قدم، علينا اخبرنا انه، اتى ابن عباس فساله عن وتر، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الا ادلك او الا انبيك باعلم اهل الارض بوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت من قال عايشة . فاتيناها فسلمنا عليها ودخلنا فسالناها فقلت انبييني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله عز وجل ما شاء ان يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضا ثم يصلي تسع ركعات ولا يقعد فيهن الا في الثامنة فيحمد الله ويذكره ويدعو ثم ينهض ولا يسلم ثم يصلي التاسعة فيجلس فيحمد الله ويذكره ويدعو ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين وهو جالس فتلك احدى عشرة ركعة يا بنى فلما اسن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذ اللحم اوتر بسبع ثم يصلي ركعتين وهو جالس بعد ما يسلم فتلك تسعا اى بنى وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى صلاة احب ان يداوم عليها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، تو جب آپ کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن قتادة، عن الحسن، قال اخبرني سعد بن هشام، عن عايشة، انه سمعها تقول، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر بتسع ركعات ثم يصلي ركعتين وهو جالس فلما ضعف اوتر بسبع ركعات ثم صلى ركعتين وهو جالس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا حماد، عن قتادة، عن الحسن، عن سعد بن هشام، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر بتسع ويركع ركعتين وهو جالس
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور انہوں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا: آپ رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور نویں رکعت کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله الخلنجي، قال حدثنا ابو سعيد، - يعني مولى بني هاشم - قال حدثنا حصين بن نافع، قال حدثنا الحسن، عن سعد بن هشام، انه وفد على ام المومنين عايشة فسالها عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان يصلي من الليل ثمان ركعات ويوتر بالتاسعة ويصلي ركعتين وهو جالس . مختصر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن الاعمش، اراه عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل تسع ركعات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے، اور آپ ایک کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے، پھر آپ اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا مالك، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل احدى عشرة ركعة ويوتر منها بواحدة ثم يضطجع على شقه الايمن
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور ضعیف ہو گئے تو نو رکعت پڑھنے لگے۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن يحيى بن الجزار، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث عشرة ركعة فلما كبر وضعف اوتر بتسع
ابومجلز سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری مکہ اور مدینے کے درمیان تھے، کہ انہوں نے عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھی، اس میں انہوں نے سورۃ نساء کی سو آیتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے اپنے دونوں قدموں کو اس جگہ رکھنے میں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے تھے، اور ان آیتوں کے پڑھنے میں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن عاصم الاحول، عن ابي مجلز، ان ابا موسى، كان بين مكة والمدينة فصلى العشاء ركعتين ثم قام فصلى ركعة اوتر بها فقرا فيها بماية اية من النساء ثم قال ما الوت ان اضع قدمى حيث وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم قدميه وانا اقرا بما قرا به رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، پھر جب آپ سلام پھیرتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے۔
اخبرنا محمد بن الحسين بن ابراهيم بن اشكاب النسايي، قال انبانا محمد بن ابي عبيدة، قال حدثنا ابي، عن الاعمش، عن طلحة، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } فاذا سلم قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاث مرات
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ ان دونوں کی یعنی زبید اور طلحہ کی حصین نے مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ذر سے، ذر نے ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے انہوں نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
اخبرنا يحيى بن موسى، قال حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، قال حدثنا ابو جعفر الرازي، عن الاعمش، عن زبيد، وطلحة، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } خالفهما حصين فرواه عن ذر عن ابن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور«قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔
اخبرنا الحسن بن قزعة، عن حصين بن نمير، عن حصين بن عبد الرحمن، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور«قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تھے، تو «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور تیسری بار اپنی آواز بلند کرتے۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، عن سلمة، وزبيد، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } وكان يقول اذا سلم " سبحان الملك القدوس " . ثلاثا ويرفع صوته بالثالثة
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور«قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے، تو «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار «سبحان الملك القدوس» کہتے وقت اپنی آواز بلند کرتے تھے۔ منصور نے اسے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني سلمة، وزبيد، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن عبد الرحمن، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } ثم يقول اذا سلم " سبحان الملك القدوس " . ويرفع ب " سبحان الملك القدوس " . صوته بالثالثة . رواه منصور عن سلمة بن كهيل ولم يذكر ذرا
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیر کر فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار کھینچ کر کہتے تھے۔ نیز اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے زبید سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے بھی ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن قدامة، عن جرير، عن منصور، عن سلمة بن كهيل، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } وكان اذا سلم وفرغ قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاثا طول في الثالثة . ورواه عبد الملك بن ابي سليمان عن زبيد ولم يذكر ذرا
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ نیز محمد بن جحادہ نے اسے زبید سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے بھی ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا محمد بن عبيد، قال حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، عن زبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } ورواه محمد بن جحادة عن زبيد ولم يذكر ذرا
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، اور جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے تھے۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا محمد بن جحادة، عن زبيد، عن ابن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } فاذا فرغ من الصلاة قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاث مرات
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد»پڑھتے تھے۔
اخبرنا احمد بن محمد بن عبيد الله، قال حدثنا شعيب بن حرب، عن مالك، عن زبيد، عن ابن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}