Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
اس سند سے (سعید بن عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ نے یہ حدیث مرسلاً ( یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ ) روایت کی ہے، لیکن اسے عطا بن سائب نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کی ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مالك، عن زبيد، عن ذر، عن ابن ابزى، مرسل . وقد رواه عطاء بن السايب عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه،
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔
اخبرنا عبد الله بن الصباح، قال حدثنا الحسن بن حبيب، قال حدثنا روح بن القاسم، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے پھر جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت عزرة، يحدث عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } فاذا فرغ قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاثا
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری مرتبہ کھینچ کر کہتے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن زرارة، عن عبد الرحمن بن ابزى، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } فاذا فرغ قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاثا ويمد في الثالثة
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تھے۔ شبابہ نے ان دونوں کی یعنی محمد کی اور ابوداؤد کی مخالفت کی ہے ۱؎ انہوں نے اسے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے زرارہ بن اوفی سے، اور زرارہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن زرارة، عن عبد الرحمن بن ابزى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } خالفهما شبابة فرواه عن شعبة عن قتادة عن زرارة بن اوفى عن عمران بن حصين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے اس حدیث میں شبابہ کی متابعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے ان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا شبابة، عن شعبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم اوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا تابع شبابة على هذا الحديث . خالفه يحيى بن سعيد
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن قتادة، عن زرارة، عن عمران بن حصين، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر فقرا رجل ب { سبح اسم ربك الاعلى } فلما صلى قال " من قرا ب { سبح اسم ربك الاعلى } " . قال رجل انا . قال " قد علمت ان بعضهم خالجنيها
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کی کی قنوت میں کہتا ہوں، وہ یہ ہیں: «اللہم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» اے اللہ! مجھے ہدایت دے، ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، عافیت دے ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، میری نگہبانی فرمان لوگوں میں شامل کر کے جن کی تو نے نگہبانی فرمائی، اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن بريد، عن ابي الحوراء، قال قال الحسن علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات اقولهن في الوتر في القنوت " اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما اعطيت وقني شر ما قضيت انك تقضي ولا يقضى عليك وانه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت
حسن بن علی رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے یہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم اهدني فيمن هديت وبارك لي فيما أعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت وصلى اللہ على النبي محمد»۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن يحيى بن عبد الله بن سالم، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن علي، عن الحسن بن علي، قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم هولاء الكلمات في الوتر قال " اللهم اهدني فيمن هديت وبارك لي فيما اعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فانك تقضي ولا يقضى عليك وانه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت وصلى الله على النبي محمد
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر کے آخر میں یہ کلمات کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری خوشی کی تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے بچاؤ کی تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا سليمان بن حرب، وهشام بن عبد الملك، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن هشام بن عمرو الفزاري، عن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في اخر وتره " اللهم اني اعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، عن شعبة، عن ثابت البناني، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يرفع يديه في شىء من دعايه الا في الاستسقاء . قال شعبة فقلت لثابت انت سمعته من انس قال سبحان الله . قلت سمعته قال سبحان الله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے لے کر فجر ہونے تک فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتوں کے بقدر پڑھ لے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا ليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي احدى عشرة ركعة فيما بين ان يفرغ من صلاة العشاء الى الفجر بالليل سوى ركعتى الفجر ويسجد قدر ما يقرا احدكم خمسين اية
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا قاسم، عن سفيان، عن زبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } ويقول بعد ما يسلم " سبحان الملك القدوس " . ثلاث مرات يرفع بها صوته
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابونعیم نے ان دونوں کی یعنی قاسم اور محمد بن عبید کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے سفیان سے، اور سفیان نے زبید سے، زبید نے ذر سے، اور ذر نے سعید بن عبدالرحمٰن ابزیٰ سے روایت کیا ہے، ( یعنی سند میں ایک راوی ذر کا اضافہ کیا ہے ) ۔
اخبرنا احمد بن يحيى، قال حدثنا محمد بن عبيد، عن سفيان الثوري، وعبد الملك بن ابي سليمان، عن زبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } ويقول بعد ما يسلم " سبحان الملك القدوس " . ثلاث مرات يرفع بها صوته . خالفهما ابو نعيم فرواه عن سفيان عن زبيد عن ذر عن سعيد
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے، ( جریر کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، عن ابي نعيم، عن سفيان، عن زبيد، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } فاذا اراد ان ينصرف قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاثا يرفع بها صوته . قال ابو عبد الرحمن ابو نعيم اثبت عندنا من محمد بن عبيد ومن قاسم بن يزيد واثبت اصحاب سفيان عندنا والله اعلم يحيى بن سعيد القطان ثم عبد الله بن المبارك ثم وكيع بن الجراح ثم عبد الرحمن بن مهدي ثم ابو نعيم ثم الاسود في هذا الحديث . ورواه جرير بن حازم عن زبيد فقال يمد صوته في الثالثة ويرفع
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار میں آواز کھینچتے اور بلند کرتے۔
اخبرنا حرمي بن يونس بن محمد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا جرير، قال سمعت زبيدا، يحدث عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } واذا سلم قال " سبحان الملك القدوس " . ثلاث مرات يمد صوته في الثالثة ثم يرفع
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہوتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا، ان کی روایت آگے آ رہی ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد } واذا فرغ قال " سبحان الملك القدوس " . ارسله هشام
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، عن ابي عامر، عن هشام، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوتر . وساق الحديث
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھتے تھے، نو رکعت کھڑے ہو کر، اس میں وتر بھی ہوتی اور دو رکعت بیٹھ کر، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور رکوع اور سجدہ کرتے، اور ایسا آپ وتر کے بعد کرتے تھے، پھر جب آپ فجر کی اذان سنتے تو کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال حدثنا محمد، - يعني ابن المبارك الصوري - قال حدثنا معاوية، - يعني ابن سلام - عن يحيى بن ابي كثير، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، انه سال عايشة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليل فقالت كان يصلي ثلاث عشرة ركعة تسع ركعات قايما يوتر فيها وركعتين جالسا فاذا اراد ان يركع قام فركع وسجد ويفعل ذلك بعد الوتر فاذا سمع نداء الصبح قام فركع ركعتين خفيفتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن ابراهيم بن محمد، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يدع اربع ركعات قبل الظهر وركعتين قبل الفجر . خالفه عامة اصحاب شعبة ممن روى هذا الحديث فلم يذكروا مسروقا