Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن السايب بن يزيد، عن المطلب بن ابي وداعة، عن حفصة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في سبحته قاعدا قط حتى كان قبل وفاته بعام فكان يصلي قاعدا يقرا بالسورة فيرتلها حتى تكون اطول من اطول منها
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے آدھی ہوتی ہے، اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لیکن میں تم لوگوں کی طرح نہیں ہوں ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثنا منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي يحيى، عن عبد الله بن عمرو، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي جالسا فقلت حدثت انك قلت " ان صلاة القاعد على النصف من صلاة القايم " . وانت تصلي قاعدا . قال " اجل ولكني لست كاحد منكم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: جس نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی وہ سب سے افضل ہے، اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کا آدھا ثواب ملے گا، اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے آدھا ملے گا ۱؎۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان بن حبيب، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن الذي يصلي قاعدا قال " من صلى قايما فهو افضل ومن صلى قاعدا فله نصف اجر القايم ومن صلى نايما فله نصف اجر القاعد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالتی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ابوداؤد حفری کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابوداؤد ثقہ ہیں اس کے باوجود میں اس حدیث کو غلط ہی سمجھتا ہوں، واللہ اعلم ۱؎۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا ابو داود الحفري، عن حفص، عن حميد، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي متربعا . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا روى هذا الحديث غير ابي داود وهو ثقة ولا احسب هذا الحديث الا خطا والله تعالى اعلم
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری؟ تو انہوں نے کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، قال حدثنا عبد الرحمن، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال سالت عايشة كيف كانت قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل يجهر ام يسر قالت كل ذلك قد كان يفعل ربما جهر وربما اسر
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے ۱؎۔
اخبرنا هارون بن محمد بن بكار بن بلال، قال حدثنا محمد، - يعني ابن سميع - قال حدثنا زيد يعني ابن واقد، عن كثير بن مرة، ان عقبة بن عامر، حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الذي يجهر بالقران كالذي يجهر بالصدقة والذي يسر بالقران كالذي يسر بالصدقة
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ نساء شروع کر دی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ آل عمران شروع کر دی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح ( پاکی ) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور « سبحان ربي العظيم» پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔
اخبرنا الحسين بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن نمير، قال حدثنا الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن المستورد بن الاحنف، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة فافتتح البقرة فقلت يركع عند الماية فمضى فقلت يركع عند المايتين فمضى فقلت يصلي بها في ركعة فمضى فافتتح النساء فقراها ثم افتتح ال عمران فقراها يقرا مترسلا اذا مر باية فيها تسبيح سبح واذا مر بسوال سال واذا مر بتعوذ تعوذ ثم ركع فقال " سبحان ربي العظيم " . فكان ركوعه نحوا من قيامه ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده " . فكان قيامه قريبا من ركوعه ثم سجد فجعل يقول " سبحان ربي الاعلى " . فكان سجوده قريبا من ركوعه
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور یہ اتنا ہی لمبا تھا جتنا آپ کا قیام تھا، آپ نے اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہا، پھر آپ اتنی ہی دیر بیٹھے جتنی دیر کھڑے تھے، اور «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر تک سجدہ کیا جتنی دیر تک آپ کھڑے تھے، اور «سبحان ربي الأعلى» کہتے رہے تو آپ نے صرف چار رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے بلانے آ گئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ( منقطع ) ہے، میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے، علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں یوں کہا: «عن طلحۃ، عن رجل، عن حذیفۃ»۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر بن محمد المروزي، - ثقة - قال حدثنا العلاء بن المسيب، عن عمرو بن مرة، عن طلحة بن يزيد الانصاري، عن حذيفة، انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فركع فقال في ركوعه " سبحان ربي العظيم " . مثل ما كان قايما ثم جلس يقول " رب اغفر لي رب اغفر لي " . مثل ما كان قايما ثم سجد فقال " سبحان ربي الاعلى " . مثل ما كان قايما فما صلى الا اربع ركعات حتى جاء بلال الى الغداة . قال ابو عبد الرحمن هذا الحديث عندي مرسل وطلحة بن يزيد لا اعلمه سمع من حذيفة شييا وغير العلاء بن المسيب قال في هذا الحديث عن طلحة عن رجل عن حذيفة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، وعبد الرحمن، قالا حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، انه سمع عليا الازدي، انه سمع ابن عمر، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل والنهار مثنى مثنى " . قال ابو عبد الرحمن هذا الحديث عندي خطا والله تعالى اعلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ۱؎۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن حبيب، عن طاوس، قال قال ابن عمر سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل فقال " مثنى مثنى فاذا خشيت الصبح فواحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کر لو ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، ومحمد بن صدقة، قالا حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خفت الصبح فاوتر بواحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے منبر پر فرماتے سنا: آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي لبيد، عن ابي سلمة، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يسال عن صلاة الليل فقال " مثنى مثنى فاذا خفت الصبح فاوتر بركعة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے ۔
اخبرنا موسى بن سعيد، قال حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، قال حدثنا زهير، قال حدثنا الحسن بن الحر، قال حدثنا نافع، ان ابن عمر، اخبرهم ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل قال " مثنى مثنى فان خشي احدكم الصبح فليوتر بواحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خفت الصبح فاوتر بواحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان، عن شعيب، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال سال رجل من المسلمين رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف صلاة الليل فقال " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خفت الصبح فاوتر بواحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
اخبرنا محمد بن يحيى، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان عبد الله بن عمر، اخبره ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خشيت الصبح فاوتر بواحدة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
اخبرنا احمد بن الهيثم، قال حدثنا حرملة، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان ابن شهاب، حدثه ان سالم بن عبد الله وحميد بن عبد الرحمن حدثاه عن عبد الله بن عمر، قال قام رجل فقال يا رسول الله كيف صلاة الليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خفت الصبح فاوتر بواحدة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی، پھر فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھو ۱؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے ۲؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن عاصم، - وهو ابن ضمرة - عن علي، رضي الله عنه قال اوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا اهل القران اوتروا فان الله عز وجل وتر يحب الوتر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، عن ابي نعيم، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، رضى الله عنه قال الوتر ليس بحتم كهيية المكتوبة ولكنه سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے: وتر پڑھ کر سونے کی، ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی، اور چاشت کی دونوں رکعتیں پڑھنے کی۔
اخبرنا سليمان بن سلم، ومحمد بن علي بن الحسن بن شقيق، عن النضر بن شميل، قال انبانا شعبة، عن ابي شمر، عن ابي عثمان، عن ابي هريرة، قال اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث النوم على وتر وصيام ثلاثة ايام من كل شهر وركعتى الضحى