Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (وہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے) کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا یہاں تک کہ فجر ہو گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا، تو خباب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے آج رات ایسی نماز پڑھی کہ اس طرح میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب سے اس میں تین باتوں کی درخواست کی، تو اس نے دو مجھے دے دیں اور ایک نہیں دی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس چیز کے ذریعہ ہلاک نہ کرے جس کے ذریعہ اس نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے یہ مجھے دے دی، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ کسی دشمن کو جو ہم میں سے نہ ہو ہم پر غالب نہ کرے، تو اسے بھی اس نے مجھے دے دیا، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہم میں پھوٹ نہ ڈالے، اور ہم گروہ در گروہ نہ ہوں، تو اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا ابي وبقية، قالا حدثنا ابن ابي حمزة، قال حدثني الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن عبد الله بن خباب بن الارت، عن ابيه، وكان، قد شهد بدرا
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ( رمضان کا آخری ) عشرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے، اور اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے، اور ( عبادت کے لیے ) کمر بستہ ہو جاتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ابي يعفور، عن مسلم، عن مسروق، قال قالت عايشة رضى الله عنها كان اذا دخلت العشر احيا رسول الله صلى الله عليه وسلم الليل وايقظ اهله وشد الميزر
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس آیا، وہ میرے بھائی اور دوست تھے، تو میں نے کہا: اے ابوعمرو! مجھ سے وہ باتیں بیان کریں جن کو ام المؤمنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان کیا ہے، تو انہوں نے کہا: وہ کہتی ہیں کہ آپ شروع رات میں سوتے تھے، اور اس کے آخر کو زندہ رکھتے تھے۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، قال اتيت الاسود بن يزيد وكان لي اخا صديقا فقلت يا ابا عمرو حدثني ما حدثتك به ام المومنين عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال قالت كان ينام اول الليل ويحيي اخره
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، یا رات بھر صبح تک عبادت کی ہو، یا پورے مہینے روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، قال حدثنا عبدة بن سليمان، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت لا اعلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا القران كله في ليلة ولا قام ليلة حتى الصباح ولا صام شهرا كاملا قط غير رمضان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ان کے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی تو آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں ( عورت ) ہے جو سوتی نہیں ہے، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چپ رہو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو، قسم اللہ کی، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، پسندیدہ دین ( عمل ) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے ۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، عن يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها امراة فقال " من هذه " . قالت فلانة لا تنام . فذكرت من صلاتها فقال " مه عليكم بما تطيقون فوالله لا يمل الله عز وجل حتى تملوا ولكن احب الدين اليه ما داوم عليه صاحبه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے دو ستونوں کے درمیان میں ایک لمبی رسی دیکھی، تو آپ نے پوچھا: یہ رسی کیسی ہے؟ تو لوگوں نے عرض کیا: زینب ( زینب بنت جحش ) کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں، جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھولو اسے، تم میں سے کوئی بھی ہو جب تک اس کا دل لگے نماز پڑھے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔
اخبرنا عمران بن موسى، عن عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فراى حبلا ممدودا بين ساريتين فقال " ما هذا الحبل " . فقالوا لزينب تصلي فاذا فترت تعلقت به . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حلوه ليصل احدكم نشاطه فاذا فتر فليقعد
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، ومحمد بن منصور، - واللفظ له - عن سفيان، عن زياد بن علاقة، قال سمعت المغيرة بن شعبة، يقول قام النبي صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه فقيل له قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر . قال " افلا اكون عبدا شكورا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا صالح بن مهران، - وكان ثقة - قال حدثنا النعمان بن عبد السلام، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حتى تزلع يعني تشقق قدماه
بدیل اور ایوب دونوں عبداللہ بن شفیق سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے ہی رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن بديل، وايوب، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي ليلا طويلا فاذا صلى قايما ركع قايما واذا صلى قاعدا ركع قاعدا
ابن سیرین عبداللہ بن شفیق سے اور عبداللہ بن شقیق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے۔
اخبرنا عبدة بن عبد الرحيم، قال انبانا وكيع، قال حدثني يزيد بن ابراهيم، عن ابن سيرين، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قايما وقاعدا فاذا افتتح الصلاة قايما ركع قايما واذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قاعدا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) ایسے ہی کرتے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني عبد الله بن يزيد، وابو النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهو جالس فيقرا وهو جالس فاذا بقي من قراءته قدر ما يكون ثلاثين او اربعين اية قام فقرا وهو قايم ثم ركع ثم سجد ثم يفعل في الركعة الثانية مثل ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو ( جب آپ بوڑھے ہو گئے ) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى جالسا حتى دخل في السن فكان يصلي وهو جالس يقرا فاذا غبر من السورة ثلاثون او اربعون اية قام فقرا بها ثم ركع
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر ( باقی رہنے پر ) کھڑے ہو جاتے۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، قال حدثنا الوليد بن ابي هشام، عن ابي بكر بن محمد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا وهو قاعد فاذا اراد ان يركع قام قدر ما يقرا انسان اربعين اية
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں میں مدینہ آیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعد بن ہشام بن عامر ہوں، انہوں نے کہا: اللہ تمہارے باپ پر رحم کرے، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق کچھ بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ایسا کرتے تھے، میں نے کہا: اچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف آتے اور سو جاتے، پھر جب آدھی رات ہوتی، تو قضائے حاجت کے لیے اٹھتے اور وضو کے پانی کے پاس آتے، اور وضو کرتے، پھر مسجد آتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، تو پھر ایسا محسوس ہوتا کہ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے سب برابر برابر ہیں، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر آپ اپنے پہلو کے بل لیٹ جاتے، تو کبھی اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ لگے بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آپ کی آنکھ لگ جاتی، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ سوئے یا نہیں سوئے یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی، یہاں تک کہ آپ عمردراز ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا، پھر انہوں نے آپ کے جسم پر گوشت چڑھنے کا حال بیان کیا جو اللہ نے چاہا، وہ کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بچھونے کی طرف آتے، تو جب آدھی رات ہو جاتی تو آپ اپنی پاکی اور حاجت کے لیے اٹھ کر جاتے، پھر وضو کرتے، پھر مسجد آتے تو چھ رکعتیں پڑھتے، ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے میں برابری رکھتے ہیں، پھر آپ ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، پھر اپنے پہلو کے بل لیٹتے تو کبھی بلال رضی اللہ عنہ آپ کی آنکھ لگنے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آنکھ لگ جانے پر آتے، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ کی آنکھ لگی یا نہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، وہ کہتی ہیں: تو برابر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رہی۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الاعلى، قال حدثنا هشام، عن الحسن، عن سعد بن هشام بن عامر، قال قدمت المدينة فدخلت على عايشة - رضى الله عنها - قالت من انت قلت انا سعد بن هشام بن عامر . قالت رحم الله اباك . قلت اخبريني عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان وكان . قلت اجل . قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالليل صلاة العشاء ثم ياوي الى فراشه فينام فاذا كان جوف الليل قام الى حاجته والى طهوره فتوضا ثم دخل المسجد فيصلي ثماني ركعات يخيل الى انه يسوي بينهن في القراءة والركوع والسجود ويوتر بركعة ثم يصلي ركعتين وهو جالس ثم يضع جنبه فربما جاء بلال فاذنه بالصلاة قبل ان يغفي وربما يغفي وربما شككت اغفى او لم يغف حتى يوذنه بالصلاة فكانت تلك صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اسن ولحم - فذكرت من لحمه ما شاء الله - قالت وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس العشاء ثم ياوي الى فراشه فاذا كان جوف الليل قام الى طهوره والى حاجته فتوضا ثم يدخل المسجد فيصلي ست ركعات يخيل الى انه يسوي بينهن في القراءة والركوع والسجود ثم يوتر بركعة ثم يصلي ركعتين وهو جالس ثم يضع جنبه وربما جاء بلال فاذنه بالصلاة قبل ان يغفي وربما اغفى وربما شككت اغفى ام لا حتى يوذنه بالصلاة قالت فما زالت تلك صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے سے نہیں بچتے تھے ۱؎ اور آپ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے، اور سب سے زیادہ پسندیدہ عمل آپ کے نزدیک وہ تھا جس پر آدمی مداومت کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ یونس نے عمر بن ابی زائدہ کی مخالفت کی ہے یونس نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے اسود سے اور اسود نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن حديث ابي عاصم، قال حدثنا عمر بن ابي زايدة، قال حدثني ابو اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمتنع من وجهي وهو صايم وما مات حتى كان اكثر صلاته قاعدا ثم ذكرت كلمة معناها الا المكتوبة وكان احب العمل اليه ما دام عليه الانسان وان كان يسيرا . خالفه يونس رواه عن ابي اسحاق عن الاسود عن ام سلمة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔
اخبرنا سليمان بن سلم البلخي، قال حدثنا النضر، قال انبانا يونس، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن ام سلمة، قالت ما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كان اكثر صلاته جالسا الا المكتوبة . خالفه شعبة وسفيان وقالا عن ابي اسحاق عن ابي سلمة عن ام سلمة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی اکثر و بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، حدثنا خالد، عن شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت ابا سلمة، عن ام سلمة، قالت ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كان اكثر صلاته قاعدا الا الفريضة وكان احب العمل اليه ادومه وان قل
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے، اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر مداومت کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ عثمان بن ابی سلیمان نے ابواسحاق کی مخالفت کی ہے انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن عبد الصمد، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت والذي نفسي بيده ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كان اكثر صلاته قاعدا الا المكتوبة وكان احب العمل اليه ما داوم عليه وان قل . خالفه عثمان بن ابي سليمان فرواه عن ابي سلمة عن عايشة
ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عثمان بن ابی سلیمان نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے انہیں خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بیشتر نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔
اخبرنا الحسن بن محمد، عن حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني عثمان بن ابي سليمان، ان ابا سلمة، اخبره ان عايشة اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يمت حتى كان يصلي كثيرا من صلاته وهو جالس
عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کر دیا۔
اخبرنا ابو الاشعث، عن يزيد بن زريع، قال انبانا الجريري، عن عبد الله بن شقيق، قال قلت لعايشة هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وهو قاعد قالت نعم بعد ما حطمه الناس