Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے پاس رات گزارتا تھا، تو میں آپ کو سنتا جب آپ رات میں اٹھتے، تو دیر تک «سبحان اللہ رب العالمين» کہتے، پھر «سبحان اللہ وبحمده» دیر تک کہتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن معمر، والاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ربيعة بن كعب الاسلمي، قال كنت ابيت عند حجرة النبي صلى الله عليه وسلم فكنت اسمعه اذا قام من الليل يقول " سبحان الله رب العالمين " . الهوي ثم يقول " سبحان الله وبحمده " . الهوي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: «اللہم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت ملك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت حق ووعدك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا روشن کرنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا قائم و برقرار رکھنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جوان میں ہیں سب کا بادشاہ ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور محمد حق ہیں، میں نے تیری ہی فرمانبرداری کی، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تجھی پر ایمان لایا ، پھر قتیبہ نے ایک بات ذکر کی اس کا مفہوم ہے ( کہ آپ یہ بھی کہتے: ) «وبك خاصمت وإليك حاكمت اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اور تیرے ہی لیے میں نے جھگڑا کیا، تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لیے آیا، بخش دے میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود مگر تو ہی، اور نہ ہی کسی میں زور و طاقت ہے سوائے اللہ کے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن الاحول، - يعني سليمان بن ابي مسلم - عن طاوس، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل يتهجد قال " اللهم لك الحمد انت نور السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد انت قيام السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد انت ملك السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد انت حق ووعدك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق لك اسلمت وعليك توكلت وبك امنت " . ثم ذكر قتيبة كلمة معناها " وبك خاصمت واليك حاكمت اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اعلنت انت المقدم وانت الموخر لا اله الا انت ولا حول ولا قوة الا بالله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری ( وہ ان کی خالہ تھیں ) تو وہ تکیہ کے چوڑان میں لیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ دونوں اس کی لمبان میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس کے کچھ بعد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، چہرہ سے نیند بھگانے کے لیے اپنے ہاتھ سے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے، اور اس سے وضو کیا تو خوب اچھی طرح سے وضو کیا، پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر آپ نے وتر پڑھی ۱؎ پھر آپ لیٹے یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آیا تو آپ نے پھر ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني مخرمة بن سليمان، عن كريب، ان عبد الله بن عباس، اخبره انه، بات عند ميمونة ام المومنين - وهي خالته - فاضطجع في عرض الوسادة واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا انتصف الليل او قبله قليلا او بعده قليلا استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس يمسح النوم عن وجهه بيده ثم قرا العشر الايات الخواتيم من سورة ال عمران ثم قام الى شن معلقة فتوضا منها فاحسن وضوءه ثم قام يصلي قال عبد الله بن عباس فقمت فصنعت مثل ما صنع ثم ذهبت فقمت الى جنبه فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده اليمنى على راسي واخذ باذني اليمنى يفتلها فصلى ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم اوتر ثم اضطجع حتى جاءه الموذن فصلى ركعتين خفيفتين
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، عن عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، والاعمش، وحصين، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قام من الليل يشوص فاه بالسواك
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن حصين، قال سمعت ابا وايل، يحدث عن حذيفة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل يشوص فاه بالسواك
ابوسنان ابوحصین سے وہ ابووائل شقیق بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم رات میں بیدار ہوتے تو ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
اخبرنا عبد الله بن سعيد، عن اسحاق بن سليمان، عن ابي سنان، عن ابي حصين، عن شقيق، عن حذيفة، قال كنا نومر بالسواك اذا قمنا من الليل
اسرائیل ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ ابووائل شقیق نے کہا: جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عبيد الله، قال انبانا اسراييل، عن ابي حصين، عن شقيق، قال كنا نومر اذا قمنا من الليل ان نشوص افواهنا بالسواك
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی شروعات کس چیز سے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ جب رات میں اٹھ کر اپنی نماز شروع کرتے تو کہتے: «اللہم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اللہم اهدني لما اختلف فيه من الحق إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! اے جبرائیل و میکائیل و اسرافیل کے رب، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے، اے اللہ! جس میں اختلاف کیا گیا ہے اس میں تو میری رہنمائی فرما، تو جس کی چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرماتا ہے ۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال انبانا عمر بن يونس، قال حدثنا عكرمة بن عمار، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال سالت عايشة باى شىء كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح صلاته قالت كان اذا قام من الليل افتتح صلاته قال " اللهم رب جبريل وميكاييل واسرافيل فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اللهم اهدني لما اختلف فيه من الحق انك تهدي من تشاء الى صراط مستقيم
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ آپ کے عمل کو دیکھ لوں، تو جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، اور یہی عتمہ تھی، تو بڑی رات تک سوئے رہے، پھر آپ بیدار ہوئے توافق کی جانب نگاہ اٹھائی، اور فرمایا: «ربنا ما خلقت هذا باطلا» اے ہمارے رب! تو نے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ہے ( آل عمران: ۱۹۱ ) یہاں تک کہ آپ «إنك لا تخلف الميعاد» بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ( آل عمران: ۱۹۴ ) تک پہنچے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف جھکے، اور آپ نے اس میں سے ایک مسواک نکالی، پھر ڈول سے جو آپ کے پاس تھا ایک پیالے میں پانی انڈیلا، اور مسواک کی، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: آپ جتنی دیر تک سوئے تھے اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز پڑھی ہے، پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: آپ اتنی ہی دیر تک سوئے ہیں جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اور اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین مرتبہ ( اسی طرح ) کیا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني حميد بن عبد الرحمن بن عوف، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قلت وانا في سفر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم والله لارقبن رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة حتى ارى فعله فلما صلى صلاة العشاء - وهي العتمة - اضطجع هويا من الليل ثم استيقظ فنظر في الافق فقال { ربنا ما خلقت هذا باطلا } حتى بلغ { انك لا تخلف الميعاد } . ثم اهوى رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فراشه فاستل منه سواكا ثم افرغ في قدح من اداوة عنده ماء فاستن ثم قام فصلى حتى قلت قد صلى قدر ما نام ثم اضطجع حتى قلت قد نام قدر ما صلى ثم استيقظ ففعل كما فعل اول مرة وقال مثل ما قال ففعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات قبل الفجر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز ( تہجد ) پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے، اور آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے تھے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا يزيد، قال انبانا حميد، عن انس، قال ما كنا نشاء ان نرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الليل مصليا الا رايناه ولا نشاء ان نراه نايما الا رايناه
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ عتمہ ( عشاء کی نماز ) پڑھتے تھے پھر سنتیں پڑھتے، پھر اس کے بعد رات میں جتنا اللہ چاہتا پڑھتے، پھر آپ واپس جا کر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر سوتے، پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہوتے تو جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر نماز پڑھتے، اور آپ کی یہ دوسری مرتبہ والی نماز صبح ( فجر ) تک جاری رہتی۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج عن ابيه، اخبرني ابن ابي مليكة، ان يعلى بن مملك، اخبره انه، سال ام سلمة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان يصلي العتمة ثم يسبح ثم يصلي بعدها ما شاء الله من الليل ثم ينصرف فيرقد مثل ما صلى ثم يستيقظ من نومه ذلك فيصلي مثل ما نام وصلاته تلك الاخرة تكون الى الصبح
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار؟ ۱؎ آپ نماز پڑھتے تھے، پھر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے، پھر جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر آپ اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے ان سے آپ کی قرآت کی کیفیت بیان کی، تو وہ ایک ایک حرف واضح کر کے بیان کر رہی تھیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، انه سال ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن صلاته فقالت ما لكم وصلاته كان يصلي ثم ينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح . ثم نعتت له قراءته فاذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن اوس، انه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الصيام الى الله عز وجل صيام داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما واحب الصلاة الى الله صلاة داود كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه
حماد بن سلمہ سلیمان تیمی سے، سلیمان تیمی ثابت سے اور ثابت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سرخ ٹیلے کے پاس آیا، اور وہ کھڑے اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
اخبرنا محمد بن علي بن حرب، قال حدثنا معاذ بن خالد، قال انبانا حماد بن سلمة، عن سليمان التيمي، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اتيت ليلة اسري بي على موسى عليه السلام عند الكثيب الاحمر وهو قايم يصلي في قبره
سلیمان تیمی اور ثابت دونوں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «الكثيب الأحمر» سرخ ٹیلے کے پاس موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ۱؎ ہمارے نزدیک معاذ بن خالد کی حدیث سے زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
اخبرنا العباس بن محمد، قال حدثنا يونس بن محمد، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن سليمان التيمي، وثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتيت على موسى عليه السلام عند الكثيب الاحمر وهو قايم يصلي " . قال ابو عبد الرحمن هذا اولى بالصواب عندنا من حديث معاذ بن خالد والله تعالى اعلم
حماد بن سلمہ کہتے ہیں ہمیں ثابت اور سلیمان تیمی نے خبر دی ہے وہ دونوں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
اخبرني احمد بن سعيد، قال حدثنا حبان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال انبانا ثابت، وسليمان التيمي، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " مررت على قبر موسى عليه السلام وهو يصلي في قبره
سلیمان تیمی روایت کرتے ہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں معراج کی رات میں موسیٰ وضاحت پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال حدثنا عيسى، عن سليمان التيمي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مررت ليلة اسري بي على موسى عليه السلام وهو يصلي في قبره
معتمر بن سلیمان اپنے والد سے اور ان کے والد انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرے اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، عن ابيه، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به مر على موسى عليه السلام وهو يصلي في قبره
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرے، اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، واسماعيل بن مسعود، قالا حدثنا معتمر، قال سمعت ابي قال، سمعت انسا، يقول اخبرني بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به مر على موسى عليه السلام وهو يصلي في قبره
سلیمان انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں میں موسیٰ کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن سليمان، عن انس، عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليلة اسري بي مررت على موسى وهو يصلي في قبره