Loading...

Loading...
کتب
۲۲۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، قال حدثنا جويرية بن اسماء، عن الوليد بن ابي هشام، عن نافع، ان عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور اگر وہ تم پر فرض کر دی گئی تو تم اسے ادا نہیں کر سکو گے، تو لوگو! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل ( بہترین ) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عفان بن مسلم، قال حدثنا وهيب، قال سمعت موسى بن عقبة، قال سمعت ابا النضر، يحدث عن بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتخذ حجرة في المسجد من حصير فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها ليالي حتى اجتمع اليه الناس ثم فقدوا صوته ليلة فظنوا انه نايم فجعل بعضهم يتنحنح ليخرج اليهم فقال " ما زال بكم الذي رايت من صنعكم حتى خشيت ان يكتب عليكم ولو كتب عليكم ما قمتم به فصلوا ايها الناس في بيوتكم فان افضل صلاة المرء في بيته الا الصلاة المكتوبة
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( سنت ) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال انبانا ابراهيم بن ابي الوزير، قال حدثنا محمد بن موسى الفطري، عن سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، عن ابيه، عن جده، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المغرب في مسجد بني عبد الاشهل فلما صلى قام ناس يتنفلون فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عليكم بهذه الصلاة في البيوت
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے ملے تو ان سے وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اہل زمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سعد نے کہا: کیوں نہیں ( ضرور بتائیے ) تو انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے سوال کرو، پھر میرے پاس لوٹ کر آؤ، اور وہ تمہیں جو جواب دیں اسے مجھے بتاؤ، چنانچہ میں حکیم بن افلح کے پاس آیا، اور ان سے میں نے اپنے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلنے کے لیے کہا، تو انہوں نے انکار کیا، اور کہنے لگے: میں ان سے نہیں مل سکتا، میں نے انہیں ان دو گروہوں ۱؎ کے متعلق کچھ بولنے سے منع کیا تھا، مگر وہ بولے بغیر نہ رہیں، تو میں نے حکیم بن افلح کو قسم دلائی، تو وہ میرے ساتھ آئے، چنانچہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حکیم سے کہا: تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام ہیں، تو انہوں نے کہا: کون ہشام؟ میں نے کہا: عامر کے لڑکے، تو انہوں نے ان ( عامر ) کے لیے رحم کی دعا کی، اور کہا: عامر کتنے اچھے آدمی تھے۔ سعد نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سراپا قرآن تھے، پھر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق پوچھنے کا خیال آیا، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق بتائیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں قیام اللیل کو فرض قرار دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی آخر کی آیتوں کو بارہ مہینے تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، اور رات کا قیام اس کے بعد کہ وہ فرض تھا نفل ہو گیا، میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے متعلق بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بھی بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھ دیتے، تو اللہ تعالیٰ رات میں آپ کو جب اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا تو آپ مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۲؎ جن میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، ذکر الٰہی کرتے، دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے تو اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا تو وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! اس طرح کل نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ کو یہ پسند ہوتا کہ اس پر مداومت کریں، اور جب آپ نیند، بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کا قیام نہیں کر پاتے تو آپ ( اس کے بدلہ میں ) دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی آپ پوری رات صبح تک قیام ہی کرتے، اور نہ ہی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے، سوائے رمضان کے، پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے ان کی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، رہا میں تو اگر میں ان کے یہاں جاتا ہوتا تو میں ان کے پاس ضرور جاتا یہاں تک کہ وہ مجھ سے براہ راست بالمشافہ یہ حدیث بیان کرتیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اسی طرح میری کتاب میں ہے، اور میں نہیں جانتا کہ کس شخص سے آپ کی وتر کی جگہ کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ۳؎۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے ( رات کا ) قیام کرے گا، تو اس کے گناہ جو پہلے ہو چکے ہوں بخش دیے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے ( رات کا ) قیام کرے گا، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل ابو بكر، قال حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، قال حدثنا جويرية، عن مالك، قال قال الزهري اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وحميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ کی نماز کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ نے آنے والی رات میں بھی نماز پڑھی اور لوگ بڑھ گئے تھے، پھر تیسری یا چوتھی رات میں لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے ہی نہیں، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم نے جو دلچسپی دکھائی اسے میں نے دیکھا، تو تمہاری طرف نکلنے سے مجھے صرف اس چیز نے روک دیا کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ تمہارے اوپر فرض نہ کر دی جائے ، یہ رمضان کا واقعہ تھا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في المسجد ذات ليلة وصلى بصلاته ناس ثم صلى من القابلة وكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة او الرابعة فلم يخرج اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما اصبح قال " قد رايت الذي صنعتم فلم يمنعني من الخروج اليكم الا اني خشيت ان يفرض عليكم " . وذلك في رمضان
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں روزے رکھے، تو آپ ہمارے ساتھ ( تراویح کے لیے ) کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، پھر چوبیسویں رات کو قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات کو قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہماری اس رات کے باقی حصہ میں بھی اسی طرح نفلی نماز پڑھاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں پوری رات کے قیام ( کا ثواب ) لکھے گا ، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، اور نہ آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ستائیسویں رات میں ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ کہنے لگے: سحری ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا محمد بن الفضيل، عن داود بن ابي هند، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جبير بن نفير، عن ابي ذر، قال صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فلم يقم بنا حتى بقي سبع من الشهر فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل ثم لم يقم بنا في السادسة فقام بنا في الخامسة حتى ذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه . قال " انه من قام مع الامام حتى ينصرف كتب الله له قيام ليلة " . ثم لم يصل بنا ولم يقم حتى بقي ثلاث من الشهر فقام بنا في الثالثة وجمع اهله ونساءه حتى تخوفنا ان يفوتنا الفلاح . قلت وما الفلاح قال السحور
نعیم بن زیاد ابوطلحہ کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بشیر رضی اللہ عنہم کو حمص میں منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تیئسویں رات کو تہائی رات تک قیام کیا، پھر پچسویں رات کو آدھی رات تک قیام کیا، پھر ستائیسویں رات کو ہم نے آپ کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہم فلاح نہیں پا سکیں گے، وہ لوگ سحری کو فلاح کا نام دیتے تھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال اخبرني معاوية بن صالح، قال حدثني نعيم بن زياد ابو طلحة، قال سمعت النعمان بن بشير، على منبر حمص يقول قمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان ليلة ثلاث وعشرين الى ثلث الليل الاول ثم قمنا معه ليلة خمس وعشرين الى نصف الليل ثم قمنا معه ليلة سبع وعشرين حتى ظننا ان لا ندرك الفلاح وكانوا يسمونه السحور
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی رات بہت لمبی ہے، پس سوئے رہ، تو اگر وہ بیدار ہو جاتا ہے، اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر اس نے نماز پڑھی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، اور وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ہشاس بشاس اور خوش دل ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ بد دل اور سست ہوتا ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نام احدكم عقد الشيطان على راسه ثلاث عقد يضرب على كل عقدة ليلا طويلا اى ارقد فان استيقظ فذكر الله انحلت عقدة فان توضا انحلت عقدة اخرى فان صلى انحلت العقد كلها فيصبح طيب النفس نشيطا والا اصبح خبيث النفس كسلان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل نام ليلة حتى اصبح قال " ذاك رجل بال الشيطان في اذنيه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کل کی رات نماز سے سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: اس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، قال حدثنا منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، ان رجلا، قال يا رسول الله ان فلانا نام عن الصلاة البارحة حتى اصبح . قال " ذاك شيطان بال في اذنيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ ( بھی ) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو ( بھی ) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، قال حدثني القعقاع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله رجلا قام من الليل فصلى ثم ايقظ امراته فصلت فان ابت نضح في وجهها الماء ورحم الله امراة قامت من الليل فصلت ثم ايقظت زوجها فصلى فان ابى نضحت في وجهه الماء
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو ( دروازہ کھٹکھٹا کر ) بیدار کیا، اور فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر ( ہاتھ ) مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» انسان بہت حجتی ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن علي بن حسين، ان الحسين بن علي، حدثه عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم طرقه وفاطمة فقال " الا تصلون " . قلت يا رسول الله انما انفسنا بيد الله فاذا شاء ان يبعثها بعثها فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قلت له ذلك ثم سمعته وهو مدبر يضرب فخذه ويقول " { وكان الانسان اكثر شىء جدلا}
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں میرے اور فاطمہ کے پاس آئے، اور آپ نے ہمیں نماز کے لیے بیدار کیا، پھر آپ اپنے گھر لوٹ گئے، اور جا کر دیر رات تک نماز پڑھتے رہے، جب آپ نے ہماری کوئی آہٹ نہیں سنی تو آپ دوبارہ ہمارے پاس آئے، اور ہمیں بیدار کیا، اور فرمایا: تم دونوں اٹھو، اور نماز پڑھو ، تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا، میں اپنی آنکھ مل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی، ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اگر وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تو بیدار کر دے گا تو یہ سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹھ پھیر کر جانے لگے، آپ اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ۱؎ انسان بہت ہی حجتی ہے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف، عن محمد بن مسلم بن شهاب، عن علي بن حسين، عن ابيه، عن جده، علي بن ابي طالب قال دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى فاطمة من الليل فايقظنا للصلاة ثم رجع الى بيته فصلى هويا من الليل فلم يسمع لنا حسا فرجع الينا فايقظنا فقال " قوما فصليا " . قال فجلست وانا اعرك عيني واقول انا والله ما نصلي الا ما كتب الله لنا انما انفسنا بيد الله . فان شاء ان يبعثنا بعثنا - قال - فولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول ويضرب بيده على فخذه " ما نصلي الا ما كتب الله لنا { وكان الانسان اكثر شىء جدلا}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۱؎، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ( تہجد ) ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن حميد بن عبد الرحمن، - هو ابن عوف - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصيام بعد شهر رمضان شهر الله المحرم وافضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ( تہجد ) ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں ۔ شعبہ بن حجاج نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، قال حدثنا شعبة، عن ابي بشر، جعفر بن ابي وحشية انه سمع حميد بن عبد الرحمن، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصلاة بعد الفريضة قيام الليل وافضل الصيام بعد رمضان المحرم " . ارسله شعبة بن الحجاج
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آیا، اور اس نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا، آپ سی قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، تو انہوں نے اسے نہیں دیا، پھر انہی میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے سے آیا، اور چھپا کر چپکے سے اسے دیا، اور اس کے اس صدقہ دینے کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اس شخص کے جس کو اس نے دیا ہے کوئی نہیں جانتا، اور دوسرا آدمی وہ ہے جس کے ساتھ کے لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب نیند انہیں بھلی معلوم ہونے لگی تو وہ اترے اور سو رہے، لیکن وہ خود کھڑا ہو کر اللہ کے سامنے عاجزی کرتا رہا، اور اس کی آیتیں تلاوت کرتا رہا، اور تیسرا وہ شخص ہے جو ایک لشکر میں تھا، دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی، تو وہ ہار گئے ( جس کی وجہ سے بھاگنے لگے ) لیکن وہ سینہ سپر رہا یہاں تک کہ وہ مارا جائے، یا اللہ اسے فتح دے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، قال سمعت ربعيا، عن زيد بن ظبيان، رفعه الى ابي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة يحبهم الله عز وجل رجل اتى قوما فسالهم بالله ولم يسالهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلفهم رجل باعقابهم فاعطاه سرا لا يعلم بعطيته الا الله عز وجل والذي اعطاه وقوم ساروا ليلتهم حتى اذا كان النوم احب اليهم مما يعدل به نزلوا فوضعوا رءوسهم فقام يتملقني ويتلو اياتي ورجل كان في سرية فلقوا العدو فانهزموا فاقبل بصدره حتى يقتل او يفتح له
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن ابراهيم البصري، عن بشر، - هو ابن المفضل - قال حدثنا شعبة، عن اشعث بن سليم، عن ابيه، عن مسروق، قال قلت لعايشة اى الاعمال احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت الدايم . قلت فاى الليل كان يقوم قالت اذا سمع الصارخ
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر»، دس بار «الحمد للہ»، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔
اخبرنا عصمة بن الفضل، قال حدثنا زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، قال حدثنا الازهر بن سعيد، عن عاصم بن حميد، قال سالت عايشة بما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستفتح قيام الليل قالت لقد سالتني عن شىء ما سالني عنه احد قبلك كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر عشرا ويحمد عشرا ويسبح عشرا ويهلل عشرا ويستغفر عشرا ويقول " اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني اعوذ بالله من ضيق المقام يوم القيامة
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة، عن سعد بن هشام، انه لقي ابن عباس فساله عن الوتر، فقال الا انبيك باعلم اهل الارض بوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم . قال عايشة ايتها فسلها ثم ارجع الى فاخبرني بردها عليك فاتيت على حكيم بن افلح فاستلحقته اليها فقال ما انا بقاربها اني نهيتها ان تقول في هاتين الشيعتين شييا فابت فيها الا مضيا . فاقسمت عليه فجاء معي فدخل عليها فقالت لحكيم من هذا معك قلت سعد بن هشام . قالت من هشام قلت ابن عامر . فترحمت عليه وقالت نعم المرء كان عامرا . قال يا ام المومنين انبييني عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت اليس تقرا القران قال قلت بلى . قالت فان خلق نبي الله صلى الله عليه وسلم القران . فهممت ان اقوم فبدا لي قيام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا ام المومنين انبييني عن قيام نبي الله صلى الله عليه وسلم . قالت اليس تقرا هذه السورة { يا ايها المزمل } قلت بلى . قالت فان الله عز وجل افترض قيام الليل في اول هذه السورة فقام نبي الله صلى الله عليه وسلم واصحابه حولا حتى انتفخت اقدامهم وامسك الله عز وجل خاتمتها اثنى عشر شهرا ثم انزل الله عز وجل التخفيف في اخر هذه السورة فصار قيام الليل تطوعا بعد ان كان فريضة فهممت ان اقوم فبدا لي وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا ام المومنين انبييني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله عز وجل لما شاء ان يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضا ويصلي ثماني ركعات لا يجلس فيهن الا عند الثامنة يجلس فيذكر الله عز وجل ويدعو ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين وهو جالس بعد ما يسلم ثم يصلي ركعة فتلك احدى عشرة ركعة يا بنى فلما اسن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذ اللحم اوتر بسبع وصلى ركعتين وهو جالس بعد ما سلم فتلك تسع ركعات يا بنى وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى صلاة احب ان يدوم عليها وكان اذا شغله عن قيام الليل نوم او مرض او وجع صلى من النهار اثنتى عشرة ركعة ولا اعلم ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قرا القران كله في ليلة ولا قام ليلة كاملة حتى الصباح ولا صام شهرا كاملا غير رمضان فاتيت ابن عباس فحدثته بحديثها فقال صدقت اما اني لو كنت ادخل عليها لاتيتها حتى تشافهني مشافهة . قال ابو عبد الرحمن كذا وقع في كتابي ولا ادري ممن الخطا في موضع وتره عليه السلام