Loading...

Loading...
کتب
۴۵ احادیث
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن يونس، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله تعالى لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكن الله عز وجل يخوف بهما عباده
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تیر اندازی میں مشغول تھا، اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا، میں نے اپنے تیروں کو سمیٹا اور دل میں ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر کیا نئی بات کی ہے، اسے چل کر ضرور دیکھوں گا، میں آپ کے پیچھے کی جانب سے آپ کے پاس آیا، آپ مسجد میں تھے، تسبیح و تکبیر اور دعا میں لگے رہے، یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت نماز پڑھی، اور چار سجدے کیے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو هشام، - وهو المغيرة بن سلمة - قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ابو مسعود الجريري، عن حيان بن عمير، قال حدثنا عبد الرحمن بن سمرة، قال بينا انا اترامى، باسهم لي بالمدينة اذ انكسفت الشمس فجمعت اسهمي وقلت لانظرن ما احدثه رسول الله صلى الله عليه وسلم في كسوف الشمس فاتيته مما يلي ظهره وهو في المسجد فجعل يسبح ويكبر ويدعو حتى حسر عنها - قال - ثم قام فصلى ركعتين واربع سجدات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے نہیں لگتا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الشمس والقمر لا يخسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله تعالى فاذا رايتموهما فصلوا
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کے مرنے سے نہیں لگتا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولكنهما ايتان من ايات الله عز وجل فاذا رايتموهما فصلوا
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم ان دونوں کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ صاف ہو جائیں ۔
اخبرنا محمد بن كامل المروزي، عن هشيم، عن يونس، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله عز وجل وانهما لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتموهما فصلوا حتى تنجلي
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی سے اٹھے، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ وہ چھٹ گیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن عبد الاعلى، قالا حدثنا خالد، قال حدثنا اشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال كنا جلوسا مع النبي صلى الله عليه وسلم فكسفت الشمس فوثب يجر ثوبه فصلى ركعتين حتى انجلت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو سب جمع ہو گئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ، دو رکعت نماز پڑھائی۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد، قال حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر النبي صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي ان الصلاة جامعة فاجتمعوا واصطفوا فصلى بهم اربع ركعات في ركعتين واربع سجدات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے، اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ اکبر ، کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، سورج آپ کے فارغ ہونے سے پہلے ہی صاف ہو گیا۔
اخبرنا محمد بن خالد بن خلي، قال حدثنا بشر بن شعيب، عن ابيه، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كسفت الشمس في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المسجد فقام فكبر وصف الناس وراءه فاستكمل اربع ركعات واربع سجدات وانجلت الشمس قبل ان ينصرف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن لگنے پر آٹھ رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور عطاء نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، عن اسماعيل ابن علية، قال حدثنا سفيان الثوري، عن حبيب بن ابي ثابت، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى عند كسوف الشمس ثماني ركعات واربع سجدات . وعن عطاء مثل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن لگنے پر نماز پڑھی، آپ نے قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری رکعت بھی ایسے ہی پڑھی۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن يحيى، عن سفيان، قال حدثنا حبيب بن ابي ثابت، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى في كسوف فقرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم سجد والاخرى مثلها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن سورج گرہن لگا، دو رکعت نماز پڑھی، تو چار رکوع اور چار سجدے کیے۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، قال حدثنا الوليد، عن ابن نمر، - وهو عبد الرحمن بن نمر - عن الزهري، عن كثير بن عباس، ح واخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، قال اخبرني كثير بن عباس، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوم كسفت الشمس اربع ركعات في ركعتين واربع سجدات
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جسے میں سچا سمجھتا ہوں، میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑی دیر تک نماز میں قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے پھر رکوع کرتے، اس طرح آپ نے دو رکعت پڑھی، ہر رکعت میں آپ نے تین رکوع کیا، تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ اس دن آدمیوں پر غشی طاری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے اوپر پانی کے ڈول انڈیلنے پڑ گئے تھے، آپ جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، اور جب سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، آپ فارغ نہیں ہوئے جب تک کہ سورج صاف نہیں ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور فرمایا: سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لیکن یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ تمہیں ڈراتا ہے، تو جب ان میں گرہن لگے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور ذکر الٰہی میں لگے رہو جب تک کہ وہ صاف نہ ہو جائیں ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، قال اخبرني ابن جريج، عن عطاء، قال سمعت عبيد بن عمير، يحدث قال حدثني من، اصدق فظننت انه يريد عايشة انها قالت كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بالناس قياما شديدا يقوم بالناس ثم يركع ثم يقوم ثم يركع ثم يقوم ثم يركع فركع ركعتين في كل ركعة ثلاث ركعات ركع الثالثة ثم سجد حتى ان رجالا يوميذ يغشى عليهم حتى ان سجال الماء لتصب عليهم مما قام بهم يقول اذا ركع " الله اكبر " . واذا رفع راسه " سمع الله لمن حمده " . فلم ينصرف حتى تجلت الشمس فقام فحمد الله واثنى عليه وقال " ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكن ايتان من ايات الله يخوفكم بهما فاذا كسفا فافزعوا الى ذكر الله عز وجل حتى ينجليا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے نا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، في صلاة الايات عن عطاء، عن عبيد بن عمير، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى ست ركعات في اربع سجدات . قلت لمعاذ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا شك ولا مرية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، تو«سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر آپ کھڑے رہے، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کہی، اور ایک لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا، پھر آپ نے «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا، اور میں نے جہنم کو دیکھا، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ۱؎، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ۲؎ ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت خسفت الشمس في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام فكبر وصف الناس وراءه فاقترا رسول الله صلى الله عليه وسلم قراءة طويلة ثم كبر فركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم قام فاقترا قراءة طويلة هي ادنى من القراءة الاولى ثم كبر فركع ركوعا طويلا هو ادنى من الركوع الاول ثم قال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم سجد ثم فعل في الركعة الاخرى مثل ذلك فاستكمل اربع ركعات واربع سجدات وانجلت الشمس قبل ان ينصرف ثم قام فخطب الناس فاثنى على الله عز وجل بما هو اهله ثم قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله تعالى لا يخسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتموهما فصلوا حتى يفرج عنكم " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رايت في مقامي هذا كل شىء وعدتم لقد رايتموني اردت ان اخذ قطفا من الجنة حين رايتموني جعلت اتقدم ولقد رايت جهنم يحطم بعضها بعضا حين رايتموني تاخرت ورايت فيها ابن لحى وهو الذي سيب السوايب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو «الصلاة جامعة» ( صلاۃ باجماعت ہو گی ) کی منادی کرائی گئی، چنانچہ لوگ اکٹھا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو رکعت میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فنودي الصلاة جامعة فاجتمع الناس فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع ركعات في ركعتين واربع سجدات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، اور سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، پھر آپ فارغ ہوئے اس حال میں کہ سورج صاف ہو چکا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے جینے سے، تو جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اور اس کی بڑائی بیان کرو، اور صدقہ کرو ، پھر آپ نے فرمایا: اے امت محمد! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر غیرت کرنے والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے، اے امت محمد! قسم اللہ کی، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت خسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم قام فاطال القيام وهو دون القيام الاول ثم ركع فاطال الركوع وهو دون الركوع الاول ثم رفع فسجد ثم فعل ذلك في الركعة الاخرى مثل ذلك ثم انصرف وقد تجلت الشمس فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله لا يخسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم ذلك فادعوا الله عز وجل وكبروا وتصدقوا " . ثم قال " يا امة محمد ما من احد اغير من الله عز وجل ان يزني عبده او تزني امته يا امة محمد والله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن يحيى بن سعيد، ان عمرة، حدثته ان عايشة حدثتها ان يهودية اتتها فقالت اجارك الله من عذاب القبر قالت عايشة يا رسول الله ان الناس ليعذبون في القبور فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عايذا بالله . قالت عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج مخرجا فخسفت الشمس فخرجنا الى الحجرة فاجتمع الينا نساء واقبل الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك ضحوة فقام قياما طويلا ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقام دون القيام الاول ثم ركع دون ركوعه ثم سجد ثم قام الثانية فصنع مثل ذلك الا ان ركوعه وقيامه دون الركعة الاولى ثم سجد وتجلت الشمس فلما انصرف قعد على المنبر فقال فيما يقول " ان الناس يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال " . قالت عايشة كنا نسمعه بعد ذلك يتعوذ من عذاب القبر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ ، پھر آپ ( کہیں جانے کے لیے ) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آئے، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ ( سجدہ سے کھڑے ہوئے ) اور آپ نے قیام کیا، مگر اپنے پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اور سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، - هو الانصاري - قال سمعت عمرة، قالت سمعت عايشة، تقول جاءتني يهودية تسالني فقالت اعاذك الله من عذاب القبر . فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت يا رسول الله ايعذب الناس في القبور فقال عايذا بالله فركب مركبا - يعني - وانخسفت الشمس فكنت بين الحجر مع نسوة فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم من مركبه فاتى مصلاه فصلى بالناس فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع راسه فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع راسه فاطال القيام ثم سجد فاطال السجود ثم قام قياما ايسر من قيامه الاول ثم ركع ايسر من ركوعه الاول ثم رفع راسه فقام ايسر من قيامه الاول ثم ركع ايسر من ركوعه الاول ثم رفع راسه فقام ايسر من قيامه الاول فكانت اربع ركعات واربع سجدات وانجلت الشمس فقال " انكم تفتنون في القبور كفتنة الدجال " . قالت عايشة فسمعته بعد ذلك يتعوذ من عذاب القبر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔
اخبرنا عبدة بن عبد الرحيم، قال انبانا ابن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في كسوف في صفة زمزم اربع ركعات في اربع سجدات
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ ( بیہوش ہو ہو کر ) گرنے لگے، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا ابو علي الحنفي، قال حدثنا هشام، صاحب الدستوايي عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم شديد الحر فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم باصحابه فاطال القيام حتى جعلوا يخرون ثم ركع فاطال ثم رفع فاطال ثم ركع فاطال ثم رفع فاطال ثم سجد سجدتين ثم قام فصنع نحوا من ذلك وجعل يتقدم ثم جعل يتاخر فكانت اربع ركعات واربع سجدات كانوا يقولون ان الشمس والقمر لا يخسفان الا لموت عظيم من عظمايهم وانهما ايتان من ايات الله يريكموهما فاذا انخسفت فصلوا حتى تنجلي