احادیث
#1475
سنن نسائی - Eclipses
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن يحيى بن سعيد، ان عمرة، حدثته ان عايشة حدثتها ان يهودية اتتها فقالت اجارك الله من عذاب القبر قالت عايشة يا رسول الله ان الناس ليعذبون في القبور فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عايذا بالله . قالت عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج مخرجا فخسفت الشمس فخرجنا الى الحجرة فاجتمع الينا نساء واقبل الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك ضحوة فقام قياما طويلا ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقام دون القيام الاول ثم ركع دون ركوعه ثم سجد ثم قام الثانية فصنع مثل ذلك الا ان ركوعه وقيامه دون الركعة الاولى ثم سجد وتجلت الشمس فلما انصرف قعد على المنبر فقال فيما يقول " ان الناس يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال " . قالت عايشة كنا نسمعه بعد ذلك يتعوذ من عذاب القبر
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Eclipses
- Hadith Index
- #1475
- Book Index
- 17
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
