Loading...

Loading...
کتب
۴۵ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے ( نماز کا ) حکم دیا تو «الصلاة جامعة» ( نماز باجماعت پڑھی جائے گی ) کی منادی کرائی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ( پہلی رکعت میں ) آپ نے دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ۱؎، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ( دوسری رکعت میں بھی ) دو رکوع اور ایک سجدہ کیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی اتنا لمبا رکوع نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی اتنا لمبا سجدہ کیا۔ محمد بن حمیر نے مروان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔
اخبرني محمود بن خالد، عن مروان، قال حدثني معاوية بن سلام، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، قال خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر فنودي الصلاة جامعة فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس ركعتين وسجدة ثم قام فصلى ركعتين وسجدة . قالت عايشة ما ركعت ركوعا قط ولا سجدت سجودا قط كان اطول منه . خالفه محمد بن حمير
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکوع کیے، اور دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن عثمان، قال حدثنا ابن حمير، عن معاوية بن سلام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي طعمة، عن عبد الله بن عمرو، قال كسفت الشمس فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين وسجدتين ثم قام فركع ركعتين وسجدتين ثم جلي عن الشمس . وكانت عايشة تقول ما سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم سجودا ولا ركع ركوعا اطول منه . خالفه علي بن المبارك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا، اور حکم دیا تو ندا دی گئی: «الصلاة جامعة» ( نماز باجماعت ہو گی ) ، پھر آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے لمبا قیام کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے: «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا، اور سجدہ نہیں کیا، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا، پھر آپ بیٹھے، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا۔
اخبرنا ابو بكر بن اسحاق، قال حدثنا ابو زيد، سعيد بن الربيع قال حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو حفصة، مولى عايشة ان عايشة، اخبرته انه، لما كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا وامر فنودي ان الصلاة جامعة فقام فاطال القيام في صلاته . قالت عايشة فحسبت قرا سورة البقرة ثم ركع فاطال الركوع ثم قال " سمع الله لمن حمده " . ثم قام مثل ما قام ولم يسجد ثم ركع فسجد ثم قام فصنع مثل ما صنع ركعتين وسجدة ثم جلس وجلي عن الشمس
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے، آپ لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا، اور بیٹھے تو دیر تک بیٹھے رہے، پھر آپ سجدہ میں گئے تو لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا، اور کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح قیام، رکوع، سجدہ اور جلوس کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا، پھر دوسری رکعت کے آخری سجدے میں آپ ہانپنے اور رونے لگے، آپ کہہ رہے تھے: تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ۱؎، اور حال یہ ہے کہ میں ان میں موجود ہوں، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا، اور ہم تجھ سے ( اپنے گناہوں کی ) بخشش چاہتے ہیں ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تب سورج صاف ہو چکا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم ان میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، جنت مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے کچھ گچھے لے لیتا، اور جہنم مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ میں اس سے بچاؤ کرنے لگا، اس خوف سے کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے، یہاں تک کہ میں نے اس میں حمیر کی ایک عورت پر ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوتے ہوئے دیکھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس نے اسے زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے چھوڑا، اور نہ ہی اس نے اسے خود کچھ کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ مر گئی، میں نے اسے دیکھا وہ اس عورت کو نوچتی تھی جب وہ سامنے آتی، اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی تو اس کے سرین کو نوچتی، نیز میں نے اس میں دو چمڑے کی جوتیوں والے کو دیکھا، جو قبیلہ بنی دعدع کا ایک فرد تھا، اسے دو منہ والی لکڑی سے مار کر آگ میں دھکیلا جا رہا تھا، نیز میں نے اس میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والے کو دیکھا، جو حاجیوں کا مال چراتا تھا، وہ جہنم میں اپنی لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے کہہ رہا تھا: میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والا ہوں ۔
اخبرنا هلال بن بشر، قال حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، عن عطاء بن السايب، قال حدثني ابي السايب، ان عبد الله بن عمرو، حدثه قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة وقام الذين معه فقام قياما فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع راسه وسجد فاطال السجود ثم رفع راسه وجلس فاطال الجلوس ثم سجد فاطال السجود ثم رفع راسه وقام فصنع في الركعة الثانية مثل ما صنع في الركعة الاولى من القيام والركوع والسجود والجلوس فجعل ينفخ في اخر سجوده من الركعة الثانية ويبكي ويقول " لم تعدني هذا وانا فيهم لم تعدني هذا ونحن نستغفرك " . ثم رفع راسه وانجلت الشمس فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله عز وجل فاذا رايتم كسوف احدهما فاسعوا الى ذكر الله عز وجل والذي نفس محمد بيده لقد ادنيت الجنة مني حتى لو بسطت يدي لتعاطيت من قطوفها ولقد ادنيت النار مني حتى لقد جعلت اتقيها خشية ان تغشاكم حتى رايت فيها امراة من حمير تعذب في هرة ربطتها فلم تدعها تاكل من خشاش الارض فلا هي اطعمتها ولا هي سقتها حتى ماتت فلقد رايتها تنهشها اذا اقبلت واذا ولت تنهش اليتها وحتى رايت فيها صاحب السبتيتين اخا بني الدعداع يدفع بعصا ذات شعبتين في النار وحتى رايت فيها صاحب المحجن الذي كان يسرق الحاج بمحجنه متكيا على محجنه في النار يقول انا سارق المحجن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے دو رکوع کیے، اور ان میں پہلے جیسا ہی کیا، پھر آپ نے دو سجدے کیے، ان دونوں میں اسی طرح کرتے رہے جیسے پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم انہیں ( گرہن لگا ) دیکھو، تو تم اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑ پڑو ۔
اخبرنا محمد بن عبيد الله بن عبد العظيم، قال حدثني ابراهيم، سبلان قال حدثنا عباد بن عباد المهلبي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام فصلى للناس فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم قام فاطال القيام وهو دون القيام الاول ثم ركع فاطال الركوع وهو دون الركوع الاول ثم سجد فاطال السجود ثم رفع ثم سجد فاطال السجود وهو دون السجود الاول ثم قام فصلى ركعتين وفعل فيهما مثل ذلك ثم سجد سجدتين يفعل فيهما مثل ذلك حتى فرغ من صلاته ثم قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله وانهما لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم ذلك فافزعوا الى ذكر الله عز وجل والى الصلاة
ثعلبہ بن عباد العبدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک حدیث ذکر کی، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے نشانہ بازی کر رہے تھے، یہاں تک کہ سورج دیکھنے والے کی نظر میں افق سے دو تین نیزے کے برابر اوپر آ چکا تھا کہ اچانک وہ سیاہ ہو گیا، ہم میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: چلو مسجد چلیں، قسم اللہ کی اس سورج کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی امت میں ضرور کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، پھر ہم مسجد گئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے وقت میں پایا جب آپ لوگوں کی طرف نکلے، پھر آپ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، تو اتنا لمبا قیام کیا کہ ایسا قیام آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے رکوع کیا تو اتنا لمبا رکوع کیا کہ ایسا رکوع آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے ہمارے ساتھ سجدہ کیا تو اتنا لمبا سجدہ کیا کہ ایسا سجدہ آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے، پھر آپ نے ایسے ہی دوسری رکعت میں بھی کیا، دوسری رکعت میں آپ کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے سلام پھیرا، اور اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، اور گواہی دی کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور گواہی دی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ( یہ حدیث مختصر ہے ) ۔
اخبرنا هلال بن العلاء بن هلال، قال حدثنا الحسين بن عياش، قال حدثنا زهير، قال حدثنا الاسود بن قيس، قال حدثني ثعلبة بن عباد العبدي، من اهل البصرة انه شهد خطبة يوما لسمرة بن جندب فذكر في خطبته حديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمرة بن جندب بينا انا يوما وغلام من الانصار نرمي غرضين لنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كانت الشمس قيد رمحين او ثلاثة في عين الناظر من الافق اسودت فقال احدنا لصاحبه انطلق بنا الى المسجد فوالله ليحدثن شان هذه الشمس لرسول الله صلى الله عليه وسلم في امته حدثا - قال - فدفعنا الى المسجد - قال - فوافينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرج الى الناس - قال - فاستقدم فصلى فقام كاطول قيام قام بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم ركع بنا كاطول ركوع ما ركع بنا في صلاة قط ما نسمع له صوتا ثم سجد بنا كاطول سجود ما سجد بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتا ثم فعل ذلك في الركعة الثانية مثل ذلك - قال - فوافق تجلي الشمس جلوسه في الركعة الثانية فسلم فحمد الله واثنى عليه وشهد ان لا اله الا الله وشهد انه عبد الله ورسوله . مختصر
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے پر لگتا ہے، ایسا کچھ نہیں ہے، سورج اور چاند گرہن نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے لگتا ہے اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کے لیے اپنی تجلی ظاہر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، تو جب کبھی تم اس صورت حال کو دیکھو تو تم اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو، جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن النعمان بن بشير، قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج يجر ثوبه فزعا حتى اتى المسجد فلم يزل يصلي بنا حتى انجلت فلما انجلت قال " ان ناسا يزعمون ان الشمس والقمر لا ينكسفان الا لموت عظيم من العظماء وليس كذلك ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله عز وجل ان الله عز وجل اذا بدا لشىء من خلقه خشع له فاذا رايتم ذلك فصلوا كاحدث صلاة صليتموها من المكتوبة
قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں تھے، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، تو جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو جو تم نے ( گرہن لگنے پہلے ) پڑھی ہے ۔
واخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا عمرو بن عاصم، ان جده، عبيد الله بن الوازع حدثه قال حدثنا ايوب السختياني، عن ابي قلابة، عن قبيصة بن مخارق الهلالي، قال كسفت الشمس ونحن اذ ذاك مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة فخرج فزعا يجر ثوبه فصلى ركعتين اطالهما فوافق انصرافه انجلاء الشمس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله وانهما لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم من ذلك شييا فصلوا كاحدث صلاة مكتوبة صليتموها
قبیصہ الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے نئی بات پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی پر تجلی فرماتا ہے تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، لہٰذا جب ان دونوں میں سے کوئی رونما ہو تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چھٹ جائے، یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ، - وهو ابن هشام - قال حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي قلابة، عن قبيصة الهلالي، ان الشمس، انخسفت فصلى نبي الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ركعتين حتى انجلت ثم قال " ان الشمس والقمر لا ينخسفان لموت احد ولكنهما خلقان من خلقه وان الله عز وجل يحدث في خلقه ما شاء وان الله عز وجل اذا تجلى لشىء من خلقه يخشع له فايهما حدث فصلوا حتى ينجلي او يحدث الله امرا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج اور چاند کو گرہن لگے تو نماز پڑھو، اس تازہ نماز کی طرح جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي قلابة، عن النعمان بن بشير، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا خسفت الشمس والقمر فصلوا كاحدث صلاة صليتموها
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ابو نعيم، عن الحسن بن صالح، عن عاصم الاحول، عن ابي قلابة، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى حين انكسفت الشمس مثل صلاتنا يركع ويسجد
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی جلدی میں گھر سے مسجد کی طرف نکلے، سورج گرہن لگا تھا، آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن زمین والوں میں بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مر جانے کی وجہ سے لگتا ہے۔ حالانکہ سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، بلکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو نیا واقعہ چاہتا ہے رونما کرتا ہے، تو ان میں سے کوئی ( بھی ) گہنائے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے، یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن الحسن، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه خرج يوما مستعجلا الى المسجد وقد انكسفت الشمس فصلى حتى انجلت ثم قال " ان اهل الجاهلية كانوا يقولون ان الشمس والقمر لا ينخسفان الا لموت عظيم من عظماء اهل الارض وان الشمس والقمر لا ينخسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما خليقتان من خلقه يحدث الله في خلقه ما يشاء فايهما انخسف فصلوا حتى ينجلي او يحدث الله امرا
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے، اور لوگ ( بھی ) آپ کی طرف لپکے، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ دونوں نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، تو جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز چھٹ جائے جو تم پر آن پڑی ہے ، اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ ( اسی روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ بات کہی تھی۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا يونس، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فانكسفت الشمس فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يجر رداءه حتى انتهى الى المسجد وثاب اليه الناس فصلى بنا ركعتين فلما انكشفت الشمس قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله يخوف الله عز وجل بهما عباده وانهما لا يخسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم ذلك فصلوا حتى يكشف ما بكم " . وذلك ان ابنا له مات يقال له ابراهيم فقال له ناس في ذلك
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اسی نماز کی طرح دو رکعت نماز پڑھی، اور انہوں نے سورج گرہن لگنے کا ذکر کیا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن اشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى ركعتين مثل صلاتكم هذه وذكر كسوف الشمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی، آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور سورۃ البقرہ جیسی سورت پڑھی، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر ایک لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، پھر ایک لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں کسی کے مرنے سے نہیں گہناتے ہیں، اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، چنانچہ جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو ، لوگوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ میں کسی چیز کو آگے بڑھ کر لے رہے تھے، اور پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹ رہے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اس میں سے پھل کا ایک گچھا لینے کے لیے آگے بڑھا، اور اگر میں اسے لے لیتا تو تم اس سے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا چنانچہ میں نے آج سے پہلے اس بھیانک منظر کی طرح کبھی نہیں دیکھا تھا، اور میں نے اہل جہنم میں زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ایسا ان کے کفر کی وجہ سے ہے ، پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ( نہیں بلکہ ) وہ شوہر کے ساتھ کفر کرتی ہیں ( یعنی اس کی ناشکری کرتی ہیں ) اور ( اس کے ) احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرو، پھر اگر وہ تم سے کوئی چیز دیکھے تو وہ کہے گی: میں نے تم سے کبھی بھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عباس، قال خسفت الشمس فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس معه فقام قياما طويلا قرا نحوا من سورة البقرة - قال - ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع فقام قياما طويلا وهو دون القيام الاول ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الاول ثم سجد ثم قام قياما طويلا وهو دون القيام الاول ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الاول ثم رفع فقام قياما طويلا وهو دون القيام الاول ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الاول ثم سجد ثم انصرف وقد تجلت الشمس فقال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله لا يخسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم ذلك فاذكروا الله عز وجل " . قالوا يا رسول الله رايناك تناولت شييا في مقامك هذا ثم رايناك تكعكعت . قال " اني رايت الجنة او اريت الجنة فتناولت منها عنقودا ولو اخذته لاكلتم منه ما بقيت الدنيا ورايت النار فلم ار كاليوم منظرا قط ورايت اكثر اهلها النساء " . قالوا لم يا رسول الله قال " بكفرهن " . قيل يكفرن بالله قال " يكفرن العشير ويكفرن الاحسان لو احسنت الى احداهن الدهر ثم رات منك شييا قالت ما رايت منك خيرا قط
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ ( گرہن کی ) نماز پڑھی، آپ نے ان میں بلند آواز سے قرآت کی، آپ جب جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا الوليد، قال حدثنا عبد الرحمن بن نمر، انه سمع الزهري، يحدث عن عروة، عن عايشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه صلى اربع ركعات في اربع سجدات وجهر فيها بالقراءة كلما رفع راسه قال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی ( وہ کہتے ہیں ) کہ ہم آپ کی آواز نہیں سن رہے تھے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن الاسود بن قيس، عن ابن عباد، - رجل من بني عبد القيس - عن سمرة، . ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم في كسوف الشمس لا نسمع له صوتا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے نماز پڑھی، تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے ( شعبہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے عطاء نے سجدے کے سلسلہ میں بھی یہی بات کہی ہے ) اور آپ سجدے میں رونے اور پھونک مارنے لگے، آپ فرما رہے تھے: میرے رب! تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا، میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا اور حال یہ ہے کہ میں لوگوں میں موجود ہوں ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: مجھ پر جنت پیش کی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے پھلوں گچھوں میں سے توڑ لیتا، نیز مجھ پر جہنم پیش کی گئی تو میں پھونکنے لگا اس ڈر سے کہ کہیں اس کی گرمی تمہیں نہ ڈھانپ لے، اور میں نے اس میں اس چور کو دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو چرایا تھا، اور میں نے اس میں بنو دعدع کے اس شخص کو دیکھا جو حاجیوں کا مال چرایا کرتا تھا، اور جب وہ پہچان لیا جاتا تو کہتا: یہ ( میری اس ) خمدار لکڑی کا کام ہے، اور میں نے اس میں ایک کالی لمبی عورت کو دیکھا جسے ایک بلی کے سبب عذاب ہو رہا تھا، جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ تو وہ اسے کھلاتی پلاتی تھی اور نہ ہی اسے آزاد چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے، یہاں تک کہ وہ مر گئی، اور سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گہناتے ہیں، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب ان میں سے کوئی گہنا جائے ( یا کہا: ان دونوں میں سے کوئی اس میں سے کچھ کرے، یعنی گہنا جائے ) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن المسور الزهري، قال حدثنا غندر، عن شعبة، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع فاطال - قال شعبة واحسبه قال في السجود نحو ذلك - وجعل يبكي في سجوده وينفخ ويقول " رب لم تعدني هذا وانا استغفرك لم تعدني هذا وانا فيهم " . فلما صلى قال " عرضت على الجنة حتى لو مددت يدي تناولت من قطوفها وعرضت على النار فجعلت انفخ خشية ان يغشاكم حرها ورايت فيها سارق بدنتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورايت فيها اخا بني دعدع سارق الحجيج فاذا فطن له قال هذا عمل المحجن ورايت فيها امراة طويلة سوداء تعذب في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تسقها ولم تدعها تاكل من خشاش الارض حتى ماتت وان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله فاذا انكسفت احداهما - او قال فعل احدهما شييا من ذلك - فاسعوا الى ذكر الله عز وجل
عبدالرحمٰن بن نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے زہری سے گرہن کی نماز کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ہے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا کہ نماز جماعت سے ہونے والی ہے، تو لوگ جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، اپنے قیام کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر «اللہ اکبر»کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا سجدہ کیا اپنے رکوع کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور اپنا سر اٹھایا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور ایک لمبی قرآت کی، یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر «اللہ اکبر» کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی لیکن یہ پہلی قرآت سے جو دوسری رکعت میں کی تھی کم تھی، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر«اللہ اکبر» کہا اور اپنا سر اٹھایا، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ نے تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے سے گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو ان میں سے کسی کو گہن لگ جائے تو نماز کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو ۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، عن الوليد، عن عبد الرحمن بن نمر، انه سال الزهري عن سنة، صلاة الكسوف فقال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت كسفت الشمس فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فنادى ان الصلاة جامعة فاجتمع الناس فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر ثم قرا قراءة طويلة ثم كبر فركع ركوعا طويلا مثل قيامه او اطول ثم رفع راسه وقال " سمع الله لمن حمده " . ثم قرا قراءة طويلة هي ادنى من القراءة الاولى ثم كبر فركع ركوعا طويلا هو ادنى من الركوع الاول ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده " . ثم كبر فسجد سجودا طويلا مثل ركوعه او اطول ثم كبر فرفع راسه ثم كبر فسجد ثم كبر فقام فقرا قراءة طويلة هي ادنى من الاولى ثم كبر ثم ركع ركوعا طويلا هو ادنى من الركوع الاول ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده " . ثم قرا قراءة طويلة وهي ادنى من القراءة الاولى في القيام الثاني ثم كبر فركع ركوعا طويلا دون الركوع الاول ثم كبر فرفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده " . ثم كبر فسجد ادنى من سجوده الاول ثم تشهد ثم سلم فقام فيهم فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ان الشمس والقمر لا ينخسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله فايهما خسف به او باحدهما فافزعوا الى الله عز وجل بذكر الصلاة
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی، تو آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر ( اپنا سر رکوع سے ) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر ( اپنا سر سجدہ سے ) اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور نماز سے فارغ ہو گئے۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا موسى بن داود، قال حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الكسوف فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم قام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم رفع ثم انصرف