احادیث
#1485
سنن نسائی - Eclipses
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے پر لگتا ہے، ایسا کچھ نہیں ہے، سورج اور چاند گرہن نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے لگتا ہے اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کے لیے اپنی تجلی ظاہر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، تو جب کبھی تم اس صورت حال کو دیکھو تو تم اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو، جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن النعمان بن بشير، قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج يجر ثوبه فزعا حتى اتى المسجد فلم يزل يصلي بنا حتى انجلت فلما انجلت قال " ان ناسا يزعمون ان الشمس والقمر لا ينكسفان الا لموت عظيم من العظماء وليس كذلك ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله عز وجل ان الله عز وجل اذا بدا لشىء من خلقه خشع له فاذا رايتم ذلك فصلوا كاحدث صلاة صليتموها من المكتوبة
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Eclipses
- Hadith Index
- #1485
- Book Index
- 27
Grades
- Abu GhuddahDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
