احادیث
#1490
سنن نسائی - Eclipses
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی جلدی میں گھر سے مسجد کی طرف نکلے، سورج گرہن لگا تھا، آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن زمین والوں میں بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مر جانے کی وجہ سے لگتا ہے۔ حالانکہ سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، بلکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو نیا واقعہ چاہتا ہے رونما کرتا ہے، تو ان میں سے کوئی ( بھی ) گہنائے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے، یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن الحسن، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه خرج يوما مستعجلا الى المسجد وقد انكسفت الشمس فصلى حتى انجلت ثم قال " ان اهل الجاهلية كانوا يقولون ان الشمس والقمر لا ينخسفان الا لموت عظيم من عظماء اهل الارض وان الشمس والقمر لا ينخسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما خليقتان من خلقه يحدث الله في خلقه ما يشاء فايهما انخسف فصلوا حتى ينجلي او يحدث الله امرا
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Eclipses
- Hadith Index
- #1490
- Book Index
- 32
Grades
- Abu GhuddahDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
