احادیث
#1470
سنن نسائی - Eclipses
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جسے میں سچا سمجھتا ہوں، میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑی دیر تک نماز میں قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے پھر رکوع کرتے، اس طرح آپ نے دو رکعت پڑھی، ہر رکعت میں آپ نے تین رکوع کیا، تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ اس دن آدمیوں پر غشی طاری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے اوپر پانی کے ڈول انڈیلنے پڑ گئے تھے، آپ جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، اور جب سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، آپ فارغ نہیں ہوئے جب تک کہ سورج صاف نہیں ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور فرمایا: سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لیکن یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ تمہیں ڈراتا ہے، تو جب ان میں گرہن لگے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور ذکر الٰہی میں لگے رہو جب تک کہ وہ صاف نہ ہو جائیں ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، قال اخبرني ابن جريج، عن عطاء، قال سمعت عبيد بن عمير، يحدث قال حدثني من، اصدق فظننت انه يريد عايشة انها قالت كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بالناس قياما شديدا يقوم بالناس ثم يركع ثم يقوم ثم يركع ثم يقوم ثم يركع فركع ركعتين في كل ركعة ثلاث ركعات ركع الثالثة ثم سجد حتى ان رجالا يوميذ يغشى عليهم حتى ان سجال الماء لتصب عليهم مما قام بهم يقول اذا ركع " الله اكبر " . واذا رفع راسه " سمع الله لمن حمده " . فلم ينصرف حتى تجلت الشمس فقام فحمد الله واثنى عليه وقال " ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكن ايتان من ايات الله يخوفكم بهما فاذا كسفا فافزعوا الى ذكر الله عز وجل حتى ينجليا
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Eclipses
- Hadith Index
- #1470
- Book Index
- 12
Grades
- Abu GhuddahShadh
- Al-AlbaniShadh
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
