Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرتے، اور کبھی کبھار آپ ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری رکعت میں اس سے کم، اور فجر میں بھی ایسے ہی کرتے تھے پہلی میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری میں اس سے کم کرتے، اور عصر میں بھی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم پر قرآت کرتے، پہلی میں لمبی کرتے اور دوسری میں اس سے کم۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني عبد الله بن ابي قتادة، ان اباه، اخبره قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بنا في الركعتين الاوليين من صلاة الظهر ويسمعنا الاية احيانا ويطول في الاولى ويقصر في الثانية وكان يفعل ذلك في صلاة الصبح يطول في الاولى ويقصر في الثانية وكان يقرا بنا في الركعتين الاوليين من صلاة العصر يطول الاولى ويقصر الثانية
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا ابان بن يزيد، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر في الركعتين الاوليين بام القران وسورتين وفي الاخريين بام القران وكان يسمعنا الاية احيانا وكان يطيل اول ركعة من صلاة الظهر
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت ( پہلی کی بہ نسبت ) مختصر کرتے تھے، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن حجاج الصواف، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، وعن ابي سلمة، عن ابي قتادة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر في الركعتين الاوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الاية احيانا وكان يطيل الركعة الاولى في الظهر ويقصر في الثانية وكذلك في الصبح
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «والسماء ذات البروج» اور «والسماء والطارق» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن سماك، عن جابر بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الظهر والعصر بالسماء ذات البروج والسماء والطارق ونحوهما
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن شعبة، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر { والليل اذا يغشى } وفي العصر نحو ذلك وفي الصبح باطول من ذلك
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا العطاف بن خالد، عن زيد بن اسلم، قال دخلنا على انس بن مالك فقال صليتم قلنا نعم . قال يا جارية هلمي لي وضوءا ما صليت وراء امام اشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من امامكم هذا . قال زيد وكان عمر بن عبد العزيز يتم الركوع والسجود ويخفف القيام والقعود
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو فلاں ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو، سلیمان کہتے ہیں: وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، اور عصر کو ہلکی کرتے، اور مغرب میں «قصارِ» مفصل پڑھتے تھے، اور عشاء میں«وساطِ» مفصل پڑھتے تھے، اور فجر میں «طوالِ» مفصل پڑھتے تھے۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن بكير بن عبد الله، عن سليمان بن يسار، عن ابي هريرة، قال ما صليت وراء احد اشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان . قال سليمان كان يطيل الركعتين الاوليين من الظهر ويخفف الاخريين ويخفف العصر ويقرا في المغرب بقصار المفصل ويقرا في العشاء بوسط المفصل ويقرا في الصبح بطول المفصل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی ( سلیمان کہتے ہیں ) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں ( رکعتیں ) ہلکی کرتے، اور عصر بھی ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، اور عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الله بن الحارث، عن الضحاك بن عثمان، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن سليمان بن يسار، عن ابي هريرة، قال ما صليت وراء احد اشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان . فصلينا وراء ذلك الانسان وكان يطيل الاوليين من الظهر ويخفف في الاخريين ويخفف في العصر ويقرا في المغرب بقصار المفصل ويقرا في العشاء بالشمس وضحاها واشباهها ويقرا في الصبح بسورتين طويلتين
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ۱؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، تو اس شخص نے ( الگ جا کر ) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن محارب بن دثار، عن جابر، قال مر رجل من الانصار بناضحين على معاذ وهو يصلي المغرب فافتتح بسورة البقرة فصلى الرجل ثم ذهب فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " افتان يا معاذ افتان يا معاذ الا قرات ب { سبح اسم ربك الاعلى } والشمس وضحاها ونحوهما
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب پڑھائی، تو آپ نے سورۃ المرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا موسى بن داود، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة الماجشون، عن حميد، عن انس، عن ام الفضل بنت الحارث، قالت صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته المغرب فقرا المرسلات ما صلى بعدها صلاة حتى قبض صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس، عن امه، انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالمرسلات
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے سنا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالطور
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «حم» الدخان پڑھی۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حيوة، وذكر، اخر قالا حدثنا جعفر بن ربيعة، ان عبد الرحمن بن هرمز، حدثه ان معاوية بن عبد الله بن جعفر حدثه ان عبد الله بن عتبة بن مسعود حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا في صلاة المغرب ب { حم } الدخان
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں «المص» جو دو لمبی سورتوں ( انعام اور اعراف ) میں زیادہ لمبی ہے ( سورۃ الاعراف ) پڑھتے دیکھا ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن ابي الاسود، انه سمع عروة بن الزبير، يحدث عن زيد بن ثابت، انه قال لمروان يا ابا عبد الملك اتقرا في المغرب ب { قل هو الله احد } و { انا اعطيناك الكوثر } قال نعم . قال فمحلوفة لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا فيها باطول الطوليين { المص}
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، اخبرني عروة بن الزبير، ان مروان بن الحكم، اخبره ان زيد بن ثابت قال ما لي اراك تقرا في المغرب بقصار السور وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا فيها باطول الطوليين قلت يا ابا عبد الله ما اطول الطوليين قال الاعراف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ الاعراف پڑھی، آپ نے اسے دونوں رکعتوں میں بانٹ دیا۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، وابو حيوة عن ابن ابي حمزة، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا في صلاة المغرب بسورة الاعراف فرقها في ركعتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے دیکھا ہے۔
اخبرنا الفضل بن سهل، قال حدثني ابو الجواب، قال حدثنا عمار بن رزيق، عن ابي اسحاق، عن ابراهيم بن مهاجر، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال رمقت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرين مرة يقرا في الركعتين بعد المغرب وفي الركعتين قبل الفجر { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت «قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ ان لوگوں نے ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے ۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال حدثنا عمرو بن الحارث، عن سعيد بن ابي هلال، ان ابا الرجال، محمد بن عبد الرحمن حدثه عن امه، عمرة عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على سرية فكان يقرا لاصحابه في صلاتهم فيختم ب { قل هو الله احد } فلما رجعوا ذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " سلوه لاى شىء فعل ذلك " . فسالوه فقال لانها صفة الرحمن عز وجل فانا احب ان اقرا بها . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخبروه ان الله عز وجل يحبه
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبيد الله بن عبد الرحمن، عن عبيد بن حنين، مولى ال زيد بن الخطاب قال سمعت ابا هريرة، يقول اقبلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع رجلا يقرا { قل هو الله احد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا احد } فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وجبت " . فسالته ماذا يا رسول الله قال " الجنة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا، وہ اسے باربار دہرا رہا تھا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، سمع رجلا، يقرا { قل هو الله احد } يرددها فلما اصبح جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده انها لتعدل ثلث القران