Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۱؎، اور «ربنا ولك الحمد» کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سالم، ح واخبرني احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان، - هو ابن سعيد - عن شعيب، عن محمد، - وهو الزهري - قال اخبرني سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح التكبير في الصلاة رفع يديه حين يكبر حتى يجعلهما حذو منكبيه واذا كبر للركوع فعل مثل ذلك ثم اذا قال " سمع الله لمن حمده " . فعل مثل ذلك وقال " ربنا ولك الحمد " . ولا يفعل ذلك حين يسجد ولا حين يرفع راسه من السجود
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني سالم، عن ابن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه ثم يكبر - قال - وكان يفعل ذلك حين يكبر للركوع ويفعل ذلك حين يرفع راسه من الركوع ويقول " سمع الله لمن حمده " . ولا يفعل ذلك في السجود
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده»، «ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع رفعهما كذلك وقال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . وكان لا يفعل ذلك في السجود
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما افتتح الصلاة كبر ورفع يديه حتى حاذتا اذنيه ثم يقرا بفاتحة الكتاب فلما فرغ منها قال " امين " . يرفع بها صوته
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے ( تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، وكان، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى رفع يديه حين يكبر حيال اذنيه واذا اراد ان يركع واذا رفع راسه من الركوع
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا ( تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا ) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہو گئے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين دخل في الصلاة رفع يديه وحين ركع وحين رفع راسه من الركوع حتى حاذتا فروع اذنيه
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہو جاتے۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا محمد بن بشر، قال حدثنا فطر بن خليفة، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة رفع يديه حتى تكاد ابهاماه تحاذي شحمة اذنيه
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثنا سعيد بن سمعان، قال جاء ابو هريرة الى مسجد بني زريق فقال ثلاث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل بهن تركهن الناس كان يرفع يديه في الصلاة مدا ويسكت هنيهة ويكبر اذا سجد واذا رفع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( پھر ) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۲؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله بن عمر، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فدخل رجل فصلى ثم جاء فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " ارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع فصلى كما صلى ثم جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك السلام ارجع فصل فانك لم تصل " . فعل ذلك ثلاث مرات فقال الرجل والذي بعثك بالحق ما احسن غير هذا فعلمني . قال " اذا قمت الى الصلاة فكبر ثم اقرا ما تيسر معك من القران ثم اركع حتى تطمين راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قايما ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع حتى تطمين جالسا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا ۲؎۔
اخبرني محمد بن وهب، قال حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، قال حدثني زيد، - هو ابن ابي انيسة - عن عمرو بن مرة، عن عون بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، قال قام رجل خلف نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال الله اكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا . فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " من صاحب الكلمة " فقال رجل انا يا نبي الله . فقال " لقد ابتدرها اثنا عشر ملكا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں میں سے ایک شخص نے: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں کہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: مجھے اس کلمہ پر حیرت ہوئی ، اور آپ نے ایک ایسی بات ذکر کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
اخبرنا محمد بن شجاع المروذي، قال حدثنا اسماعيل، عن حجاج، عن ابي الزبير، عن عون بن عبد الله، عن ابن عمر، قال بينما نحن نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل من القوم الله اكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من القايل كلمة كذا وكذا " . فقال رجل من القوم انا يا رسول الله . قال " عجبت لها " . وذكر كلمة معناها " فتحت لها ابواب السماء " . قال ابن عمر ما تركته منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ پکڑتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن موسى بن عمير العنبري، وقيس بن سليم العنبري، قالا حدثنا علقمة بن وايل، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان قايما في الصلاة قبض بيمينه على شماله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا هشيم، عن الحجاج بن ابي زينب، قال سمعت ابا عثمان، يحدث عن ابن مسعود، قال راني النبي صلى الله عليه وسلم وقد وضعت شمالي على يميني في الصلاة فاخذ بيميني فوضعها على شمالي
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی ( کی پشت ) ، کلائی اور بازو پر رکھا ۱؎، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا، پھر آپ نے قعدہ کیا، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ۲؎ کر لیا، اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ ( دائرہ ) بنا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن زايدة، قال حدثنا عاصم بن كليب، قال حدثني ابي ان وايل بن حجر، اخبره قال قلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي فنظرت اليه فقام فكبر ورفع يديه حتى حاذتا باذنيه ثم وضع يده اليمنى على كفه اليسرى والرسغ والساعد فلما اراد ان يركع رفع يديه مثلها - قال - ووضع يديه على ركبتيه ثم لما رفع راسه رفع يديه مثلها ثم سجد فجعل كفيه بحذاء اذنيه ثم قعد وافترش رجله اليسرى ووضع كفه اليسرى على فخذه وركبته اليسرى وجعل حد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى ثم قبض اثنتين من اصابعه وحلق حلقة ثم رفع اصبعه فرايته يحركها يدعو بها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ ( کمر ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن هشام، ح واخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، - واللفظ له - عن هشام، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يصلي الرجل مختصرا
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ ( کمر ) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے ( پوچھا ) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان بن حبيب، عن سعيد بن زياد، عن زياد بن صبيح، قال صليت الى جنب ابن عمر فوضعت يدي على خصري فقال لي هكذا ضربة بيده فلما صليت قلت لرجل من هذا قال عبد الله بن عمر . قلت يا ابا عبد الرحمن ما رابك مني قال ان هذا الصلب وان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا عنه
ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سنت کی مخالفت کی ہے، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن سفيان بن سعيد الثوري، عن ميسرة، عن المنهال بن عمرو، عن ابي عبيدة، ان عبد الله، راى رجلا يصلي قد صف بين قدميه فقال خالف السنة ولو راوح بينهما كان افضل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، قال اخبرني ميسرة بن حبيب، قال سمعت المنهال بن عمرو، يحدث عن ابي عبيدة، عن عبد الله، انه راى رجلا يصلي قد صف بين قدميه فقال اخطا السنة ولو راوح بينهما كان اعجب الى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۱؎۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت له سكتة اذا افتتح الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے، تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں: «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے، اے اللہ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة سكت هنيهة فقلت بابي انت وامي يا رسول الله ما تقول في سكوتك بين التكبير والقراءة قال " اقول اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد