Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت» بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! مجھے حسن اعمال اور حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھے برے اعمال اور قبیح اخلاق سے بچا، تیرے سوا کوئی ان برائیوں سے بچا نہیں سکتا ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، قال حدثنا شريح بن يزيد الحضرمي، قال اخبرني شعيب بن ابي حمزة، قال اخبرني محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا استفتح الصلاة كبر ثم قال " ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم اهدني لاحسن الاعمال واحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها الا انت وقني سيي الاعمال وسيي الاخلاق لا يقي سييها الا انت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت أنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! تو صاحب قوت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیرا غلام ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کوئی نہیں کر سکتا، اور مجھے حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھ سے برے اخلاق پھیر دے، تیرے سوا اس کی برائی مجھ سے کوئی پھیر نہیں سکتا، میں تیری تابعداری کے لیے باربار حاضر ہوں، اور ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے، اور شر سے تیرا کوئی علاقہ نہیں ۲؎، میں تیری وجہ سے ہوں، اور مجھے تیری ہی طرف پلٹنا ہے، تو صاحب برکت اور صاحب علو ہے، میں تجھ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، قال حدثني عمي الماجشون بن ابي سلمة، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا استفتح الصلاة كبر ثم قال " وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم انت الملك لا اله الا انت انا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب الا انت واهدني لاحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها الا انت واصرف عني سييها لا يصرف عني سييها الا انت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس اليك انا بك واليك تباركت وتعاليت استغفرك واتوب اليك
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے: «اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك» اللہ بہت بڑا ہے، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ( پالنہار ) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو صاحب قدرت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تیری ذات تمام عیوب سے پاک ہے، اور تو لائق حمد وثناء ہے ) ، پھر قرآت فرماتے ۔
اخبرنا يحيى بن عثمان الحمصي، قال حدثنا ابن حمير، قال حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، وذكر، اخر قبله عن عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، عن محمد بن مسلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام يصلي تطوعا قال " الله اكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا مسلما وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا اول المسلمين اللهم انت الملك لا اله الا انت سبحانك وبحمدك " . ثم يقرا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( شرک اور تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد ہے، تیرا نام بابرکت ہے، اور تیری شان بلند و بالا ہے، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا جعفر بن سليمان، عن علي بن علي، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا افتتح الصلاة قال " سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثني جعفر بن سليمان، عن علي بن علي، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة قال " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا، اور مسجد میں داخل ہوا اس کی سانس پھول گئی تھی، تو اس نے «اللہ أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ایسی تعریف جو پاکیزہ بابرکت ہو کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے تھے؟ لوگ خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تو اس شخص نے کہا: میں نے اے اللہ کے رسول! میں آیا اور میری سانس پھول رہی تھی تو میں نے یہ کلمات کہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا سب جھپٹ رہے تھے کہ اسے کون اوپر لے جائے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا حماد، عن ثابت، وقتادة، وحميد، عن انس، انه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بنا اذ جاء رجل فدخل المسجد وقد حفزه النفس فقال الله اكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه . فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال " ايكم الذي تكلم بكلمات " فارم القوم قال " انه لم يقل باسا " . قال انا يا رسول الله جيت وقد حفزني النفس فقلتها . قال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد رايت اثنى عشر ملكا يبتدرونها ايهم يرفعها
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر - رضى الله عنهما - يستفتحون القراءة ب { الحمد لله رب العالمين}
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی تو ان لوگوں نے «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کی۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الزهري، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن قتادة، عن انس، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ومع ابي بكر وعمر - رضى الله عنهما - فافتتحوا ب { الحمد لله رب العالمين}
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے«بسم اللہ الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا علي بن مسهر، عن المختار بن فلفل، عن انس بن مالك، قال بينما ذات يوم بين اظهرنا - يريد النبي صلى الله عليه وسلم - اذ اغفى اغفاءة ثم رفع راسه متبسما فقلنا له ما اضحكك يا رسول الله قال " نزلت على انفا سورة بسم الله الرحمن الرحيم { انا اعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * ان شانيك هو الابتر } " . ثم قال " هل تدرون ما الكوثر " . قلنا الله ورسوله اعلم . قال " فانه نهر وعدنيه ربي في الجنة انيته اكثر من عدد الكواكب ترده على امتي فيختلج العبد منهم فاقول يا رب انه من امتي . فيقول لي انك لا تدري ما احدث بعدك
نعیم المجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کہا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھی، اور جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پر پہنچے آمین کہی، لوگوں نے بھی آمین کہی ۱؎، اور جب جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، حدثنا الليث، حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، عن نعيم المجمر، قال صليت وراء ابي هريرة فقرا { بسم الله الرحمن } الرحيم ثم قرا بام القران حتى اذا بلغ { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقال امين . فقال الناس امين . ويقول كلما سجد الله اكبر واذا قام من الجلوس في الاثنين قال الله اكبر واذا سلم قال والذي نفسي بيده اني لاشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، تو آپ نے ہمیں «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کی قرآت نہیں سنائی، اور ہمیں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے بھی نماز پڑھائی، تو ہم نے ان دونوں سے بھی اسے نہیں سنا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، قال سمعت ابي يقول، انبانا ابو حمزة، عن منصور بن زاذان، عن انس بن مالك، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يسمعنا قراءة { بسم الله الرحمن الرحيم } وصلى بنا ابو بكر وعمر فلم نسمعها منهما
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی«بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے پڑھتے نہیں سنا۔
اخبرنا عبد الله بن سعيد ابو سعيد الاشج، قال حدثني عقبة بن خالد، قال حدثنا شعبة، وابن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان - رضى الله عنهم - فلم اسمع احدا منهم يجهر ب { بسم الله الرحمن الرحيم}
عبداللہ بن مغفل کے بیٹے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ جب ہم میں سے کسی سے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے ہوئے سنتے تو کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے نہیں سنا ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا عثمان بن غياث، قال اخبرني ابو نعامة الحنفي، قال حدثنا ابن عبد الله بن مغفل، قال كان عبد الله بن مغفل اذا سمع احدنا، يقرا { بسم الله الرحمن الرحيم } يقول صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وخلف ابي بكر وخلف عمر رضى الله عنهما فما سمعت احدا منهم قرا بسم الله الرحمن الرحيم
ابوسائب مولی ہشام بن زہرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ، میں نے پوچھا: ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو ( کیسے پڑھوں؟ ) تو انہوں نے میرا ہاتھ دبایا، اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، تو آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ فاتحہ پڑھو، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے ۲؎ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد ( تعریف ) کی، اسی طرح جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعظیم و تمجید کی، اور جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ آیت میرے اور میرے بندے دونوں کے درمیان مشترک ہے، اور جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تینوں آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، انه سمع ابا السايب، مولى هشام بن زهرة يقول سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج هي خداج هي خداج " . غير تمام . فقلت يا ابا هريرة اني احيانا اكون وراء الامام . فغمز ذراعي وقال اقرا بها يا فارسي في نفسك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يقول الله عز وجل قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصفها لي ونصفها لعبدي ولعبدي ما سال " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرءوا يقول العبد { الحمد لله رب العالمين } يقول الله عز وجل حمدني عبدي . يقول العبد { الرحمن الرحيم } يقول الله عز وجل اثنى على عبدي . يقول العبد { مالك يوم الدين } يقول الله عز وجل مجدني عبدي . يقول العبد { اياك نعبد واياك نستعين } فهذه الاية بيني وبين عبدي ولعبدي ما سال . يقول العبد { اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فهولاء لعبدي ولعبدي ما سال
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ مزید نہ پڑھے ۱؎ ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب فصاعدا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام ایک ساتھ ہی تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے اوپر دروازہ کھلنے کی آواز سنی، تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: یہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، پھر اس سے ایک فرشتہ اترا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: مبارک ہو! آپ کو دو نور دیا گیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا، سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں، ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تم پڑھو گے تو ( اس کا ثواب ) تمہیں ضرور دیا جائے گا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا ابو الاحوص، عن عمار بن رزيق، عن عبد الله بن عيسى، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده جبريل عليه السلام اذ سمع نقيضا فوقه فرفع جبريل عليه السلام بصره الى السماء فقال هذا باب قد فتح من السماء ما فتح قط . قال فنزل منه ملك فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابشر بنورين اوتيتهما لم يوتهما نبي قبلك فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة لم تقرا حرفا منهما الا اعطيته
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور انہیں بلایا، تو میں نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوسعید تمہیں مجھے جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟ کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے!: «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات بخش ہو ( الحجر: ۸۷ ) کیا تم کو مسجد سے نکلنے سے پہلے میں ایک عظیم ترین سورت نہ سکھاؤں؟ آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو کہا تھا بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت«الحمد لله رب العالمين» ہے، اور یہی «سبع المثاني» ۱؎ ہے جو مجھے دی گئی ہے، یہی قرآن عظیم ہے ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن خبيب بن عبد الرحمن، قال سمعت حفص بن عاصم، يحدث عن ابي سعيد بن المعلى، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو يصلي فدعاه - قال - فصليت ثم اتيته فقال " ما منعك ان تجيبني " قال كنت اصلي . قال " الم يقل الله عز وجل { يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم لما يحييكم } الا اعلمك اعظم سورة قبل ان اخرج من المسجد " . قال فذهب ليخرج قلت يا رسول الله قولك . قال " الحمد لله رب العالمين هي السبع المثاني الذي اوتيت والقران العظيم
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تو رات میں اتاری ہے اور نہ انجیل میں، یہی «سبع المثاني» ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ بٹی ہوئی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الحميد بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما انزل الله عز وجل في التوراة ولا في الانجيل مثل ام القران وهي السبع المثاني وهي مقسومة بيني وبين عبدي ولعبدي ما سال
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں۔
اخبرني محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن مسلم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اوتي النبي صلى الله عليه وسلم سبعا من المثاني السبع الطول