Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ عزوجل کے قول: «سبعا من المثاني» کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله عز وجل { سبعا من المثاني } قال السبع الطول
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن زرارة، عن عمران بن حصين، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر فقرا رجل خلفه { سبح اسم ربك الاعلى } فلما صلى قال من قرا { سبح اسم ربك الاعلى } . قال رجل انا . قال " قد علمت ان بعضكم قد خالجنيها
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الظهر او العصر ورجل يقرا خلفه فلما انصرف قال " ايكم قرا ب { سبح اسم ربك الاعلى } فقال رجل من القوم انا ولم ارد بها الا الخير . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قد عرفت ان بعضكم قد خالجنيها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابن اكيمة الليثي، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من صلاة جهر فيها بالقراءة فقال " هل قرا معي احد منكم انفا " . قال رجل نعم يا رسول الله . قال " اني اقول ما لي انازع القران " . قال فانتهى الناس عن القراءة فيما جهر فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقراءة من الصلاة حين سمعوا ذلك
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے ۔
اخبرنا هشام بن عمار، عن صدقة، عن زيد بن واقد، عن حرام بن حكيم، عن نافع بن محمود بن ربيعة، عن عبادة بن الصامت، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض الصلوات التي يجهر فيها بالقراءة فقال " لا يقران احد منكم اذا جهرت بالقراءة الا بام القران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» کہو ۔
اخبرنا الجارود بن معاذ الترمذي، قال حدثنا ابو خالد الاحمر، عن محمد بن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما جعل الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا واذا قرا فانصتوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: مخرمی کہتے تھے: وہ یعنی محمد بن سعد الانصاری ثقہ ہیں۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا محمد بن سعد الانصاري، قال حدثني محمد بن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا واذا قرا فانصتوا " . قال ابو عبد الرحمن كان المخرمي يقول هو ثقة يعني محمد بن سعد الانصاري
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا ہر نماز میں قرآت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ( اس پر ) انصار کے ایک شخص نے کہا: یہ ( قرآت ) واجب ہو گئی، تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور حال یہ تھا کہ میں ان سے سب سے زیادہ قریب تھا، تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کی امامت کرے تو ( امام کی قرآت ) انہیں بھی کافی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا غلط ہے، یہ تو صرف ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور اسے اس کتاب کے ساتھ انہوں نے نہیں پڑھا ہے ۱؎۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا معاوية بن صالح، قال حدثني ابو الزاهرية، قال حدثني كثير بن مرة الحضرمي، عن ابي الدرداء، سمعه يقول سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم افي كل صلاة قراءة قال " نعم " . قال رجل من الانصار وجبت هذه . فالتفت الى وكنت اقرب القوم منه فقال ما ارى الامام اذا ام القوم الا قد كفاهم . قال ابو عبد الرحمن هذا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطا انما هو قول ابي الدرداء ولم يقرا هذا مع الكتاب
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
اخبرنا يوسف بن عيسى، ومحمود بن غيلان، عن الفضل بن موسى، قال حدثنا مسعر، عن ابراهيم السكسكي، عن ابن ابي اوفى، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني لا استطيع ان اخذ شييا من القران فعلمني شييا يجزيني من القران . فقال " قل سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن الزبيدي، قال اخبرني الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا امن القاري فامنوا فان الملايكة تومن فمن وافق تامينه تامين الملايكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن القاري فامنوا فان الملايكة تومن فمن وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثني معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا " قال الامام { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقولوا امين فان الملايكة تقول امين وان الامام يقول امين فمن وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، وابي، سلمة انهما اخبراه عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن الامام فامنوا فانه من وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، - رضى الله عنه - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فقولوا امين فانه من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال احدكم امين وقالت الملايكة في السماء امين فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آ گئی، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیسے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا رفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع، عن عم، ابيه معاذ بن رفاعة بن رافع عن ابيه، قال صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم فعطست فقلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى . فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فقال " من المتكلم في الصلاة " . فلم يكلمه احد ثم قالها الثانية " من المتكلم في الصلاة " . فقال رفاعة بن رافع بن عفراء انا يا رسول الله . قال " كيف قلت " . قال قلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لقد ابتدرها بضعة وثلاثون ملكا ايهم يصعد بها
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی ۔
اخبرنا عبد الحميد بن محمد، قال حدثنا مخلد، قال حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابيه، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما كبر رفع يديه اسفل من اذنيه فلما قرا { غير المغضوب عليهم ولا الضالين } قال " امين " . فسمعته وانا خلفه . قال فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يقول الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فلما سلم النبي صلى الله عليه وسلم من صلاته قال " من صاحب الكلمة في الصلاة " . فقال الرجل انا يا رسول الله وما اردت بها باسا . قال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد ابتدرها اثنا عشر ملكا فما نهنهها شىء دون العرش
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت سال الحارث بن هشام رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف ياتيك الوحى قال " في مثل صلصلة الجرس فيفصم عني وقد وعيت وهو اشده على واحيانا ياتيني في مثل صورة الفتى فينبذه الى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان الحارث بن هشام، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف ياتيك الوحى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احيانا ياتيني في مثل صلصلة الجرس وهو اشده على فيفصم عني وقد وعيت ما قال واحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فاعي ما يقول " . قالت عايشة ولقد رايته ينزل عليه في اليوم الشديد البرد فيفصم عنه وان جبينه ليتفصد عرقا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ تعالیٰ کے قول: «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» ( القیامۃ: ۱۶- ۱۷ ) کی تفسیر میں مروی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی اترتے وقت بڑی تکلیف برداشت کرتے تھے، اپنے ہونٹ ہلاتے رہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نبی! آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، کیونکہ اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے ۱؎، ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ «جمعه» کے معنی: اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں بیٹھا دینا ہے، اور «قرآنه» کے معنی اسے اس طرح پڑھوا دینا ہے کہ جب آپ چاہیں اسے پڑھنے لگ جائیں «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» میں «فاتبع قرآنه» کے معنی ہیں: آپ اسے غور سے سنیں، اور چپ رہیں، چنانچہ جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ بغور سنتے تھے، اور جب روانہ ہو جاتے تو آپ اسے پڑھتے جس طرح انہوں نے پڑھایا ہوتا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن موسى بن ابي عايشة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله عز وجل { لا تحرك به لسانك لتعجل به * ان علينا جمعه وقرانه } قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعالج من التنزيل شدة وكان يحرك شفتيه قال الله عز وجل { لا تحرك به لسانك لتعجل به * ان علينا جمعه وقرانه } قال جمعه في صدرك ثم تقراه { فاذا قراناه فاتبع قرانه } قال فاستمع له وانصت فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتاه جبريل استمع فاذا انطلق قراه كما اقراه