Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، انہوں نے اس میں کچھ الفاظ اس طرح پڑھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائے تھے تو میں نے پوچھا: یہ سورت آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: آپ غلط کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس طرح کبھی نہیں پڑھائی ہو گی! چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے، اور میں نے انہیں اس میں کچھ ایسے الفاظ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہشام! ذرا پڑھو تو ، تو انہوں نے ویسے ہی پڑھا جس طرح پہلے پڑھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح اتری ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب تم پڑھو تو ، تو میں نے پڑھا، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اتری ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ۱؎۔
اخبرنا نصر بن علي، قال انبانا عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن ابن مخرمة، ان عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - قال سمعت هشام بن حكيم بن حزام، يقرا سورة الفرقان فقرا فيها حروفا لم يكن نبي الله صلى الله عليه وسلم اقرانيها قلت من اقراك هذه السورة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت كذبت ما هكذا اقراك رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذت بيده اقوده الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انك اقراتني سورة الفرقان واني سمعت هذا يقرا فيها حروفا لم تكن اقراتنيها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا يا هشام " . فقرا كما كان يقرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال " اقرا يا عمر " . فقرات فقال " هكذا انزلت " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان القران انزل على سبعة احرف
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، جس طرح میں پڑھ رہا تھا وہ اس کے خلاف پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا، تو قریب تھا کہ میں ان کے خلاف جلد بازی میں کچھ کر بیٹھوں ۱؎، لیکن میں نے انہیں مہلت دی یہاں تک کہ وہ پڑھ کر فارغ ہو گئے، پھر میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑ کر انہیں کھینچا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے طریقہ پر پڑھتے سنا ہے جو اس طریقہ کے خلاف ہے جس طریقہ پر آپ نے مجھے یہ سورت پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ( اچھا ) تم پڑھو! ، انہوں نے اسی طریقہ پر پڑھا جس پر میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو! تو میں نے بھی پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے، یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو تم اسی طرح پڑھو ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، قال سمعت عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - يقول سمعت هشام بن حكيم، يقرا سورة الفرقان على غير ما اقروها عليه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقرانيها فكدت ان اعجل عليه ثم امهلته حتى انصرف ثم لببته بردايه فجيت به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني سمعت هذا يقرا سورة الفرقان على غير ما اقراتنيها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا " . فقرا القراءة التي سمعته يقرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال لي " اقرا " . فقرات فقال " هكذا انزلت ان هذا القران انزل على سبعة احرف { فاقرءوا ما تيسر منه}
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا تو میں ان کی قرآت غور سے سننے لگا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کچھ الفاظ ایسے طریقے پر پڑھ رہے ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا تھا، چنانچہ قریب تھا کہ میں ان پر نماز میں ہی جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا، یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا، جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑا، اور پوچھا: یہ سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو: اللہ کی قسم یہی سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے پڑھائی ہے، بالآخر میں انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان کے کچھ الفاظ پڑھتے سنا ہے کہ اس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھایا ہے، حالانکہ سورۃ الفرقان آپ نے ہی مجھ کو پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو، اور ہشام! تم پڑھو! تو انہوں نے اسے اسی طرح پر پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب تم پڑھو! تو میں نے اس طرح پڑھا جیسے آپ نے مجھے پڑھایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو اسی پر پڑھو ۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان المسور بن مخرمة، وعبد الرحمن بن عبد القاري، اخبراه انهما، سمعا عمر بن الخطاب، يقول سمعت هشام بن حكيم، يقرا سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستمعت لقراءته فاذا هو يقروها على حروف كثيرة لم يقرينيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكدت اساوره في الصلاة فتصبرت حتى سلم فلما سلم لببته بردايه فقلت من اقراك هذه السورة التي سمعتك تقروها فقال اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت كذبت . فوالله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو اقراني هذه السورة التي سمعتك تقروها فانطلقت به اقوده الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني سمعت هذا يقرا سورة الفرقان على حروف لم تقرينيها وانت اقراتني سورة الفرقان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارسله يا عمر اقرا يا هشام " . فقرا عليه القراءة التي سمعته يقروها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا يا عمر " . فقرات القراءة التي اقراني قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذا القران انزل على سبعة احرف { فاقرءوا ما تيسر منه}
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، غندر قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن مجاهد، عن ابن ابي ليلى، عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عند اضاة بني غفار فاتاه جبريل عليه السلام فقال ان الله عز وجل يامرك ان تقري امتك القران على حرف . قال " اسال الله معافاته ومغفرته وان امتي لا تطيق ذلك " . ثم اتاه الثانية فقال ان الله عز وجل يامرك ان تقري امتك القران على حرفين قال " اسال الله معافاته ومغفرته وان امتي لا تطيق ذلك " . ثم جاءه الثالثة فقال ان الله عز وجل يامرك ان تقري امتك القران على ثلاثة احرف . قال " اسال الله معافاته ومغفرته وان امتي لا تطيق ذلك " . ثم جاءه الرابعة فقال ان الله عز وجل يامرك ان تقري امتك القران على سبعة احرف فايما حرف قرءوا عليه فقد اصابوا . قال ابو عبد الرحمن هذا الحديث خولف فيه الحكم خالفه منصور بن المعتمر رواه عن مجاهد عن عبيد بن عمير مرسلا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سورت پڑھائی تھی، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اسی سورت کو پڑھ رہا ہے، اور میری قرآت کے خلاف پڑھ رہا ہے، تو میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: تم مجھ سے جدا نہ ہونا جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آ جائیں، میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص وہ سورت جسے آپ نے مجھے سکھائی ہے میرے طریقے کے خلاف پڑھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! تم پڑھو تو میں نے وہ سورت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تم پڑھو! تو اس نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، اور ہر ایک درست اور کافی ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: معقل بن عبیداللہ ( زیادہ ) قوی نہیں ہیں ۱؎۔
اخبرني عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو جعفر بن نفيل، قال قرات على معقل بن عبيد الله عن عكرمة بن خالد، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، قال اقراني رسول الله صلى الله عليه وسلم سورة فبينا انا في المسجد جالس اذ سمعت رجلا يقروها يخالف قراءتي فقلت له من علمك هذه السورة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت لا تفارقني حتى ناتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته فقلت يا رسول الله ان هذا خالف قراءتي في السورة التي علمتني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا يا ابى " . فقراتها فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " احسنت " . ثم قال للرجل " اقرا " . فقرا فخالف قراءتي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " احسنت " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابى انه انزل القران على سبعة احرف كلهن شاف كاف " . قال ابو عبد الرحمن معقل بن عبيد الله ليس بذلك القوي
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے ( اللہ سے ) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، ( اور کہا کہ ) ہر حرف شافی و کافی ہے ۔
اخبرني يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن حميد، عن انس، عن ابى، قال ما حاك في صدري منذ اسلمت الا اني قرات اية وقراها اخر غير قراءتي فقلت اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم . وقال الاخر اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم . فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا نبي الله اقراتني اية كذا وكذا قال " نعم " . وقال الاخر الم تقريني اية كذا وكذا قال " نعم ان جبريل وميكاييل عليهما السلام اتياني فقعد جبريل عن يميني وميكاييل عن يساري فقال جبريل عليه السلام اقرا القران على حرف . قال ميكاييل استزده استزده حتى بلغ سبعة احرف فكل حرف شاف كاف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ۱؎ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مثل صاحب القران كمثل صاحب الابل المعقلة اذا عاهد عليها امسكها وان اطلقها ذهبت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ۱؎، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے ۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بيسما لاحدهم ان يقول نسيت اية كيت وكيت بل هو نسي استذكروا القران فانه اسرع تفصيا من صدور الرجال من النعم من عقله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں آیت کریمہ: «قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا» ( البقرہ: ۱۳۶ ) اخیر آیت تک، اور دوسری رکعت میں «آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون» ( آل عمران: ۵۲ ) پڑھتے تھے ۱؎۔
اخبرني عمران بن يزيد، قال حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، قال حدثنا عثمان بن حكيم، قال اخبرني سعيد بن يسار، ان ابن عباس، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في ركعتى الفجر في الاولى منهما الاية التي في البقرة { قولوا امنا بالله وما انزل الينا } الى اخر الاية وفي الاخرى { امنا بالله واشهد بانا مسلمون}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد»پڑھی۔
اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم، دحيم قال حدثنا مروان، قال حدثنا يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا في ركعتى الفجر { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی سنتیں پڑھتے دیکھتی، آپ انہیں اتنی ہلکی پڑھتے کہ میں ( اپنے جی میں ) کہتی تھی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے ( یا نہیں ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عمرة، عن عايشة، قالت ان كنت لارى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي ركعتى الفجر فيخففهما حتى اقول اقرا فيهما بام الكتاب
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، اس میں آپ نے سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی، تو آپ کو شک ہو گیا، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، اور ٹھیک سے طہارت حاصل نہیں کرتے، یہی لوگ ہمیں قرآت میں شک میں ڈال دیتے ہیں ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال انبانا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن شبيب ابي روح، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى صلاة الصبح فقرا الروم فالتبس عليه فلما صلى قال " ما بال اقوام يصلون معنا لا يحسنون الطهور فانما يلبس علينا القران اوليك
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال انبانا سليمان التيمي، عن سيار، - يعني ابن سلامة - عن ابي برزة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الغداة بالستين الى الماية
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( سن سن کر ) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں ( بکثرت ) پڑھا کرتے تھے۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا ابن ابي الرجال، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن ام هشام بنت حارثة بن النعمان، قالت ما اخذت { ق والقران المجيد } الا من وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بها في الصبح
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، ومحمد بن عبد الاعلى، - واللفظ له - قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن زياد بن علاقة، قال سمعت عمي، يقول صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح فقرا في احدى الركعتين { والنخل باسقات لها طلع نضيد } قال شعبة فلقيته في السوق في الزحام فقال { ق}
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا۔
اخبرنا محمد بن ابان البلخي، قال حدثنا وكيع بن الجراح، عن مسعر، والمسعودي، عن الوليد بن سريع، عن عمرو بن حريث، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الفجر { اذا الشمس كورت}
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں انہیں دونوں سورتوں کے ذریعہ ہماری امامت فرمائی۔
اخبرنا موسى بن حزام الترمذي، وهارون بن عبد الله، - واللفظ له - قالا حدثنا ابو اسامة، قال اخبرني سفيان، عن معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن عقبة بن عامر، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم عن المعوذتين قال عقبة فامنا بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الفجر
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي عمران، اسلم عن عقبة بن عامر، قال اتبعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو راكب فوضعت يدي على قدمه فقلت اقريني يا رسول الله سورة هود وسورة يوسف . فقال " لن تقرا شييا ابلغ عند الله من { قل اعوذ برب الفلق } و { قل اعوذ برب الناس}
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے اوپر کچھ ایسی آیتیں اتریں ہیں جن کی طرح ( کوئی اور آیتیں ) نہیں دیکھی گئیں، وہ ہیں { «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۔}
اخبرني محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن بيان، عن قيس، عن عقبة بن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايات انزلت على الليلة لم ير مثلهن قط { قل اعوذ برب الفلق } و { قل اعوذ برب الناس}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الم تنزیل» ( سورۃ الم سجدہ ) اور «ھل أتی» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا سفيان، ح وانبانا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، - واللفظ له - عن سعد بن ابراهيم، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الصبح يوم الجمعة { الم * تنزيل } و { هل اتى}