Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں «تنزیل سجدہ» ( سورۃ السجدہ ) اور «ھل أتی علی الإنسان» ( سورۃ دھر ) پڑھتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، ح واخبرنا علي بن حجر، قال انبانا شريك، - واللفظ له - عن المخول بن راشد، عن مسلم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الصبح يوم الجمعة { تنزيل } السجدة و { هل اتى على الانسان}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «ص» میں سجدہ کیا، اور فرمایا: داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ ( توبہ کی قبولیت پر ) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن المقسمي، قال حدثنا حجاج بن محمد، عن عمر بن ذر، عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد في { ص } وقال " سجدها داود توبة ونسجدها شكرا
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سورۃ النجم پڑھی، تو آپ نے سجدہ کیا، اور جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے اپنا سر اٹھائے رکھا، اور سجدہ کرنے سے انکار کیا، ( راوی کہتے ہیں ) ان دنوں مطلب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
اخبرنا عبد الملك بن عبد الحميد بن ميمون بن مهران، قال حدثنا ابن حنبل، قال حدثنا ابراهيم بن خالد، قال حدثنا رباح، عن معمر، عن ابن طاوس، عن عكرمة بن خالد، عن جعفر بن المطلب بن ابي وداعة، عن ابيه، قال قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة سورة النجم فسجد وسجد من عنده فرفعت راسي وابيت ان اسجد ولم يكن يوميذ اسلم المطلب
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی، تو اس میں آپ نے سجدہ کیا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا النجم فسجد فيها
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ۱؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والنجم اذا ھوی» پڑھ کر سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا ۲؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، - وهو ابن جعفر - عن يزيد بن خصيفة، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن عطاء بن يسار، انه اخبره انه، سال زيد بن ثابت عن القراءة، مع الامام فقال لا قراءة مع الامام في شىء وزعم انه قرا على رسول الله صلى الله عليه وسلم { والنجم اذا هوى } فلم يسجد
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «إذا السماء انشقت» پڑھ کر سنایا تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا، جب وہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کیا تھا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن يزيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قرا بهم { اذا السماء انشقت } فسجد فيها فلما انصرف اخبرهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سجد فيها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا ابن ابي فديك، قال انبانا ابن ابي ذيب، عن عبد العزيز بن عياش، عن ابن قيس، - وهو محمد - عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في { اذا السماء انشقت}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، قال سجدنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في { اذا السماء انشقت } و { اقرا باسم ربك}
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا، اور جو ان دونوں سے بہتر تھے انہوں نے بھی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا قرة بن خالد، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال سجد ابو بكر وعمر - رضى الله عنهما - في { اذا السماء انشقت } ومن هو خير منهما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے، انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المعتمر، عن قرة، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال سجد ابو بكر وعمر - رضى الله عنهما - ومن هو خير منهما صلى الله عليه وسلم في { اذا السماء انشقت } و { اقرا باسم ربك}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن عطاء بن ميناء، عن ابي هريرة، ووكيع، عن سفيان، عن ايوب بن موسى، عن عطاء بن ميناء، عن ابي هريرة، قال سجدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في { اذا السماء انشقت } و { اقرا باسم ربك}
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء یعنی عتمہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ «إذا السماء انشقت» پڑھی، اور اس میں سجدہ کیا، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! اسے تو ہم کبھی نہیں کرتے تھے، انہوں نے کہا: اسے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، اور میں آپ کے پیچھے تھا، میں یہ سجدہ برابر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سليم، - وهو ابن اخضر - عن التيمي، قال حدثني بكر بن عبد الله المزني، عن ابي رافع، قال صليت خلف ابي هريرة صلاة العشاء - يعني العتمة - فقرا سورة { اذا السماء انشقت } فسجد فيها فلما فرغ قلت يا ابا هريرة هذه - يعني سجدة - ما كنا نسجدها . قال سجد بها ابو القاسم صلى الله عليه وسلم وانا خلفه فلا ازال اسجد بها حتى القى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
عطاء کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن رقبة، عن عطاء، قال قال ابو هريرة كل صلاة يقرا فيها فما اسمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعناكم وما اخفاها اخفينا منكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال انبانا خالد، قال حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال في كل صلاة قراءة فما اسمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعناكم وما اخفاها اخفينا منكم
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر پڑھتے تھے، تو ہم آپ سے سورۃ لقمان اور سورۃ والذاریات کی ایک آدھ آیت کئی آیتوں کے بعد سن لیتے تھے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن ابراهيم بن صدران، قال حدثنا سلم بن قتيبة، قال حدثنا هاشم بن البريد، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كنا نصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم الظهر فنسمع منه الاية بعد الايات من سورة لقمان والذاريات
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی، تو آپ نے ( ظہر کی ) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی۔
اخبرنا محمد بن شجاع المروذي، قال حدثنا ابو عبيدة، عن عبد الله بن عبيد، قال سمعت ابا بكر بن النضر، قال كنا بالطف عند انس فصلى بهم الظهر فلما فرغ قال اني صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الظهر فقرا لنا بهاتين السورتين في الركعتين ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { هل اتاك حديث الغاشية}
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا، پھر وضو کرتا اور واپس آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، ( کیونکہ ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا الوليد، عن سعيد بن عبد العزيز، عن عطية بن قيس، عن قزعة، عن ابي سعيد الخدري، قال لقد كانت صلاة الظهر تقام فيذهب الذاهب الى البقيع فيقضي حاجته ثم يتوضا ثم يجي ورسول الله صلى الله عليه وسلم في الركعة الاولى يطولها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ۱؎۔
اخبرني يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، - وهو القناد - قال حدثنا خالد، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، ان عبد الله بن ابي قتادة، حدثه عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال كان يصلي بنا الظهر فيقرا في الركعتين الاوليين يسمعنا الاية كذلك وكان يطيل الركعة في صلاة الظهر والركعة الاولى يعني في صلاة الصبح
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔
اخبرنا عمران بن يزيد بن خالد بن مسلم، - يعرف بابن ابي جميل الدمشقي - قال حدثنا اسماعيل بن عبد الله بن سماعة، قال حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني عبد الله بن ابي قتادة، قال حدثنا ابي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا بام القران وسورتين في الركعتين الاوليين من صلاة الظهر وصلاة العصر ويسمعنا الاية احيانا وكان يطيل في الركعة الاولى