احادیث
#931
سنن نسائی - The Commencement of the Prayer
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آ گئی، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیسے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا رفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع، عن عم، ابيه معاذ بن رفاعة بن رافع عن ابيه، قال صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم فعطست فقلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى . فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فقال " من المتكلم في الصلاة " . فلم يكلمه احد ثم قالها الثانية " من المتكلم في الصلاة " . فقال رفاعة بن رافع بن عفراء انا يا رسول الله . قال " كيف قلت " . قال قلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لقد ابتدرها بضعة وثلاثون ملكا ايهم يصعد بها
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- The Commencement of the Prayer
- Hadith Index
- #931
- Book Index
- 56
Grades
- Abu GhuddahHasan
- Al-AlbaniHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
