Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا زايدة، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن خثيم، عن عمرو بن ميمون، عن ابن ابي ليلى، عن امراة، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " { قل هو الله احد } ثلث القران " . قال ابو عبد الرحمن ما اعرف اسنادا اطول من هذا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی، تو انہوں نے قرأت لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» کیوں نہیں پڑھتے؟ ۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن محارب بن دثار، عن جابر، قال قام معاذ فصلى العشاء الاخرة فطول فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افتان يا معاذ افتان يا معاذ اين كنت عن { سبح اسم ربك الاعلى } والضحى و { اذا السماء انفطرت}
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو عشاء پڑھائی تو انہوں نے قرأت ان پر طویل کر دی، تو ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی ( اور الگ نماز پڑھ لی ) معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے، جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ بپا کرنا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھا کرو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال صلى معاذ بن جبل لاصحابه العشاء فطول عليهم فانصرف رجل منا فاخبر معاذ عنه فقال انه منافق . فلما بلغ ذلك الرجل دخل على النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بما قال معاذ . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اتريد ان تكون فتانا يا معاذ اذا اممت الناس فاقرا بالشمس وضحاها و { سبح اسم ربك الاعلى } و { والليل اذا يغشى } و { اقرا باسم ربك}
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، قال حدثنا ابي قال، انبانا الحسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة العشاء الاخرة بالشمس وضحاها واشباهها من السور
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں «والتین والزیتون»پڑھی۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العتمة فقرا فيها بالتين والزيتون
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی پہلی رکعت میں «والتین والزیتون» پڑھی۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقرا في العشاء في الركعة الاولى بالتين والزيتون
ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ۱؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے مجھے یہی توقع ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا شعبة، قال حدثني ابو عون، قال سمعت جابر بن سمرة، يقول قال عمر لسعد قد شكاك الناس في كل شىء حتى في الصلاة . فقال سعد اتيد في الاوليين واحذف في الاخريين وما الو ما اقتديت به من صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ذاك الظن بك
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آئے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، ( عمر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھاتا ہوں، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے یہی توقع ہے۔
اخبرنا حماد بن اسماعيل بن ابراهيم ابن علية ابو الحسن، قال حدثنا ابي، عن داود الطايي، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، قال وقع ناس من اهل الكوفة في سعد عند عمر فقالوا والله ما يحسن الصلاة . فقال اما انا فاصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا اخرم عنها اركد في الاوليين واحذف في الاخريين . قال ذاك الظن بك
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعتوں میں پڑھتے تھے، پھر انہوں نے علقمہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور اندر لے گئے، پھر علقمہ رضی اللہ عنہ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال اني لاعرف النظاير التي كان يقرا بهن رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرين سورة في عشر ركعات ثم اخذ بيد علقمة فدخل ثم خرج الينا علقمة فسالناه فاخبرنا بهن
ابووائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت ابا وايل، يقول قال رجل عند عبد الله قرات المفصل في ركعة . قال هذا كهذ الشعر لقد عرفت النظاير التي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرن بينهن . فذكر عشرين سورة من المفصل سورتين سورتين في ركعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «حمٓ» سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن رجاء، قال انبانا اسراييل، عن ابي حصين، عن يحيى بن وثاب، عن مسروق، عن عبد الله، واتاه، رجل فقال اني قرات الليلة المفصل في ركعة . فقال هذا كهذ الشعر لكن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا النظاير عشرين سورة من المفصل من ال حم
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، قال اخبرني محمد بن عباد، حديثا رفعه الى ابن سفيان عن عبد الله بن السايب، قال حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح فصلى في قبل الكعبة فخلع نعليه فوضعهما عن يساره فافتتح بسورة المومنين فلما جاء ذكر موسى او عيسى - عليهما السلام - اخذته سعلة فركع
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، تو آپ نے قرأت کی، آپ جب کسی عذاب کی آیت سے گزرتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے، اور پناہ مانگتے، اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو دعا کرتے ۱؎، اور رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، وعبد الرحمن، وابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن سعد بن عبيدة، عن المستورد بن الاحنف، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، انه صلى الى جنب النبي صلى الله عليه وسلم ليلة فقرا فكان اذا مر باية عذاب وقف وتعوذ واذا مر باية رحمة وقف فدعا وكان يقول في ركوعه " سبحان ربي العظيم " . وفي سجوده " سبحان ربي الاعلى
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں تین سورتیں: بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، آپ جب بھی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ( اللہ سے ) رحمت کی درخواست کرتے، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو ( عذاب سے ) اللہ کی پناہ مانگتے۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن حفص بن غياث، عن العلاء بن المسيب، عن عمرو بن مرة، عن طلحة بن يزيد، عن حذيفة، والاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن المستورد بن الاحنف، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا البقرة وال عمران والنساء في ركعة لا يمر باية رحمة الا سال ولا باية عذاب الا استجار
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کر دی، وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو ( غالب و زبردست ) ہے، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے ( المائدہ: ۱۱۸ ) ۔
اخبرنا نوح بن حبيب، قال حدثنا يحيى بن سعيد القطان، قال حدثنا قدامة بن عبد الله، قال حدثتني جسرة بنت دجاجة، قالت سمعت ابا ذر، يقول قام النبي صلى الله عليه وسلم حتى اصبح باية والاية { ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، ( ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔
اخبرنا احمد بن منيع، ويعقوب بن ابراهيم الدورقي، قالا حدثنا هشيم، قال حدثنا ابو بشر، جعفر بن ابي وحشية - وهو ابن اياس - عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله عز وجل { ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها } قال نزلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم مختف بمكة فكان اذا صلى باصحابه رفع صوته - وقال ابن منيع يجهر بالقران - وكان المشركون اذا سمعوا صوته سبوا القران ومن انزله ومن جاء به فقال الله عز وجل لنبيه صلى الله عليه وسلم { ولا تجهر بصلاتك } اى بقراءتك فيسمع المشركون فيسبوا القران { ولا تخافت بها } عن اصحابك فلا يسمعوا { وابتغ بين ذلك سبيلا}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، تو جب مشرک آپ کی آواز سنتے تو وہ قرآن کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا بھلا کہتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو اتنی پست آواز سے پڑھنے لگے کہ آپ کے ساتھی بھی نہیں سن پاتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» یعنی اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں، اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان کے بیچ کا راستہ اختیار کریں ( بنی اسرائیل: ۱۱۰ ) ۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن جعفر بن اياس، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يرفع صوته بالقران وكان المشركون اذا سمعوا صوته سبوا القران ومن جاء به فكان النبي صلى الله عليه وسلم يخفض صوته بالقران ما كان يسمعه اصحابه فانزل الله عز وجل { ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا}
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سنتی تھی، اور میں اپنی چھت پر ہوتی تھی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، عن وكيع، قال حدثنا مسعر، عن ابي العلاء، عن يحيى بن جعدة، عن ام هاني، قالت كنت اسمع قراءة النبي صلى الله عليه وسلم وانا على عريشي
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا جرير بن حازم، عن قتادة، قال سالت انسا كيف كانت قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان يمد صوته مدا
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت بخشو ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن طلحة بن مصرف، عن عبد الرحمن بن عوسجة، عن البراء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زينوا القران باصواتكم