Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو ۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ کہتے ہیں: میں اس جملے «زينوا القرآن» کو بھول گیا تھا یہاں تک کہ مجھے ضحاک بن مزاحم نے یاد دلایا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثني طلحة، عن عبد الرحمن بن عوسجة، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زينوا القران باصواتكم " . قال ابن عوسجة كنت نسيت هذه " زينوا القران " . حتى ذكرنيه الضحاك بن مزاحم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی چیز اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو ۔
اخبرنا محمد بن زنبور المكي، قال حدثنا ابن ابي حازم، عن يزيد بن عبد الله، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما اذن الله لشىء ما اذن لنبي حسن الصوت يتغنى بالقران يجهر به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی کے خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کو اللہ تعالیٰ جس طرح سنتا ہے اس طرح کسی اور چیز کو نہیں سنتا ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما اذن الله عز وجل لشىء يعني اذنه لنبي يتغنى بالقران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں آل داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان ابن شهاب، اخبره ان ابا سلمة اخبره ان ابا هريرة حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع قراءة ابي موسى فقال " لقد اوتي مزمارا من مزامير ال داود عليه السلام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: یقیناً انہیں آل داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار، عن سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت سمع النبي صلى الله عليه وسلم قراءة ابي موسى فقال " لقد اوتي هذا من مزامير ال داود عليه السلام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قراءة ابي موسى فقال " لقد اوتي هذا مزمارا من مزامير ال داود عليه السلام
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، عن عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، انه سال ام سلمة عن قراءة، رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلاته قالت ما لكم وصلاته ثم نعتت فاذا هي تنعت قراءته مفسرة حرفا حرفا
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جس وقت مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب وہ رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده»، «ربنا ولك الحمد» کہتے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب تشہد کے بعد دوسری رکعت سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، ( ہر رکعت میں ) اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لیتے، ( ایک بار ) جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، حين استخلفه مروان على المدينة كان اذا قام الى الصلاة المكتوبة كبر ثم يكبر حين يركع فاذا رفع راسه من الركعة قال سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ثم يكبر حين يهوي ساجدا ثم يكبر حين يقوم من الثنتين بعد التشهد يفعل مثل ذلك حتى يقضي صلاته فاذا قضى صلاته وسلم اقبل على اهل المسجد فقال والذي نفسي بيده اني لاشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی کانوں کی لو تک پہنچ جاتے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن سعيد، عن قتادة، عن نصر بن عاصم الليثي، عن مالك بن الحويرث، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه اذا كبر واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع حتى بلغتا فروع اذنيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ انہیں اپنے مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے ۱؎، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة يرفع يديه حتى يحاذي منكبيه واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، عن عبد الله، قال الا اخبركم بصلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فقام فرفع يديه اول مرة ثم لم يعد
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی نماز کافی نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ برابر نہ رکھے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الفضيل، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجزي صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکوع اور سجدے میں سیدھے رہو ۱؎ اور تم میں سے کوئی بھی اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن سعيد بن ابي عروبة، وحماد بن سلمة، عن قتادة، عن انس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اعتدلوا في الركوع والسجود ولا يبسط احدكم ذراعيه كالكلب