Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے، اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو چھپی رہے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زین کے اوپر انتہائی سرخ ریشمی کپڑا ڈالنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " ان خير طيب الرجل ما ظهر ريحه وخفي لونه وخير طيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه " . ونهى عن ميثرة الارجوان . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انس رضی الله عنہ خوشبو ( کی چیز ) واپس نہیں کرتے تھے، اور انس رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہ کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا عزرة بن ثابت، عن ثمامة بن عبد الله، قال كان انس لا يرد الطيب . وقال انس ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يرد الطيب . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ( ہدیہ و تحفہ میں آئیں ) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے، دہن، اور دودھ، دہن ( تیل ) سے مراد خوشبو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبداللہ یہ مسلم بن جندب کے بیٹے ہیں اور مدنی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد الله بن مسلم، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث لا ترد الوسايد والدهن واللبن " . الدهن يعني به الطيب . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وعبد الله هو ابن مسلم بن جندب وهو مدني
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ جنت سے نکلی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حنان ( نام کے ) راوی کو ہم صرف اسی حدیث میں پاتے ہیں، ۳- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا لیکن انہیں آپ کا دیدار نصیب نہ ہوا اور نہ ہی آپ سے کوئی حدیث سن سکے۔
حدثنا محمد بن خليفة ابو عبد الله، - بصري - وعمرو بن علي قالا حدثنا يزيد بن زريع، عن حجاج الصواف، عن حنان، عن ابي عثمان النهدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اعطي احدكم الريحان فلا يرده فانه خرج من الجنة " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . ولا نعرف حنانا الا في هذا الحديث وابو عثمان النهدي اسمه عبد الرحمن بن مل وقد ادرك زمن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يره ولم يسمع منه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت سے نہ چمٹے یہاں تک کہ وہ اسے اپنے شوہر سے اس طرح بیان کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تباشر المراة المراة حتى تصفها لزوجها كانما ينظر اليها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا زيد بن حباب، اخبرني الضحاك بن عثمان، اخبرني زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينظر الرجل الى عورة الرجل ولا تنظر المراة الى عورة المراة ولا يفضي الرجل الى الرجل في الثوب الواحد ولا تفضي المراة الى المراة في الثوب الواحد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے نبی! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ“، میں نے پھر کہا: جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں ( تو ہم کیا اور کیسے کریں؟ ) آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے پھر کہا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا معاذ بن معاذ، ويزيد بن هارون، قالا حدثنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قلت يا نبي الله عوراتنا ما ناتي منها وما نذر قال " احفظ عورتك الا من زوجتك او ما ملكت يمينك " . قلت يا رسول الله اذا كان القوم بعضهم في بعض قال " ان استطعت ان لا يراها احد فلا يرينها " . قال قلت يا نبي الله اذا كان احدنا خاليا قال " فالله احق ان يستحيي منه الناس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
جرہد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس ( یعنی میرے پاس سے ) سے گزرے ( اس وقت ) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن زرعة بن مسلم بن جرهد الاسلمي، عن جده، جرهد قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بجرهد في المسجد وقد انكشف فخذه فقال " ان الفخذ عورة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن ما ارى اسناده بمتصل
جرہد اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ران ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی اور محمد بن عبداللہ بن جحش سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور عبداللہ بن جحش اور ان کے بیٹے محمد رضی الله عنہما دونوں صحابی رسول ہیں۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن ابي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الفخذ عورة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا يحيى بن ادم، عن الحسن بن صالح، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن عبد الله بن جرهد الاسلمي، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الفخذ عورة " قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن علي ومحمد بن عبد الله بن جحش ولعبد الله بن جحش صحبة ولابنه محمد صحبة
جرہد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی ران کھولے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران ڈھانپ لو کیونکہ یہ ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابي الزناد، اخبرني ابن جرهد، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو كاشف عن فخذه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " غط فخذك فانها من العورة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
صالح بن ابی حسان کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا: اللہ طیب ( پاک ) ہے اور پاکی ( صفائی و ستھرائی ) کو پسند کرتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ سخی و فیاض ہے اور جود و سخا کو پسند کرتا ہے، تو پاک و صاف رکھو۔ ( میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا ) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو“۔ ( صالح کہتے ہیں ) میں نے اس ( روایت ) کا مہاجر بن مسمار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس کو عامر بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ البتہ مہاجر نے «نظفوا أفنيتكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- خالد بن الیاس ضعیف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا خالد بن الياس، ويقال ابن اياس، عن صالح بن ابي حسان، قال سمعت سعيد بن المسيب، يقول ان الله طيب يحب الطيب نظيف يحب النظافة كريم يحب الكرم جواد يحب الجود فنظفوا اراه قال افنيتكم ولا تشبهوا باليهود . قال فذكرت ذلك لمهاجر بن مسمار فقال حدثنيه عامر بن سعد بن ابي وقاص عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله الا انه قال نظفوا افنيتكم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وخالد بن الياس يضعف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ننگے ہونے سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ( فرشتے ) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے۔ اس لیے تم ان ( فرشتوں ) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد بن نيزك البغدادي، حدثنا الاسود بن عامر، حدثنا ابو محياة، عن ليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والتعري فان معكم من لا يفارقكم الا عند الغايط وحين يفضي الرجل الى اهله فاستحيوهم واكرموهم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وابو محياة اسمه يحيى بن يعلى
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہہ بند باندھے بغیر غسل خانہ ( حمام ) میں داخل نہ ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو غسل خانہ ( حمام ) میں نہ بھیجے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں، لیکن بسا اوقات وہ وہم کر جاتے ہیں، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: لیث کی حدیث سے دل خوش نہیں ہوتا۔ لیث بعض ایسی حدیثوں کو مرفوع بیان کر دیتے تھے جسے دوسرے لوگ مرفوع نہیں کرتے تھے۔ انہیں وجوہات سے لوگوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، حدثنا مصعب بن المقدام، عن الحسن بن صالح، عن ليث بن ابي سليم، عن طاوس، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يدخل الحمام بغير ازار ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يدخل حليلته الحمام ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يجلس على مايدة يدار عليها بالخمر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث طاوس عن جابر الا من هذا الوجه . قال محمد بن اسماعيل ليث بن ابي سليم صدوق وربما يهم في الشىء . قال محمد بن اسماعيل وقال احمد بن حنبل ليث لا يفرح بحديثه كان ليث يرفع اشياء لا يرفعها غيره فلذلك ضعفوه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند ویسی مضبوط نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا حماد بن سلمة، عن عبد الله بن شداد الاعرج، عن ابي عذرة، وكان، قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى الرجال والنساء عن الحمامات ثم رخص للرجال في الميازر . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث حماد بن سلمة واسناده ليس بذاك القايم
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان سے حجاب کا پردہ اٹھا دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن منصور، قال سمعت سالم بن ابي الجعد، يحدث عن ابي المليح الهذلي، ان نساء، من اهل حمص او من اهل الشام دخلن على عايشة فقالت انتن اللاتي يدخلن نساوكن الحمامات سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من امراة تضع ثيابها في غير بيت زوجها الا هتكت الستر بينها وبين ربها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں جاندار مجسموں کی تصویر ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، والحسن بن علي الخلال، وعبد بن حميد، وغير، واحد، واللفظ، للحسن بن علي قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، انه سمع ابن عباس، يقول سمعت ابا طلحة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تدخل الملايكة بيتا فيه كلب ولا صورة تماثيل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے ہوں یا تصویر ہو“، ( اس حدیث میں اسحاق راوی کو شک ہو گیا کہ ان کے استاد نے «تماثیل» اور «صورة» دونوں میں سے کیا کہا؟ انہیں یاد نہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا مالك بن انس، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، ان رافع بن اسحاق، اخبره قال دخلت انا وعبد الله بن ابي طلحة، على ابي سعيد الخدري نعوده فقال ابو سعيد اخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الملايكة لا تدخل بيتا فيه تماثيل او صورة . شك اسحاق لا يدري ايهما قال . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ”کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر مردوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے پردے پر بھی تصویریں تھیں۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، تو آپ ایسا کریں کہ دروازے کی «تماثیل» ( مجسموں ) کے سر کو اڑوا دیجئیے کہ وہ مجسمے پیڑ جیسے ہو جائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئیے جو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چنانچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابوطلحہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا يونس بن ابي اسحاق، حدثنا مجاهد، قال حدثنا ابو هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني جبريل فقال اني كنت اتيتك البارحة فلم يمنعني ان اكون دخلت عليك البيت الذي كنت فيه الا انه كان في باب البيت تمثال الرجال وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب فمر براس التمثال الذي بالباب فليقطع فيصير كهيية الشجرة ومر بالستر فليقطع ويجعل منه وسادتين منتبذتين يوطان ومر بالكلب فيخرج " . ففعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ذلك الكلب جروا للحسن او الحسين تحت نضد له فامر به فاخرج . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عايشة وابي طلحة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو ( یعنی زرد رنگ کا نہ ہو ) ۔
حدثنا عباس بن محمد البغدادي، حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا اسراييل، عن ابي يحيى، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال مر رجل وعليه ثوبان احمران فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فلم يرد النبي صلى الله عليه وسلم عليه السلام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . ومعنى هذا الحديث عند اهل العلم انهم كرهوا لبس المعصفر وراوا ان ما صبغ بالحمرة بالمدر او غير ذلك فلا باس به اذا لم يكن معصفرا