Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے ( ریشم ملے ہوئے ) کپڑے پہننے سے، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن هبيرة بن يريم، قال قال علي بن ابي طالب نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن القسي وعن الميثرة وعن الجعة . قال ابو الاحوص وهو شراب يتخذ بمصر من الشعير . قال هذا حديث حسن صحيح
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں۔ مریض کی عیادت کریں، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں، اور سلام کا جواب دیں کا، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر، دیباج، استبرق اور قسی کے پہننے سے ( یہ سب ریشمی کپڑے ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اشعث بن سلیم: یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع ونهانا عن سبع امرنا باتباع الجنازة وعيادة المريض وتشميت العاطس واجابة الداعي ونصر المظلوم وابرار القسم ورد السلام ونهانا عن سبع عن خاتم الذهب او حلقة الذهب وانية الفضة ولبس الحرير والديباج والاستبرق والقسي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . واشعث بن سليم هو اشعث بن ابي الشعثاء وابو الشعثاء اسمه سليم بن الاسود
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البسوا البياض فانها اطهر واطيب وكفنوا فيها موتاكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن عباس وابن عمر
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کو دیکھنے لگا اور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ ان دونوں میں کون زیادہ خوبصورت ہے ) آپ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے ۱؎، اور آپ مجھے چاند سے بھی زیادہ حسین نظر آ رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اشعث کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا عبثر بن القاسم، عن الاشعث، وهو ابن سوار عن ابي اسحاق، عن جابر بن سمرة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ليلة اضحيان فجعلت انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم والى القمر وعليه حلة حمراء فاذا هو عندي احسن من القمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الاشعث
وروى شعبة، والثوري، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال رايت على رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة حمراء . حدثنا بذلك محمود بن غيلان حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن ابي اسحاق وحدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن ابي اسحاق بهذا . وفي الحديث كلام اكثر من هذا . قال سالت محمدا قلت له حديث ابي اسحاق عن البراء اصح او حديث جابر بن سمرة فراى كلا الحديثين صحيحا . وفي الباب عن البراء وابي جحيفة
ابورمثہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سبز کپڑے استعمال کئے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبیداللہ بن ایاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- ابورمثہ تیمی کا نام حبیب بن حیان ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام رفاعہ بن یثربی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا عبيد الله بن اياد بن لقيط، عن ابيه، عن ابي رمثة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه بردان اخضران . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عبيد الله بن اياد . وابو رمثة التيمي يقال اسمه حبيب بن حيان ويقال اسمه رفاعة بن يثربي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکلے، اس وقت آپ کالے بالوں کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، اخبرني ابي، عن مصعب بن شيبة، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، قالت خرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات غداة وعليه مرط من شعر اسود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر انہوں نے پوری لمبی حدیث بیان کی ( اس میں ہے کہ ) ایک شخص اس وقت آیا جب سورج چڑھ آیا تھا۔ اس نے کہا: «السلام علیک یا رسول اللہ» ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام ورحمة اللہ»، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے جسم ) پر دو پرانے کپڑے تھے۔ وہ زعفران سے رنگے ہوئے تھے، اور کثرت استعمال سے ان کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا ۱؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: قیلہ کی حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عفان بن مسلم الصفار ابو عثمان، حدثنا عبد الله بن حسان، انه حدثته جدتاه، صفية بنت عليبة ودحيبة بنت عليبة حدثتاه عن قيلة بنت مخرمة، وكانتا، ربيبتيها وقيلة جدة ابيهما ام امه انها قالت قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت الحديث بطوله حتى جاء رجل وقد ارتفعت الشمس فقال السلام عليك يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك السلام ورحمة الله " . وعليه تعني النبي صلى الله عليه وسلم - اسمال مليتين كانتا بزعفران وقد نفضتا ومع النبي صلى الله عليه وسلم عسيب نخلة . قال ابو عيسى حديث قيلة لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن حسان
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کو ) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، قال ح وحدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن زيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التزعفر للرجال . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى شعبة، هذا الحديث عن اسماعيل ابن علية، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن التزعفر . حدثنا بذلك عبد الله بن عبد الرحمن حدثنا ادم عن شعبة . قال ابو عيسى ومعنى كراهية التزعفر للرجال ان يتزعفر الرجل يعني ان يتطيب به
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کو ) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، قال ح وحدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن زيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التزعفر للرجال . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى شعبة، هذا الحديث عن اسماعيل ابن علية، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن التزعفر . حدثنا بذلك عبد الله بن عبد الرحمن حدثنا ادم عن شعبة . قال ابو عيسى ومعنى كراهية التزعفر للرجال ان يتزعفر الرجل يعني ان يتطيب به
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر ( آئندہ کبھی ) نہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے، ۳- علی ( علی ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے ( پہلے ) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں، ۴- شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے۔ ( اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے ) ، ۵- کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا، ۶- اس باب میں عمار، ابوموسیٰ، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، عن شعبة، عن عطاء بن السايب، قال سمعت ابا حفص بن عمر، يحدث عن يعلى بن مرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم ابصر رجلا متخلقا قال " اذهب فاغسله ثم اغسله ثم لا تعد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد اختلف بعضهم في هذا الاسناد عن عطاء بن السايب . قال علي قال يحيى بن سعيد من سمع من عطاء بن السايب قديما فسماعه صحيح وسماع شعبة وسفيان من عطاء بن السايب صحيح الا حديثين عن عطاء بن السايب عن زاذان قال شعبة سمعتهما منه باخرة . قال ابو عيسى يقال ان عطاء بن السايب كان في اخر امره قد ساء حفظه . وفي الباب عن عمار وابي موسى وانس وابو حفص هو ابو حفص بن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی الله عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں «حریر» ( ریشمی کپڑا ) پہنا تو وہ اسے آخرت ( یعنی جنت ) میں نہ پہنے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو سے مروی ہے۔ ان کا نام عبداللہ اور ان کی کنیت ابوعمرو ہے، ان سے عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، حذیفہ، انس رضی الله عنہم اور دیگر کئی لوگوں سے بھی احادیث آئی ہیں، جن کا ذکر ہم کتاب اللباس میں کر چکے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، حدثني مولى، اسماء عن ابن عمر، قال سمعت عمر، يذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الاخرة " . وفي الباب عن علي وحذيفة وانس وغير واحد وقد ذكرناه في كتاب اللباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح قد روي من غير وجه عن عمر . ومولى اسماء بنت ابي بكر الصديق اسمه عبد الله ويكنى ابا عمر وقد روى عنه عطاء بن ابي رباح وعمرو بن دينار
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، اور مخرمہ کو ( ان میں سے ) کچھ نہ دیا۔ مخرمہ رضی الله عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر چلو، تو میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا: تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ، چنانچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر تشریف لائے۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی“، آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی“۔ مسور کہتے ہیں: پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے: مخرمہ اسے پا کر خوش ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قسم اقبية ولم يعط مخرمة شييا فقال مخرمة يا بنى انطلق بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقت معه قال ادخل فادعه لي فدعوته له فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وعليه قباء منها فقال " خبات لك هذا " . قال فنظر اليه فقال " رضي مخرمة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابن ابي مليكة اسمه عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوالاحوص کے باپ، عمران بن حصین اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا همام، عن قتادة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يحب ان يرى اثر نعمته على عبده " . وفي الباب عن ابي الاحوص عن ابيه وعمران بن حصين وابن مسعود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کالے رنگ کے موزے بھیجے، آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف دلہم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن ربیعہ نے دلہم ( راوی ) سے روایت کی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن دلهم بن صالح، عن حجير بن عبد الله، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النجاشي، اهدى الى النبي صلى الله عليه وسلم خفين اسودين ساذجين فلبسهما ثم توضا ومسح عليهما . قال هذا حديث حسن انما نعرفه من حديث دلهم وقد رواه محمد بن ربيعة عن دلهم
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کے ( سفید ) بال اکھیڑنے سے منع کیا، اور فرمایا ہے: ”یہ تو مسلمان کا نور ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن حارث اور کئی دیگر لوگوں سے یہ حدیث عمر بن شعیب کے واسطہ سے مروی ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن نتف الشيب وقال " انه نور المسلم " . قال هذا حديث حسن قد روي عن عبد الرحمن بن الحارث وغير واحد عن عمرو بن شعيب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے، اور شیبان، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، ۳- ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا: جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ ( یعنی پوری حدیث ) بیان کر دیتا ہوں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا شيبان، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المستشار موتمن " . قال هذا حديث حسن . وقد روى غير واحد عن شيبان بن عبد الرحمن النحوي وشيبان هو صاحب كتاب وهو صحيح الحديث ويكنى ابا معاوية . حدثنا عبد الجبار بن العلاء العطار عن سفيان بن عيينة قال قال عبد الملك بن عمير اني لاحدث الحديث فما ادع منه حرفا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جائے اس کو امین ہونا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث ام سلمہ رضی الله عنہا کی روایت سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن داود بن ابي عبد الله، عن ابن جدعان، عن جدته، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المستشار موتمن " . وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث ام سلمة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے ( ۱ ) عورت میں ( ۲ ) گھر میں ( ۳ ) اور جانور ( گھوڑے ) میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، وحمزة، ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في ثلاثة في المراة والمسكن والدابة ". قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وبعض اصحاب الزهري لا يذكرون فيه عن حمزة انما يقولون عن سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري فقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما وهكذا روى لنا ابن ابي عمر هذا الحديث عن سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه ولم يذكر فيه سعيد بن عبد الرحمن عن حمزة، ورواية، سعيد اصح لان علي بن المديني والحميدي رويا عن سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، وذكرا، عن سفيان، قال لم يرو لنا الزهري هذا الحديث الا عن سالم عن ابن عمر . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري وقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما . وفي الباب عن سهل بن سعد وعايشة وانس . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان كان الشوم في شيء ففي المراة والدابة والمسكن " . وقد روي عن حكيم بن معاوية، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا شوم وقد يكون اليمن في الدار والمراة والفرس " . حدثنا بذلك علي بن حجر حدثنا اسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر الطايي عن معاوية بن حكيم عن عمه حكيم بن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے ( ۱ ) عورت میں ( ۲ ) گھر میں ( ۳ ) اور جانور ( گھوڑے ) میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، وحمزة، ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في ثلاثة في المراة والمسكن والدابة ". قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وبعض اصحاب الزهري لا يذكرون فيه عن حمزة انما يقولون عن سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري فقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما وهكذا روى لنا ابن ابي عمر هذا الحديث عن سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه ولم يذكر فيه سعيد بن عبد الرحمن عن حمزة، ورواية، سعيد اصح لان علي بن المديني والحميدي رويا عن سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، وذكرا، عن سفيان، قال لم يرو لنا الزهري هذا الحديث الا عن سالم عن ابن عمر . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري وقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما . وفي الباب عن سهل بن سعد وعايشة وانس . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان كان الشوم في شيء ففي المراة والدابة والمسكن " . وقد روي عن حكيم بن معاوية، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا شوم وقد يكون اليمن في الدار والمراة والفرس " . حدثنا بذلك علي بن حجر حدثنا اسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر الطايي عن معاوية بن حكيم عن عمه حكيم بن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا