Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حسن سلوک کے چھ عمومی حقوق ہیں، ( ۱ ) جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ( ۲ ) جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، ( ۳ ) جب اسے چھینک آئے ( اور وہ «الحمد لله» کہے ) تو «يرحمك الله» کہہ کر اس کی چھینک کا جواب دے، ( ۴ ) جب وہ بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرے، ( ۵ ) جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ ( قبرستان ) جائے، ( ۶ ) اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- بعض محدثین نے حارث اعور سے متعلق کلام کیا ہے، ۴- اور اس باب میں ابوہریرہ، ابوایوب، براء اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للمسلم على المسلم ست بالمعروف يسلم عليه اذا لقيه ويجيبه اذا دعاه ويشمته اذا عطس ويعوده اذا مرض ويتبع جنازته اذا مات ويحب له ما يحب لنفسه " . وفي الباب عن ابي هريرة وابي ايوب والبراء وابي مسعود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد تكلم بعضهم في الحارث الاعور
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں، ( ۱ ) جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے، ( ۲ ) جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، ( ۳ ) جب دعوت کرے تو قبول کرے، ( ۴ ) جب ملے تو اس سے سلام کرے، ( ۵ ) جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے، ( ۶ ) اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن موسى المخزومي المدني، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للمومن على المومن ست خصال يعوده اذا مرض ويشهده اذا مات ويجيبه اذا دعاه ويسلم عليه اذا لقيه ويشمته اذا عطس وينصح له اذا غاب او شهد " . قال هذا حديث حسن صحيح . ومحمد بن موسى المخزومي المدني ثقة روى عنه عبد العزيز بن محمد وابن ابي فديك
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ» یعنی تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: کہنے کو تو میں بھی «الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ» کہہ سکتا ہوں ۱؎ لیکن اس طرح کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھلایا ہے۔ آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، کہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زیاد بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا زياد بن الربيع، حدثنا حضرمي، مولى ال الجارود عن نافع، ان رجلا، عطس الى جنب ابن عمر فقال الحمد لله والسلام على رسول الله . قال ابن عمر وانا اقول الحمد لله والسلام على رسول الله وليس هكذا علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا ان نقول الحمد لله على كل حال . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث زياد بن الربيع
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تو یہ امید لگا کر چھینکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے «يرحمكم الله» ”اللہ تم پر رحم کرے“ کہیں گے۔ مگر آپ ( اس موقع پر صرف ) «يهديكم الله ويصلح بالكم» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کر دے“ فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوایوب، سالم بن عبید، عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن حكيم بن ديلم، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابي موسى، قال كان اليهود يتعاطسون عند النبي صلى الله عليه وسلم يرجون ان يقول لهم يرحمكم الله . فيقول " يهديكم الله ويصلح بالكم " . وفي الباب عن علي وابي ايوب وسالم بن عبيد وعبد الله بن جعفر وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سالم بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ان میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» ( اس کے جواب میں ) سالم رضی الله عنہ نے کہا: «عليك وعلى وأمك» ( سلام ہے تم پر اور تمہاری ماں پر ) ، یہ بات اس شخص کو ناگوار معلوم ہوئی تو سالم نے کہا: بھئی میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: «عليك وعلى أمك»، ( تم پر اور تمہاری ماں پر بھی سلامتی ہو ) ۔ ( آپ نے آگے فرمایا ) جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے «الحمدللہ رب العالمین» کہنا چاہیئے۔ اور جواب دینے والا «یرحمک اللہ» اور ( چھینکنے والا ) «يغفر الله لي ولكم» کہے، ( نہ کہ «السلام عليك» کہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ ایک ایسی حدیث ہے جس میں منصور سے روایت کرنے میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، لوگوں نے ہلال بن یساف اور سالم کے درمیان ایک اور راوی کو داخل کیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سالم بن عبيد، انه كان مع القوم في سفر فعطس رجل من القوم فقال السلام عليكم . فقال عليك وعلى امك فكان الرجل وجد في نفسه فقال اما اني لم اقل الا ما قال النبي صلى الله عليه وسلم عطس رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عليك وعلى امك اذا عطس احدكم فليقل الحمد لله رب العالمين وليقل له من يرد عليه يرحمك الله وليقل يغفر الله لنا ولكم " . قال ابو عيسى هذا حديث اختلفوا في روايته عن منصور وقد ادخلوا بين هلال بن يساف وسالم رجلا
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله على كل حال» ( تمام تعریفیں ہر حال میں اللہ کے لیے ہیں ) کہے۔ اور جو اس کا جواب دے وہ «يرحمك الله» کہے، اور اس کے جواب میں چھینکنے والا کہے «يهديكم الله ويصلح بالكم» ( اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست فرما دے ) ۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، اخبرني ابن ابي ليلى، عن اخيه، عيسى بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابي ايوب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا عطس احدكم فليقل الحمد لله على كل حال وليقل الذي يرد عليه يرحمك الله وليقل هو يهديكم الله ويصلح بالكم
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابن ابي ليلى، بهذا الاسناد نحوه . قال هكذا روى شعبة، هذا الحديث عن ابن ابي ليلى، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم . وكان ابن ابي ليلى يضطرب في هذا الحديث يقول احيانا عن ابي ايوب عن النبي صلى الله عليه وسلم ويقول احيانا عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن يحيى الثقفي المروزي، قالا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابن ابي ليلى، عن اخيه، عيسى عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ایک کی چھینک پر «يرحمك الله» کہہ کر دعا دی اور دوسرے کی چھینک کا آپ نے جواب نہیں دیا، تو جس کی چھینک کا آپ نے جواب نہ دیا تھا اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی چھینک پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا دی اور میری چھینک پر آپ نے مجھے یہ دعا نہیں دی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( چھینک آئی تو ) اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور ( تجھے چھینک آئی تو ) تم نے اس کی حمد نہ کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن سليمان التيمي، عن انس بن مالك، ان رجلين، عطسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت احدهما ولم يشمت الاخر فقال الذي لم يشمته يا رسول الله شمت هذا ولم تشمتني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه حمد الله وانك لم تحمد الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم فرمائے ) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: ”اسے تو زکام ہو گیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال عطس رجل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا شاهد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحمك الله " . ثم عطس الثانية والثالثة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا رجل مزكوم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه الا انه قال له في الثالثة " انت مزكوم " . قال هذا اصح من حديث ابن المبارك
وقد روى شعبة، عن عكرمة بن عمار، هذا الحديث نحو رواية يحيى بن سعيد حدثنا بذلك، احمد بن الحكم البصري حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عكرمة بن عمار، بهذا
وروى عبد الرحمن بن مهدي، عن عكرمة بن عمار، نحو رواية ابن المبارك وقال له في الثالثة " انت مزكوم " . حدثنا بذلك اسحاق بن منصور حدثنا عبد الرحمن بن مهدي
عبید بن رفاعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھینکنے والے کی چھینک کا جواب تین بار دیا جائے گا، اور اگر تین بار سے زیادہ چھینکیں آئیں تو تمہیں اختیار ہے جی چاہے تو جواب دو اور جی چاہے تو نہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند مجہول ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، حدثنا اسحاق بن منصور السلولي الكوفي، عن عبد السلام بن حرب، عن يزيد بن عبد الرحمن ابي خالد الدالاني، عن عمر بن اسحاق بن ابي طلحة، عن امه، عن ابيها، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يشمت العاطس ثلاثا فان زاد فان شيت فشمته وان شيت فلا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب واسناده مجهول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنے ہاتھ سے یا اپنے کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے، اور اپنی آواز کو دھیمی کرتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عجلان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا عطس غطى وجهه بيده او بثوبه وغض بها صوته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھینکنا اللہ کی جانب سے ہے اور جمائی شیطان کی جانب سے ہے۔ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیئے کہ جمائی آتے وقت اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے، اور جب جمائی لینے والا آہ، آہ کرتا ہے تو شیطان جمائی لینے والے کے پیٹ میں گھس کر ہنستا ہے۔ اور بیشک اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند کرتا ہے۔ تو ( جان لو ) کہ آدمی جب جمائی کے وقت آہ آہ کی آواز نکالتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیٹ کے اندر گھس کر ہنستا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العطاس من الله والتثاوب من الشيطان فاذا تثاءب احدكم فليضع يده على فيه واذا قال اه اه فان الشيطان يضحك من جوفه وان الله يحب العطاس ويكره التثاوب فاذا قال الرجل اه اه اذا تثاءب فان الشيطان يضحك في جوفه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الحمد للہ» کہے تو ہر مسلمان کے لیے جو اسے سنے «یرحمک اللہ» کہنا ضروری ہے۔ اب رہی جمائی کی بات تو جس کسی کو جمائی آئے، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی طاقت بھر اسے روکے اور ہاہ ہاہ نہ کہے، کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان اس سے ہنستا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور یہ ابن عجلان کی ( اوپر مذکور ) روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۳- ابن ابی ذئب: سعید مقبری کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ( احفظ ) اور محمد بن عجلان سے زیادہ قوی ( اثبت ) ہیں، ۴- میں نے ابوبکر عطار بصریٰ سے سنا ہے وہ روایت کرتے ہیں: علی بن مدینی کے واسطہ سے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: محمد بن عجلان کہتے ہیں: سعید مقبری کی احادیث کا معاملہ یہ ہے کہ سعید نے بعض حدیثیں ( بلاواسطہ ) ابوہریرہ سے روایت کی ہیں۔ اور بعض حدیثیں بواسطہ ایک شخص کے ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہیں۔ تو وہ سب میرے ذہن میں گڈمڈ ہو گئیں۔ مجھے یاد نہیں رہا کہ بلاواسطہ کون تھیں اور بواسطہ کون؟ تو میں نے سبھی روایتوں کو سعید کے واسطہ سے ابوہریرہ سے روایت کر دی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا ابن ابي ذيب، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يحب العطاس ويكره التثاوب فاذا عطس احدكم فقال الحمد لله فحق على كل من سمعه ان يقول يرحمك الله واما التثاوب فاذا تثاءب احدكم فليرده ما استطاع ولا يقولن هاه هاه فانما ذلك من الشيطان يضحك منه " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح وهذا اصح من حديث ابن عجلان . وابن ابي ذيب احفظ لحديث سعيد المقبري واثبت من محمد بن عجلان . قال سمعت ابا بكر العطار البصري يذكر عن علي بن المديني عن يحيى بن سعيد قال قال محمد بن عجلان احاديث سعيد المقبري روى بعضها سعيد عن ابي هريرة وروى بعضها سعيد عن رجل عن ابي هريرة فاختلطت على فجعلتها عن سعيد عن ابي هريرة
ثابت کے باپ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت «عن عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ» کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دینار ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن ابي اليقظان، عن عدي بن ثابت، عن ابيه، عن جده، رفعه قال " العطاس والنعاس والتثاوب في الصلاة والحيض والقىء والرعاف من الشيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث شريك عن ابي اليقظان . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن عدي بن ثابت عن ابيه عن جده قلت له ما اسم جد عدي قال لا ادري . وذكر عن يحيى بن معين قال اسمه دينار
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقم احدكم اخاه من مجلسه ثم يجلس فيه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ نہ بیٹھ جائے“۔ راوی سالم کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کے احترام میں آدمی ان کے آنے پر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو جاتا تھا لیکن وہ ( اس ممانعت کی وجہ سے ) اس کی جگہ نہیں بیٹھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقم احدكم اخاه من مجلسه ثم يجلس فيه " . قال وكان الرجل يقوم لابن عمر فلا يجلس فيه . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح