Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
وہب بن حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ کا زیادہ مستحق ہے، اگر وہ کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آئے تو وہی اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوبکرہ، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن عمرو بن يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، عن وهب بن حذيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الرجل احق بمجلسه وان خرج لحاجته ثم عاد فهو احق بمجلسه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وفي الباب عن ابي بكرة وابي سعيد وابي هريرة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تفریق پیدا کرے مگر ان کی اجازت سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو عامر احول نے عمرو بن شعیب سے بھی روایت کی ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا اسامة بن زيد، حدثني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل للرجل ان يفرق بين اثنين الا باذنهما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه عامر الاحول عن عمرو بن شعيب ايضا
ابومجلز سے روایت ہے کہ ایک آدمی حلقہ کے بیچ میں بیٹھ گیا، تو حذیفہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ شخص ملعون ہے جو بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلقہ ( دائرہ ) کے بیچ میں جا کر بیٹھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابومجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن ابي مجلز، ان رجلا، قعد وسط حلقة فقال حذيفة ملعون على لسان محمد او لعن الله على لسان محمد صلى الله عليه وسلم - من قعد وسط الحلقة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو مجلز اسمه لاحق بن حميد
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص انہیں یعنی ( صحابہ ) کو رسول اللہ سے زیادہ محبوب نہ تھا کہتے ہیں: ( لیکن ) وہ لوگ آپ کو دیکھ کر ( ادباً ) کھڑے نہ ہوتے تھے۔ اس لیے کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عفان، اخبرنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، قال لم يكن شخص احب اليهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وكانوا اذا راوه لم يقوموا لما يعلمون من كراهيته لذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ باہر نکلے، عبداللہ بن زبیر اور ابن صفوان انہیں دیکھ کر ( احتراماً ) کھڑے ہو گئے۔ تو معاویہ رضی الله عنہ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ ہم سے بیان کیا ہناد نے وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابواسامہ نے اور ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے حبیب بن شہید نے ابومجلز سے ابومجلز نے معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن حبيب بن الشهيد، عن ابي مجلز، قال خرج معاوية فقام عبد الله بن الزبير وابن صفوان حين راوه . فقال اجلسا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سره ان يتمثل له الرجال قياما فليتبوا مقعده من النار " . وفي الباب عن ابي امامة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . حدثنا هناد، حدثنا ابو اسامة، عن حبيب بن الشهيد، عن ابي مجلز، عن معاوية، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ۱؎، ( ۱ ) شرمگاہ کے بال مونڈنا، ( ۲ ) ختنہ کرنا، ( ۳ ) مونچھیں کترنا، ( ۴ ) بغل کے بال اکھیڑنا، ( ۵ ) ناخن تراشنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس من الفطرة الاستحداد والختان وقص الشارب ونتف الابط وتقليم الاظفار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس ۱؎ چیزیں فطرت سے ہیں ( ۱ ) مونچھیں کترنا ( ۲ ) ڈاڑھی بڑھانا ( ۳ ) مسواک کرنا ( ۴ ) ناک میں پانی ڈالنا ( ۵ ) ناخن کاٹنا ( ۶ ) انگلیوں کے جوڑوں کی پشت دھونا ( ۶ ) بغل کے بال اکھیڑنا ( ۸ ) ناف سے نیچے کے بال مونڈنا ( ۹ ) پانی سے استنجاء کرنا، زکریا ( راوی ) کہتے ہیں کہ مصعب نے کہا: دسویں چیز میں بھول گیا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کلی کرنا ہو“، «انتقاص الماء» سے مراد پانی سے استنجاء کرنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عمار بن یاسر، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا وكيع، عن زكريا بن ابي زايدة، عن مصعب بن شيبة، عن طلق بن حبيب، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " عشر من الفطرة قص الشارب واعفاء اللحية والسواك والاستنشاق وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانة وانتقاص الماء " . قال زكريا قال مصعب ونسيت العاشرة الا ان تكون المضمضة . قال ابو عبيد انتقاص الماء الاستنجاء بالماء . وفي الباب عن عمار بن ياسر وابن عمر وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے لیے مدت متعین فرما دی ہے کہ ہر چالیس دن کے اندر ناخن کاٹ لیں۔ مونچھیں کتروا لیں۔ اور ناف سے نیچے کے بال مونڈ لیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا صدقة بن موسى ابو محمد، صاحب الدقيق حدثنا ابو عمران الجوني، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه وقت لهم في كل اربعين ليلة تقليم الاظفار واخذ الشارب وحلق العانة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال لینے، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- صدقہ بن موسیٰ ( جو پہلی حدیث کی سند میں ) محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ابي عمران الجوني، عن انس بن مالك، قال وقت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في قص الشارب وتقليم الاظفار وحلق العانة ونتف الابط ان لا نترك اكثر من اربعين يوما . قال هذا اصح من حديث الاول . وصدقة بن موسى ليس عندهم بالحافظ
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھیں کاٹتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عمر بن الوليد الكندي الكوفي، حدثنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقص او ياخذ من شاربه وكان ابراهيم خليل الرحمن يفعله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی مونچھوں کے بال نہ لیے ( یعنی انہیں نہیں کاٹا ) تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبيدة بن حميد، عن يوسف بن صهيب، عن حبيب بن يسار، عن زيد بن ارقم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من لم ياخذ من شاربه فليس منا " . وفي الباب عن المغيرة بن شعبة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن يوسف بن صهيب، بهذا الاسناد نحوه
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی لمبائی اور چوڑائی سے لیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے: عمر بن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتا ہوں۔ میں نے انہیں ( یعنی بخاری کو عمر بن ہارون ) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایا ہے، ۳- میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، ۴- قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثور بن یزید سے بیان کیا ثور بن یزید سے اور ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کر دیا۔ قتیبہ کہتے ہیں میں نے ( اپنے استاد ) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ ( جن کا آپ نے ابھی روایت میں «عن رجل» کہہ کر ذکر کیا ہے ) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمر بن ہارون ہیں ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عمر بن هارون، عن اسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياخذ من لحيته من عرضها وطولها . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وسمعت محمد بن اسماعيل يقول عمر بن هارون مقارب الحديث لا اعرف له حديثا ليس اسناده اصلا او قال ينفرد به الا هذا الحديث كان النبي صلى الله عليه وسلم ياخذ من لحيته من عرضها وطولها . لا نعرفه الا من حديث عمر بن هارون ورايته حسن الراى في عمر بن هارون . قال ابو عيسى وسمعت قتيبة يقول عمر بن هارون كان صاحب حديث وكان يقول الايمان قول وعمل . قال سمعت قتيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن رجل، عن ثور بن يزيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم نصب المنجنيق على اهل الطايف . قال قتيبة قلت لوكيع من هذا قال صاحبكم عمر بن هارون
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احفوا الشوارب واعفوا اللحى " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مونچھیں کٹوانے اور ڈاڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کے آزاد کردہ غلام ابوبکر بن نافع ثقہ آدمی ہیں، ۳- عمر بن نافع یہ بھی ثقہ ہیں، ۴- عبداللہ بن نافع ابن عمر رضی الله عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں اور حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي بكر بن نافع، عن ابيه، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرنا باحفاء الشوارب واعفاء اللحى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو بكر بن نافع هو مولى ابن عمر ثقة وعمر بن نافع ثقة وعبد الله بن نافع مولى ابن عمر يضعف
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وغير، واحد، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم مستلقيا في المسجد واضعا احدى رجليه على الاخرى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وعم عباد بن تميم هو عبد الله بن زيد بن عاصم المازني
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ کے بل لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی راویوں نے سلیمان تیمی سے روایت کیا ہے۔ اور خداش ( جن کا ذکر اس حدیث کی سند میں ہے ) نہیں جانے جاتے کہ وہ کون ہیں؟ اور سلیمان تیمی نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي، حدثنا ابي، حدثنا سليمان التيمي، عن خداش، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استلقى احدكم على ظهره فلا يضع احدى رجليه على الاخرى " . هذا حديث رواه غير واحد عن سليمان التيمي . ولا يعرف خداش هذا من هو وقد روى له سليمان التيمي غير حديث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ کرنے اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اشتمال الصماء والاحتباء في ثوب واحد وان يرفع الرجل احدى رجليه على الاخرى وهو مستلق على ظهره . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیٹ کے بل ( اوندھے منہ ) لیٹا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”یہ ایسا لیٹنا ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے اور ابوسلمہ نے یعیش بن طہفہ کے واسطہ سے ان کے باپ طہفہ سے روایت کی ہے، انہیں طخفہ بھی کہا جاتا ہے، لیکن صحیح طہفہ ہی ہے۔ اور بعض حفاظ کہتے ہیں: طخفہ صحیح ہے۔ اور انہیں طغفہ اور یعیش بھی کہا جاتا ہے۔ اور وہ صحابہ میں سے ہیں، ۲- اس باب میں طہفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، وعبد الرحيم، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا مضطجعا على بطنه فقال " ان هذه ضجعة لا يحبها الله " . وفي الباب عن طهفة وابن عمر . قال ابو عيسى وروى يحيى بن ابي كثير هذا الحديث عن ابي سلمة عن يعيش بن طهفة عن ابيه ويقال طخفة والصحيح طهفة . وقال بعض الحفاظ الصحيح طخفة ويقال طغفة . يعيش هو من الصحابة
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے اور کس قدر چھپانا ضروری ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی شرمگاہ کو چھپاؤ“، انہوں نے کہا: آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے کہا: آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے۔ ۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا بهز بن حكيم، حدثني ابي، عن جدي، قال قلت يا رسول الله عوراتنا ما ناتي منها وما نذر قال " احفظ عورتك الا من زوجتك او مما ملكت يمينك " . فقال الرجل يكون مع الرجل قال " ان استطعت ان لا يراها احد فافعل " . قلت والرجل يكون خاليا . قال " فالله احق ان يستحيا منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وجد بهز اسمه معاوية بن حيدة القشيري وقد روى الجريري عن حكيم بن معاوية وهو والد بهز
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بائیں جانب تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو کئی اور نے بطریق: «إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة» روایت کی ہے، ( اس میں ہے ) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، لیکن انہوں نے «علی یسارہ» اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري البغدادي، حدثنا اسحاق بن منصور الكوفي، اخبرنا اسراييل، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم متكيا على وسادة على يساره . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وروى غير واحد هذا الحديث عن اسراييل عن سماك عن جابر بن سمرة قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم متكيا على وسادة . ولم يذكر على يساره