Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم متكيا على وسادة . هذا حديث صحيح
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے حدود اقتدار و اختیار میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہیں کرائی جا سکتی، اور نہ ہی کسی شخص کے گھر میں اس کی خاص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جا سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن اوس بن ضمعج، عن ابي مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يوم الرجل في سلطانه ولا يجلس على تكرمته في بيته الا باذنه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیے، اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی سواری کے سینے پر یعنی آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا: میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا۔ ”پھر آپ اس پر سوار ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس باب میں قیس بن سعد بن عبادۃ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا علي بن الحسين بن واقد، حدثني ابي، حدثني عبد الله بن بريدة، قال سمعت ابي بريدة، يقول بينما النبي صلى الله عليه وسلم يمشي اذ جاءه رجل ومعه حمار فقال يا رسول الله اركب . وتاخر الرجل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لانت احق بصدر دابتك الا ان تجعله لي " . قال قد جعلته لك . قال فركب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن قيس بن سعد بن عبادة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس «انماط» ( غالیچے ) ہیں؟“ میں نے کہا: غالیچے ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس عنقریب «انماط» ( غالیچے ) ہوں گے“۔ ( تو اب وہ زمانہ آ گیا ہے ) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» ( غالیچے ) مجھ سے دور رکھو۔ تو وہ کہتی ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے، تو میں اس سے درگزر کر جاتا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل لكم انماط " . قلت وانى تكون لنا انماط قال " اما انها ستكون لكم انماط " . قال فانا اقول لامراتي اخري عني انماطك فتقول الم يقل النبي صلى الله عليه وسلم " انها ستكون لكم انماط " . قال فادعها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء نامی خچر کو جس پر آپ، اور حسن و حسین سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کے پاس ( صحن میں ) لیتا چلا گیا، یہ ( حسن ) آپ کے آگے اور وہ ( حسین ) آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس میں ابن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عباس العنبري بن عبد العظيم، حدثنا النضر بن محمد، هو الجرشي اليمامي حدثنا عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة، عن ابيه، قال لقد قدت نبي الله صلى الله عليه وسلم والحسن والحسين على بغلته الشهباء حتى ادخلته حجرة النبي صلى الله عليه وسلم هذا قدامه وهذا خلفه . وفي الباب عن ابن عباس وعبد الله بن جعفر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی اجنبیہ عورت پر ) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا يونس بن عبيد، عن عمرو بن سعيد، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير بن عبد الله، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظرة الفجاة فامرني ان اصرف بصري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو زرعة بن عمرو اسمه هرم
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر ( معاف ) ہے اور دوسری ( معاف ) نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن ابي ربيعة، عن ابن بريدة، عن ابيه، رفعه قال " يا علي لا تتبع النظرة النظرة فان لك الاولى وليست لك الاخرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث شريك
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں اور میمونہ رضی الله عنہا بھی موجود تھیں، اسی دوران کہ ہم دونوں آپ کے پاس بیٹھی تھیں، عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور آپ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہمیں پردے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اندھے نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دونوں انہیں دیکھتی نہیں ہو؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد، حدثنا عبد الله، اخبرنا يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن نبهان، مولى ام سلمة انه حدثه ان ام سلمة حدثته انها، كانت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وميمونة قالت فبينا نحن عنده اقبل ابن ام مكتوم فدخل عليه وذلك بعد ما امرنا بالحجاب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احتجبا منه " . فقلت يا رسول الله اليس هو اعمى لا يبصرنا ولا يعرفنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افعمياوان انتما الستما تبصرانه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے انہیں علی رضی الله عنہ کے پاس ( ان کی بیوی ) اسماء بنت عمیس ۱؎ سے ملاقات کی اجازت مانگنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے اجازت دے دی، پھر جب وہ جس ضرورت سے گئے تھے اس سے کہہ سن کر فارغ ہوئے تو ان کے مولیٰ ( آزاد کردہ غلام ) نے ان سے ( اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس ان کے شوہروں سے اجازت لیے بغیر جانے سے منع فرمایا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عقبہ بن عامر، عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔)
حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن ذكوان، عن مولى، عمرو بن العاصي ان عمرو بن العاصي، ارسله الى علي يستاذنه على اسماء بنت عميس فاذن له حتى اذا فرغ من حاجته سال المولى عمرو بن العاصي عن ذلك فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا ان ندخل على النساء بغير اذن ازواجهن . وفي الباب عن عقبة بن عامر وعبد الله بن عمرو وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسامہ بن زید اور سعید بن زید رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی ثقہ لوگوں نے بطریق: «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اس سند میں «عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل» کا ذکر نہیں کیا، ۳- ہم معتمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے «عن أسامة بن زيد وسعيد بن زيد» ( ایک ساتھ ) کہا ہو، ۴- اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن ابي عثمان، عن اسامة بن زيد، وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما تركت بعدي في الناس فتنة اضر على الرجال من النساء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى هذا الحديث غير واحد من الثقات عن سليمان التيمي عن ابي عثمان عن اسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكروا فيه عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ولا نعلم احدا قال عن اسامة بن زيد وسعيد بن زيد غير المعتمر . وفي الباب عن ابي سعيد
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن اسامة بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو مدینہ میں خطبہ کے دوران کہتے ہوئے سنا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان زائد بالوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور آپ کہتے تھے: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اسے اپنا لیا تو وہ ہلاک ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاویہ رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرنا حميد بن عبد الرحمن، انه سمع معاوية، بالمدينة يخطب يقول اين علماوكم يا اهل المدينة اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن هذه القصة ويقول " انما هلكت بنو اسراييل حين اتخذها نساوهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن معاوية
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنا گودنے والی اور گودنا گدوانے والیوں پر اور حسن میں اضافے کی خاطر چہرے سے بال اکھاڑنے والی اور اکھیڑوانے والیوں پر اور اللہ کی بناوٹ ( تخلیق ) میں تبدیلیاں کرنے والیوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو شعبہ اور کئی دوسرے ائمہ نے بھی منصور سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبيدة بن حميد، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم لعن الواشمات والمستوشمات والمتنمصات مبتغيات للحسن مغيرات خلق الله . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة وغير واحد من الايمة عن منصور
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو بالوں کو جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور گودنا گودنے اور گودنا گودوانے والی پر“، نافع کہتے ہیں: گودائی مسوڑھے میں ہوتی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، معقل بن یسار، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے یحییٰ بن سعید نے وہ کہتے ہیں: ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( مذکورہ ) روایت کی طرح روایت کی۔ مگر یحییٰ نے اس روایت میں نافع کا قول ذکر نہیں کیا۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة " . قال نافع الوشم في اللثة . قال هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عايشة ومعقل بن يسار واسماء بنت ابي بكر وابن عباس
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه يحيى قول نافع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا شعبة، وهمام، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهات بالرجال من النساء والمتشبهين بالنساء من الرجال . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانے ( مخنث ) مردوں پر، اور مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، وايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء . قال هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عايشة
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زانیہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن ثابت بن عمارة الحنفي، عن غنيم بن قيس، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل عين زانية والمراة اذا استعطرت فمرت بالمجلس فهي كذا وكذا يعني زانية " . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیل رہی ہو اور رنگ چھپا ہوا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو لیکن مہک اس کی چھپی ہوئی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن رجل، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " طيب الرجال ما ظهر ريحه وخفي لونه وطيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه