Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے ( ۱ ) عورت میں ( ۲ ) گھر میں ( ۳ ) اور جانور ( گھوڑے ) میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، وحمزة، ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في ثلاثة في المراة والمسكن والدابة ". قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وبعض اصحاب الزهري لا يذكرون فيه عن حمزة انما يقولون عن سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري فقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما وهكذا روى لنا ابن ابي عمر هذا الحديث عن سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه ولم يذكر فيه سعيد بن عبد الرحمن عن حمزة، ورواية، سعيد اصح لان علي بن المديني والحميدي رويا عن سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، وذكرا، عن سفيان، قال لم يرو لنا الزهري هذا الحديث الا عن سالم عن ابن عمر . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري وقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما . وفي الباب عن سهل بن سعد وعايشة وانس . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان كان الشوم في شيء ففي المراة والدابة والمسكن " . وقد روي عن حكيم بن معاوية، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا شوم وقد يكون اليمن في الدار والمراة والفرس " . حدثنا بذلك علي بن حجر حدثنا اسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر الطايي عن معاوية بن حكيم عن عمه حكيم بن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے ( ۱ ) عورت میں ( ۲ ) گھر میں ( ۳ ) اور جانور ( گھوڑے ) میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، وحمزة، ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في ثلاثة في المراة والمسكن والدابة ". قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وبعض اصحاب الزهري لا يذكرون فيه عن حمزة انما يقولون عن سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري فقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما وهكذا روى لنا ابن ابي عمر هذا الحديث عن سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه ولم يذكر فيه سعيد بن عبد الرحمن عن حمزة، ورواية، سعيد اصح لان علي بن المديني والحميدي رويا عن سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، وذكرا، عن سفيان، قال لم يرو لنا الزهري هذا الحديث الا عن سالم عن ابن عمر . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن الزهري وقال عن سالم وحمزة ابنى عبد الله بن عمر عن ابيهما . وفي الباب عن سهل بن سعد وعايشة وانس . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان كان الشوم في شيء ففي المراة والدابة والمسكن " . وقد روي عن حكيم بن معاوية، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا شوم وقد يكون اليمن في الدار والمراة والفرس " . حدثنا بذلك علي بن حجر حدثنا اسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر الطايي عن معاوية بن حكيم عن عمه حكيم بن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ایک ساتھ ہو، تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی نہ کریں“، سفیان نے اپنی روایت میں «لا يتناجى اثنان دون الثالث فإن ذلك يحزنه» کہا ہے، یعنی ”تیسرے شخص کو چھوڑ کر دو سرگوشی نہ کریں کیونکہ اس سے اسے دکھ اور رنج ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک کو نظر انداز کر کے دو سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے مومن کو تکلیف پہنچتی ہے، اور اللہ عزوجل مومن کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ہے“، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، ح قال وحدثني ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون صاحبهما " . وقال سفيان في حديثه " لا يتناجى اثنان دون الثالث فان ذلك يحزنه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يتناجى اثنان دون واحد فان ذلك يوذي المومن والله عز وجل يكره اذى المومن " . وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة وابن عباس
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورا چٹا دیکھا، آپ پر بڑھاپا آ چلا تھا حسن بن علی رضی الله عنہما ( شکل و صورت میں ) آپ کے مشابہ تھے۔ آپ نے تیرہ ( ۱۳ ) جوان اونٹنیاں ہم کو عنایت کرنے کے لیے حکم صادر فرمایا، ہم انہیں لینے کے لیے گئے ہی تھے کہ اچانک آپ کے انتقال کی خبر آ گئی، چنانچہ لوگوں نے ہمیں کچھ نہ دیا، پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کسی کا بھی کوئی عہد و پیمان ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ( اور پیش کرے ) چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور انہیں آپ کے حکم سے آگاہ کیا، تو انہوں نے ہمیں ان اونٹنیوں کے دینے کا حکم فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مروان بن معاویہ نے یہ حدیث اپنی سند سے ابوجحیفہ رضی الله عنہ کے واسطے سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کئی اور لوگوں نے بھی اسماعیل بن ابوخالد کے واسطہ سے ابوجحیفہ سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے ) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ اور انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن ابي جحيفة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ابيض قد شاب وكان الحسن بن علي يشبهه وامر لنا بثلاثة عشر قلوصا فذهبنا نقبضها فاتانا موته فلم يعطونا شييا فلما قام ابو بكر قال من كانت له عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عدة فليجي . فقمت اليه فاخبرته فامر لنا بها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى مروان بن معاوية هذا الحديث باسناد له عن ابي جحيفة نحو هذا . وقد روى غير واحد عن اسماعيل بن ابي خالد عن ابي جحيفة قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وكان الحسن بن علي يشبهه ولم يزيدوا على هذا
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی ایک نے اسماعیل بن ابوخالد سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ابوجحیفہ رضی الله عنہ کا نام وہب سوائی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا ابو جحيفة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وكان الحسن بن علي يشبهه . قال ابو عيسى وهكذا روى غير واحد عن اسماعيل بن ابي خالد نحو هذا . وفي الباب عن جابر . وابو جحيفة اسمه وهب السوايي
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن علي، قال ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم جمع ابويه لاحد غير سعد بن ابي وقاص
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“، ۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، حدثنا سفيان، عن ابن جدعان، ويحيى بن سعيد، سمعا سعيد بن المسيب، يقول قال علي ما جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم اباه وامه لاحد الا لسعد بن ابي وقاص قال له يوم احد " ارم فداك ابي وامي " . وقال له " ارم ايها الغلام الحزور " . وفي الباب عن الزبير وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن علي
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی کے دن میرے لیے «فداك أبي وأمي» کہہ کر اپنے ماں باپ کو یکجا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وقد روى غير، واحد، هذا الحديث عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن ابي وقاص، قال جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه يوم احد قال " ارم فداك ابي وامي " . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا الليث بن سعد وعبد العزيز بن محمد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن سعد بن ابي وقاص قال جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه يوم احد . وهذا حديث حسن صحيح وكلا الحديثين صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» ”اے میرے بیٹے“ کہہ کر پکارا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس سند کے علاوہ کچھ دیگر سندوں سے بھی انس سے روایت ہے، ۳- ابوعثمان یہ ثقہ شیخ ہیں اور ان کا نام جعد بن عثمان ہے، اور انہیں ابن دینار بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ ان سے یونس بن عبید اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں مغیرہ اور عمر بن ابی سلمہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، حدثنا ابو عثمان، شيخ له عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " يا بنى " . وفي الباب عن المغيرة وعمر بن ابي سلمة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روي من غير هذا الوجه عن انس . وابو عثمان هذا شيخ ثقة وهو الجعد بن عثمان ويقال ابن دينار وهو بصري وقد روى عنه يونس بن عبيد وغير واحد من الايمة
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں دن نومولود بچے کا نام رکھنے اس اور اس کا عقیقہ کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد بن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، حدثني عمي، يعقوب بن ابراهيم بن سعد حدثنا شريك، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بتسمية المولود يوم سابعه ووضع الاذى عنه والعق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن الاسود ابو عمرو الوراق البصري، حدثنا معمر بن سليمان الرقي، عن علي بن صالح المكي، عن عبد الله بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احب الاسماء الى الله عز وجل عبد الله وعبد الرحمن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري، حدثنا ابو عاصم، عن عبد الله بن عمر العمري، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان احب الاسماء الى الله عبد الله وعبد الرحمن " . هذا حديث غريب من هذا الوجه
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ ) رافع، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں، ۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» ( عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے ) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لانهين ان يسمى رافع وبركة ويسار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . هكذا رواه ابو احمد عن سفيان عن ابي الزبير عن جابر عن عمر ورواه غيره عن سفيان عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو احمد ثقة حافظ والمشهور عند الناس هذا الحديث عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم وليس فيه عن عمر
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو ( کیونکہ ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں“ ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن الربيع بن عميلة الفزاري، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تسمي غلامك رباح ولا افلح ولا يسار ولا نجيح يقال اثم هو فيقال لا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدتر نام اس شخص کا ہو گا جس کا نام «ملک الاملاک» ہو گا“، سفیان کہتے ہیں: «ملک الاملاک» کا مطلب ہے: شہنشاہ۔ اور «اخنع» کے معنی «اقبح» ہیں یعنی سب سے بدتر اور حقیر ترین۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن ميمون المكي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اخنع اسم عند الله يوم القيامة رجل تسمى بملك الاملاك " . قال سفيان شاهان شاه واخنع يعني اقبح . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا ( آج سے ) تو «جمیلہ» یعنی: ”تیرا نام جمیلہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان نے مرفوع بیان کیا ہے۔ یحییٰ نے عبیداللہ سے عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور بعض راویوں نے یہ حدیث عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے عمر سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن مطیع، عائشہ، حکم بن سعید، مسلم، اسامہ بن اخدری، ہانی اور عبدالرحمٰن بن ابی سبرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، وابو بكر محمد بن بشار وغير واحد قالوا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم غير اسم عاصية وقال " انت جميلة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وانما اسنده يحيى بن سعيد القطان عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر وروى بعضهم هذا عن عبيد الله عن نافع ان عمر . وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وعبد الله بن سلام وعبد الله بن مطيع وعايشة والحكم بن سعد ومسلم واسامة بن اخدري وشريح بن هاني عن ابيه وخيثمة بن عبد الرحمن عن ابيه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برا نام بدل دیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کے راوی ابوبکر بن نافع کہتے ہیں کہ کبھی تو عمر بن علی ( الفلاس ) نے اس حدیث کی سند میں کہا: «هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» یعنی مرسلاً روایت کی اور اس میں «عن عائشة» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا ابو بكر بن نافع البصري، حدثنا عمر بن علي المقدمي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يغير الاسم القبيح . قال ابو بكر بن نافع وربما قال عمر بن علي في هذا الحديث هشام بن عروة عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل ولم يذكر فيه عن عايشة
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے ۱؎ میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لي اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وانا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وانا العاقب الذي ليس بعدي نبي " . وفي الباب عن حذيفة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص آپ کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ جمع کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم مکروہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت ایک ساتھ رکھے۔ لیکن بعض لوگوں نے ایسا کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يجمع احد بين اسمه وكنيته ويسمى محمدا ابا القاسم . وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد كره بعض اهل العلم ان يجمع الرجل بين اسم النبي صلى الله عليه وسلم وكنيته وقد فعل ذلك بعضهم . روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه سمع رجلا، في السوق ينادي يا ابا القاسم فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لم اعنك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تكتنوا بكنيتي " . حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا . وفي هذا الحديث ما يدل على كراهية ان يكنى ابا القاسم
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میرے نام پر نام رکھو تو میری کنیت نہ رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بي " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه