Loading...

Loading...
کتب
۱۲۳ احادیث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے انتقال کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ ( ایسا کر سکتے ہو ) علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت و اجازت تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا فطر بن خليفة، حدثني منذر، وهو الثوري عن محمد ابن الحنفية، عن علي بن ابي طالب، انه قال يا رسول الله ارايت ان ولد لي بعدك اسميه محمدا واكنيه بكنيتك قال " نعم " . قال فكانت رخصة لي . هذا حديث صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا يحيى بن عبد الملك بن ابي غنية، حدثني ابي، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من الشعر حكمة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه انما رفعه ابو سعيد الاشج عن ابن ابي غنية . وروى غيره عن ابن ابي غنية هذا الحديث موقوفا . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم . وفي الباب عن ابى بن كعب وابن عباس وعايشة وبريدة وكثير بن عبد الله عن ابيه عن جده
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من الشعر حكما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی الله عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ حسان کی مدد روح القدس ( جبرائیل ) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ ( اپنے اشعار کے ذریعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور یہ حدیث ابن ابی الزناد کی روایت سے ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، وعلي بن حجر المعنى، واحد، قالا حدثنا ابن ابي الزناد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع لحسان منبرا في المسجد يقوم عليه قايما يفاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم - او قال ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم - ويقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يويد حسان بروح القدس ما يفاخر او ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدثنا اسماعيل بن موسى، وعلي بن حجر، قالا حدثنا ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وفي الباب عن ابي هريرة والبراء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب وهو حديث ابن ابي الزناد
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کفار کی اولاد! اس کے ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی“ عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں کہنے دو، عمر! یہ اشعار ان ( کفار و مشرکین ) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں ( یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے ( اس وقت ) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا جعفر بن سليمان، حدثنا ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة في عمرة القضاء وعبد الله بن رواحة بين يديه يمشي وهو يقول خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله فقال له عمر يا ابن رواحة بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي حرم الله تقول الشعر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " خل عنه يا عمر فلهي اسرع فيهم من نضح النبل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روى عبد الرزاق هذا الحديث ايضا عن معمر عن الزهري عن انس نحو هذا وروي في غير هذا الحديث ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة في عمرة القضاء وكعب بن مالك بين يديه وهذا اصح عند بعض اهل الحديث لان عبد الله بن رواحة قتل يوم موتة وانما كانت عمرة القضاء بعد ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ۱؎ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، قال قيل لها هل كان النبي صلى الله عليه وسلم يتمثل بشيء من الشعر قالت كان يتمثل بشعر ابن رواحة ويتمثل ويقول " وياتيك بالاخبار من لم تزود " . وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب کا بہترین شعری کلام لبید کا یہ شعر ہے: «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» ”سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے ثوری اور ان کے علاوہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اشعر كلمة تكلمت بها العرب كلمة لبيد الا كل شيء ما خلا الله باطل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه الثوري وغيره عن عبد الملك بن عمير
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے ( سنتے و سناتے ) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال جالست النبي صلى الله عليه وسلم اكثر من ماية مرة فكان اصحابه يتناشدون الشعر ويتذاكرون اشياء من امر الجاهلية وهو ساكت فربما تبسم معهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه زهير عن سماك ايضا
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے پیٹ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن قتادة، عن يونس بن جبير، عن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمتلي جوف احدكم قيحا خير له من ان يمتلي شعرا " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ ( و سینے ) میں ( کفریہ شرکیہ اور گندے ) اشعار بھرے ہوئے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عيسى بن عثمان بن عيسى الرملي، حدثنا عمي، يحيى بن عيسى الرملي عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمتلي جوف احدكم قيحا يريه خير من ان يمتلي شعرا " . وفي الباب عن سعد وابن عمر وابي الدرداء وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے مبالغہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان ایسے چلاتا ہے جیسے گائے چلاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا عمر بن علي المقدمي، حدثنا نافع بن عمر الجمحي، عن بشر بن عاصم، سمعه يحدث، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه كما تتخلل البقرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن سعد
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر جہاں کوئی رکاوٹ نہ ہو سونے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن منکدر کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ جابر سے روایت کرتے ہیں، ۳- عبدالجبار بن عمر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عبد الجبار بن عمر، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينام الرجل على سطح ليس بمحجور عليه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث محمد بن المنكدر عن جابر الا من هذا الوجه . وعبد الجبار بن عمر الايلي يضعف
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو وعظ و نصیحت کا سلسلے میں اوقات کا خیال کیا کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ہم پر اکتاہٹ طاری نہ ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخولنا بالموعظة في الايام مخافة السامة علينا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوصالح سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا؟، ان دونوں نے جواب دیا کہ وہ عمل جو گرچہ تھوڑا ہو لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا ابن فضيل، عن الاعمش، عن ابي صالح، قال سيلت عايشة وام سلمة اى العمل كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قالتا ما ديم عليه وان قل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
وقد روي عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان احب العمل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ديم عليه . حدثنا بذلك هارون بن اسحاق الهمداني حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رات میں ) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کر دیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے جابر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن كثير بن شنظير، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمروا الانية واوكوا الاسقية واجيفوا الابواب واطفيوا المصابيح فان الفويسقة ربما جرت الفتيلة فاحرقت اهل البيت " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ہریالی اور شادابی کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ( یعنی جی بھر کر چر لینے دیا کرو ) اور جب تم خزاں و خشکی اور قحط کے دنوں میں سفر کرو اس کی قوت سے فائدہ اٹھا لینے میں کرو تو جلدی ۱؎ اور جب تم رات میں قیام کے لیے پڑاؤ ڈالو تو عام راستے سے ہٹ کر قیام کرو، کیونکہ یہ ( راستے ) رات میں چوپایوں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سافرتم في الخصب فاعطوا الابل حظها من الارض واذا سافرتم في السنة فبادروا بنقيها واذا عرستم فاجتنبوا الطريق فانها طرق الدواب وماوى الهوام بالليل " . قال هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن جابر وانس