Loading...

Loading...
کتب
۳۹ احادیث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔
حدثنا ابو عبيدة بن ابي السفر، - واسمه احمد بن عبد الله الهمداني الكوفي قال حدثنا حجاج بن محمد، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق الهمداني، عن ابي جحيفة، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اصاب حدا فعجل عقوبته في الدنيا فالله اعدل من ان يثني على عبده العقوبة في الاخرة ومن اصاب حدا فستره الله عليه وعفا عنه فالله اكرم من ان يعود في شيء قد عفا عنه " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن غريب صحيح . وهذا قول اهل العلم لا نعلم احدا كفر احدا بالزنا او السرقة وشرب الخمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ( کامل ) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن ( کامل ) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے ( بھی ) احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمومن من امنه الناس على دمايهم واموالهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويروى عن النبي صلى الله عليه وسلم انه سيل اى المسلمين افضل قال " من سلم المسلمون من لسانه ويده." وفي الباب عن جابر وابي موسى وعبد الله بن عمرو
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں کون سا مسلمان سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے مسلمان محفوظ رہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صحیح غریب حسن ہے۔
حدثنا بذلك ابراهيم بن سعيد الجوهري حدثنا ابو اسامة عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة عن جده ابي بردة عن ابي موسى الاشعري ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل اى المسلمين افضل قال " من سلم المسلمون من لسانه ويده " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من حديث ابي موسى الاشعري عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الاسلام بدا غريبا وسيعود غريبا كما بدا فطوبى للغرباء " . وفي الباب عن سعد وابن عمر وجابر وانس وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابن مسعود انما نعرفه من حديث حفص بن غياث عن الاعمش وابو الاحوص اسمه عوف بن مالك بن نضلة الجشمي تفرد به حفص
عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ایک وقت آئے گا کہ ) دین اسلام حجاز میں سمٹ کر رہ جائے گا جس طرح کہ سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اور یقیناً دین حجاز میں آ کر ایسے ہی محفوظ ہو جائے گا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر محفوظ ہو جاتی ہے ۱؎، دین اجنبی حالت میں آیا اور وہ پھر اجنبی حالت میں جائے گا، خوشخبری اور مبارک بادی ہے ایسے گمنام مصلحین کے لیے جو میرے بعد میری سنت میں لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا اسماعيل بن ابي اويس، حدثني كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف بن زيد بن ملحة، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الدين ليارز الى الحجاز كما تارز الحية الى جحرها وليعقلن الدين من الحجاز معقل الاروية من راس الجبل ان الدين بدا غريبا ويرجع غريبا فطوبى للغرباء الذين يصلحون ما افسد الناس من بعدي من سنتي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا يحيى بن محمد بن قيس، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اية المنافق ثلاث اذا حدث كذب واذا وعد اخلف واذا اوتمن خان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث العلاء وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وفي الباب عن ابن مسعود وانس وجابر . حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن ابي سهيل بن مالك، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح وابو سهيل هو عم مالك بن انس واسمه نافع بن مالك بن ابي عامر الاصبحي الخولاني
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ( مکمل ) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن سفيان، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اربع من كن فيه كان منافقا وان كانت خصلة منهن فيه كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها من اذا حدث كذب واذا وعد اخلف واذا خاصم فجر واذا عاهد غدر " . قال هذا حديث حسن صحيح . حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وانما معنى هذا عند اهل العلم نفاق العمل وانما كان نفاق التكذيب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم هكذا روي عن الحسن البصري شييا من هذا انه قال النفاق نفاقان نفاق العمل ونفاق التكذيب
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ ( کسی عذر و مجبوری سے ) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے، ۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابي النعمان، عن ابي وقاص، عن زيد بن ارقم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وعد الرجل وينوي ان يفي به فلم يف به فلا جناح عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وليس اسناده بالقوي . علي بن عبد الاعلى ثقة ولا يعرف ابو النعمان ولا ابو وقاص وهما مجهولان
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن بزيع، حدثنا عبد الحكيم بن منصور الواسطي، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قتال المسلم اخاه كفر وسبابه فسوق " . وفي الباب عن سعد وعبد الله بن مغفل . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح . وقد روي عن عبد الله بن مسعود من غير وجه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر ( حقیقی ) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا، ۴- ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن زبيد، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى هذا الحديث قتاله كفر ليس به كفرا مثل الارتداد عن الاسلام والحجة في ذلك ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من قتل متعمدا فاولياء المقتول بالخيار ان شاءوا قتلوا وان شاءوا عفوا " . ولو كان القتل كفرا لوجب القتل ولم يصح العفو وقد روي عن ابن عباس وطاوس وعطاء وغير واحد من اهل العلم قالوا كفر دون كفر وفسوق دون فسوق
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس على العبد نذر فيما لا يملك ولاعن المومن كقاتله ومن قذف مومنا بكفر فهو كقاتله ومن قتل نفسه بشيء عذبه الله بما قتل به نفسه يوم القيامة " . وفي الباب عن ابي ذر وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے ( گویا کہ ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «باء»، «أقر» کے معنی میں ہے، یعنی اقرار کیا۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل قال لاخيه كافر فقد باء به احدهما " . هذا حديث حسن صحيح غريب . ومعنى قوله باء يعني اقر
صنابحی سے روایت ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے، میں ( انہیں دیکھ کر ) رو پڑا، انہوں نے کہا: ٹھہرو ٹھہرو، روتے کیوں ہو؟ قسم اللہ کی! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں ( آخرت میں ) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کر دیا ہو، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آ چکی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو گواہی دے کہ کوئی معبود ( برحق ) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون ( قابل اعتماد ) ہیں، ۳- صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں ( ابوعبداللہ کنیت ہے ) ، ۴- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، جابر، ابن عمر، اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «من قال لا إله إلا الله دخل الجنة» ”جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہو گا“ کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے، ۶- بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید ( ہر حال میں ) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ۱؎، ۷- عبداللہ بن مسعود، ابوذر، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، انس بن مالک رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا ہو گا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی“ ۲؎، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين» ”وہ بھی وقت ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے“ ( الحجر: ۲ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، عن الصنابحي، عن عبادة بن الصامت، انه قال دخلت عليه وهو في الموت فبكيت فقال مهلا لم تبكي فوالله لين استشهدت لاشهدن لك ولين شفعت لاشفعن لك ولين استطعت لانفعنك ثم قال والله ما من حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لكم فيه خير الا حدثتكموه الا حديثا واحدا وسوف احدثكموه اليوم وقد احيط بنفسي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من شهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله حرم الله عليه النار " . وفي الباب عن ابي بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة وجابر وابن عمر وزيد بن خالد . قال سمعت ابن ابي عمر يقول سمعت ابن عيينة يقول محمد بن عجلان كان ثقة مامونا في الحديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه والصنابحي هو عبد الرحمن بن عسيلة ابو عبد الله . وقد روي عن الزهري انه سيل عن قول النبي صلى الله عليه وسلم " من قال لا اله الا الله دخل الجنة " . فقال انما كان هذا في اول الاسلام قبل نزول الفرايض والامر والنهى . قال ابو عيسى ووجه هذا الحديث عند بعض اهل العلم ان اهل التوحيد سيدخلون الجنة وان عذبوا بالنار بذنوبهم فانهم لا يخلدون في النار . وقد روي عن عبد الله بن مسعود وابي ذر وعمران بن حصين وجابر بن عبد الله وابن عباس وابي سعيد الخدري وانس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " سيخرج قوم من النار من اهل التوحيد ويدخلون الجنة " . هكذا روي عن سعيد بن جبير وابراهيم النخعي وغير واحد من التابعين وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في تفسير هذه الاية: (ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين) قالوا اذا اخرج اهل التوحيد من النار وادخلوا الجنة يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے ( اس کے گناہوں کے ) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا ( کوئی بات نہیں ) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم ( و زیادتی ) نہ ہو گی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ لکھا ہو گا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر ( کانٹے پر ) موجود رہو، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر ( رجسٹر ) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہو گا۔ ( اور سچی بات یہ ہے کہ ) اللہ کے نام کے ساتھ ( یعنی اس کے مقابلہ میں ) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہو سکتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن ليث بن سعد، حدثني عامر بن يحيى، عن ابي عبد الرحمن المعافري، ثم الحبلي قال سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله سيخلص رجلا من امتي على رءوس الخلايق يوم القيامة فينشر عليه تسعة وتسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر ثم يقول اتنكر من هذا شييا اظلمك كتبتي الحافظون فيقول لا يا رب . فيقول افلك عذر فيقول لا يا رب . فيقول بلى ان لك عندنا حسنة فانه لا ظلم عليك اليوم فتخرج بطاقة فيها اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله فيقول احضر وزنك فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات فقال انك لا تظلم . قال فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة فلا يثقل مع اسم الله شيء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عامر بن يحيى، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . والبطاقة هي القطعة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، اور عوف بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث ابو عمار، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تفرقت اليهود على احدى وسبعين او اثنتين وسبعين فرقة والنصارى مثل ذلك وتفترق امتي على ثلاث وسبعين فرقة " . وفي الباب عن سعد وعبد الله بن عمرو وعوف بن مالك . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے، ( یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے ) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہو گا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث جس میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کے حدیث کے مقابلہ میں کچھ زیادہ وضاحت ہے حسن غریب ہے۔ ہم اسے اس طرح صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان الثوري، عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم الافريقي، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لياتين على امتي ما اتى على بني اسراييل حذو النعل بالنعل حتى ان كان منهم من اتى امه علانية لكان في امتي من يصنع ذلك وان بني اسراييل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة وتفترق امتي على ثلاث وسبعين ملة كلهم في النار الا ملة واحدة قالوا ومن هي يا رسول الله قال ما انا عليه واصحابي " . قال ابو عيسى هذا حديث مفسر حسن غريب لا نعرفه مثل هذا الا من هذا الوجه
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا ( یعنی اپنے نور کا پر تو ) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہو گیا اور جس پر نور نہ پڑا ( تجاوز کر گیا ) تو وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن يحيى بن ابي عمرو السيباني، عن عبد الله بن الديلمي، قال سمعت عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله عز وجل خلق خلقه في ظلمة فالقى عليهم من نوره فمن اصابه من ذلك النور اهتدى ومن اخطاه ضل فلذلك اقول جف القلم على علم الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں“۔ ( پھر ) آپ نے کہا: ”کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے مروی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتدري ما حق الله على العباد " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " فان حقه عليهم ان يعبدوه ولا يشركوا به شييا " . قال " فتدري ما حقهم عليه اذا فعلوا ذلك " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " ان لا يعذبهم " . هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن معاذ بن جبل
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن حبيب بن ابي ثابت، وعبد العزيز بن رفيع، والاعمش، كلهم سمعوا زيد بن وهب، عن ابي ذر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتاني جبريل فبشرني فاخبرني انه من مات لا يشرك بالله شييا دخل الجنة " . قلت وان زنى وان سرق قال " نعم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي الدرداء