احادیث
#2629
سنن ترمذی - Faith
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الاسلام بدا غريبا وسيعود غريبا كما بدا فطوبى للغرباء " . وفي الباب عن سعد وابن عمر وجابر وانس وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابن مسعود انما نعرفه من حديث حفص بن غياث عن الاعمش وابو الاحوص اسمه عوف بن مالك بن نضلة الجشمي تفرد به حفص
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Faith
- Hadith Index
- #2629
- Book Index
- 24
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
