احادیث
#2639
سنن ترمذی - Faith
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے ( اس کے گناہوں کے ) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا ( کوئی بات نہیں ) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم ( و زیادتی ) نہ ہو گی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ لکھا ہو گا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر ( کانٹے پر ) موجود رہو، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر ( رجسٹر ) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہو گا۔ ( اور سچی بات یہ ہے کہ ) اللہ کے نام کے ساتھ ( یعنی اس کے مقابلہ میں ) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہو سکتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن ليث بن سعد، حدثني عامر بن يحيى، عن ابي عبد الرحمن المعافري، ثم الحبلي قال سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله سيخلص رجلا من امتي على رءوس الخلايق يوم القيامة فينشر عليه تسعة وتسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر ثم يقول اتنكر من هذا شييا اظلمك كتبتي الحافظون فيقول لا يا رب . فيقول افلك عذر فيقول لا يا رب . فيقول بلى ان لك عندنا حسنة فانه لا ظلم عليك اليوم فتخرج بطاقة فيها اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله فيقول احضر وزنك فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات فقال انك لا تظلم . قال فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة فلا يثقل مع اسم الله شيء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عامر بن يحيى، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . والبطاقة هي القطعة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Faith
- Hadith Index
- #2639
- Book Index
- 34
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
