Loading...

Loading...
کتب
۳۹ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ ( جہاد ) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں، پھر جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، اور ان کا ( مکمل ) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالوها منعوا مني دماءهم واموالهم الا بحقها وحسابهم على الله " . وفي الباب عن جابر وابي سعيد وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ ( جہاد ) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ»، تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ ( جہاد ) کروں گا۔ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت کی ہے، ۳- عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے انس بن مالک سے، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے، لیکن اس حدیث ( کی سند ) میں غلطی ہے۔ ( اور وہ یہ ہے کہ ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر بعده كفر من كفر من العرب فقال عمر بن الخطاب لابي بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله ومن قال لا اله الا الله عصم مني ماله ونفسه الا بحقه وحسابه على الله " . قال ابو بكر والله لاقاتلن من فرق بين الزكاة والصلاة فان الزكاة حق المال والله لو منعوني عقالا كانوا يودونه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه فقال عمر بن الخطاب فوالله ما هو الا ان رايت ان الله قد شرح صدر ابي بكر للقتال فعرفت انه الحق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهكذا روى شعيب بن ابي حمزة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابي هريرة . وروى عمران القطان هذا الحديث عن معمر عن الزهري عن انس بن مالك عن ابي بكر وهو حديث خطا وقد خولف عمران في روايته عن معمر
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ ( کر کے عبادت ) نہ کرنے لگیں۔ ہمارا ذبیحہ نہ کھانے لگیں اور ہمارے طریقہ کے مطابق نماز نہ پڑھنے لگیں۔ جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں گے تو ان کا خون اور ان کا مال ہمارے اوپر حرام ہو جائے گا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، انہیں وہ سب کچھ حاصل ہو گا ۲؎ جو عام مسلمانوں کو حاصل ہو گا اور ان پر وہی سب کچھ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو عام مسلمانوں پر عائد ہوں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یحییٰ بن ایوب نے حمید سے اور حمید نے انس سے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں معاذ بن جبل اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، حدثنا ابن المبارك، اخبرنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله وان يستقبلوا قبلتنا وياكلوا ذبيحتنا وان يصلوا صلاتنا فاذا فعلوا ذلك حرمت علينا دماوهم واموالهم الا بحقها لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين " . وفي الباب عن معاذ بن جبل وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد رواه يحيى بن ايوب عن حميد عن انس نحو هذا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: ( ۱ ) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، ( ۲ ) نماز قائم کرنا، ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) رمضان کے روزے رکھنا، ( ۵ ) بیت اللہ کا حج کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے کئی سندوں سے مروی ہے، اسی طرح یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سعير بن الخمس التميمي، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بني الاسلام على خمس شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله واقام الصلاة وايتاء الزكاة وصوم رمضان وحج البيت " . وفي الباب عن جرير بن عبد الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وسعير بن الخمس ثقة عند اهل الحديث . حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن حنظلة بن ابي سفيان الجمحي، عن عكرمة بن خالد المخزومي، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے تقدیر کے انکار کی بات کی وہ معبد جہنی ہے، میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں ( سفر پر ) نکلے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے، ہم نے ( آپس میں بات کرتے ہوئے ) کہا: کاش ہماری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی شخص سے ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے اس نئے فتنے کے متعلق پوچھیں جو ان لوگوں نے پیدا کیا ہے، چنانچہ ( خوش قسمتی سے ) ہماری ان سے یعنی عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے کہ جب وہ مسجد سے نکل رہے تھے، ملاقات ہو گئی، پھر میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا ۱؎ میں نے یہ اندازہ لگا کر کہ میرا ساتھی بات کرنے کی ذمہ داری اور حق مجھے سونپ دے گا، عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! کچھ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن میں غور و فکر اور تلاش و جستجو ( کا دعویٰ ) بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے، اور امر ( معاملہ ) از سرے نو اور ابتدائی ہے ۲؎ ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: جب تم ان سے ملو ( اور تمہارا ان کا آمنا سامنا ہو ) تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے بری ( و بیزار ) ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھاتا ہے عبداللہ! ( یعنی اللہ کی ) اگر ان میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو جب تک وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا اس کا یہ خرچ مقبول نہ ہو گا، پھر انہوں نے حدیث بیان کرنی شروع کی اور کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اسی دوران ایک شخص آیا جس کے کپڑے بہت زیادہ سفید تھے، اس کے بال بہت زیادہ کالے تھے، وہ مسافر بھی نہیں لگتا تھا اور ہم لوگوں میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا کر بیٹھ گیا پھر کہا: اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ“۔ اس نے ( پھر ) پوچھا: اور اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“، اس نے ( پھر ) پوچھا: احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو تو ان تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اللہ کو دیکھنے کا تصور اپنے اندر پیدا نہ کر سکو تو یہ یقین کر کے اس کی عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جواب پر کہتا جاتا تھا کہ آپ نے درست فرمایا۔ اور ہم اس پر حیرت کرتے تھے کہ یہ کیسا عجیب آدمی ہے کہ وہ خود ہی آپ سے پوچھتا ہے اور خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کی تصدیق بھی کرتا جاتا ہے، اس نے ( پھر ) پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جس سے پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا“، اس نے کہا: اس کی علامت ( نشانی ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس وقت حالت یہ ہو گی کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ۳؎، اس وقت تم دیکھو گے کہ ننگے پیر چلنے والے، ننگے بدن رہنے والے، محتاج بکریوں کے چرانے والے ایک سے بڑھ کر ایک اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کرنے والے ہوں گے“، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس واقعہ کے تین دن بعد ملے تو آپ نے فرمایا: ”عمر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ تمہارے پاس تمہیں دین کی بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اے اللہ کے رسول! ) ہمارے اور آپ کے درمیان ربیعہ کا یہ قبیلہ حائل ہے، حرمت والے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں ہم آپ کے پاس آ نہیں سکتے ۱؎ اس لیے آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جسے ہم آپ سے لے لیں اور جو ہمارے پیچھے ہیں انہیں بھی ہم اس کی طرف بلا سکیں، آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں ( ۱ ) اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ نے ان سے اس کی تفسیر و تشریح بیان کی «لا إلہ الا اللہ» اور «محمد رسول الله» “ کی شہادت دینا ( ۲ ) نماز قائم کرنا ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( خمس ) نکالنا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عباد بن عباد المهلبي، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، قال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا انا هذا الحى من ربيعة ولسنا نصل اليك الا في اشهر الحرام فمرنا بشيء ناخذه عنك وندعو اليه من وراءنا . فقال " امركم باربع الايمان بالله ثم فسرها لهم شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله واقام الصلاة وايتاء الزكاة وان تودوا خمس ما غنمتم " . حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو جمرة الضبعي اسمه نصر بن عمران . وقد رواه شعبة عن ابي جمرة ايضا وزاد فيه اتدرون ما الايمان شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله وذكر الحديث . سمعت قتيبة بن سعيد يقول ما رايت مثل هولاء الاشراف الاربعة مالك بن انس والليث بن سعد وعباد بن عباد المهلبي وعبد الوهاب الثقفي . قال قتيبة كنا نرضى ان نرجع من عند عباد كل يوم بحديثين وعباد بن عباد هو من ولد المهلب بن ابي صفرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہو، اور جو اپنے بال بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور میں نہیں جانتا کہ ابوقلابہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے، ۳- ابوقلابہ نے عائشہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے اس حدیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں روایت کی ہیں، ۴- اس باب میں ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع البغدادي، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اكمل المومنين ايمانا احسنهم خلقا والطفهم باهله " . وفي الباب عن ابي هريرة وانس بن مالك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ولا نعرف لابي قلابة سماعا من عايشة . وقد روى ابو قلابة عن عبد الله بن يزيد رضيع لعايشة عن عايشة غير هذا الحديث وابو قلابة اسمه عبد الله بن زيد الجرمي . حدثنا ابن ابي عمر حدثنا سفيان بن عيينة قال ذكر ايوب السختياني ابا قلابة فقال كان والله من الفقهاء ذوي الالباب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو اس میں آپ نے لوگوں کو نصیحت کی پھر ( عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرتی رہو کیونکہ جہنم میں تمہاری ہی تعداد زیادہ ہو گی“ ۱؎ ان میں سے ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارے بہت زیادہ لعن طعن کرنے کی وجہ سے، یعنی تمہاری اپنے شوہروں کی ناشکری کرنے کے سبب“، آپ نے ( مزید ) فرمایا: ”میں نے کسی ناقص عقل و دین کو تم عورتوں سے زیادہ عقل و سمجھ رکھنے والے مردوں پر غالب نہیں دیکھا“۔ ایک عورت نے پوچھا: ان کی عقل اور ان کے دین کی کمی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے دو عورتوں کی شہادت ( گواہی ) ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے ۲؎، اور تمہارے دین کی کمی یہ ہے کہ تمہیں حیض کا عارضہ لاحق ہوتا ہے جس سے عورت ( ہر مہینے ) تین چار دن نماز پڑھنے سے رک جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو عبد الله، هريم بن مسعر الازدي الترمذي حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس فوعظهم ثم قال " يا معشر النساء تصدقن فانكن اكثر اهل النار " . فقالت امراة منهن ولم ذاك يا رسول الله قال " لكثرة لعنكن " . يعني وكفركن العشير . قال " وما رايت من ناقصات عقل ودين اغلب لذوي الالباب وذوي الراى منكن " . قالت امراة منهن وما نقصان دينها وعقلها قال " شهادة امراتين منكن بشهادة رجل ونقصان دينكن الحيضة تمكث احداكن الثلاث والاربع لا تصلي " . وفي الباب عن ابي سعيد وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب حسن من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی تہتر شاخیں ( ستر دروازے ) ہیں۔ سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور کر دینا ہے، اور سب سے بلند «لا إلہ الا اللہ» کا کہنا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ایسے ہی سہیل بن ابی صالح نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- عمارہ بن غزیہ نے یہ حدیث ابوصالح سے، ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا ہے ”ایمان کی چونسٹھ شاخیں ہیں“۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايمان بضع وسبعون بابا فادناها اماطة الاذى عن الطريق وارفعها قول لا اله الا الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهكذا روى سهيل بن ابي صالح عن عبد الله بن دينار عن ابي صالح عن ابي هريرة . وروى عمارة بن غزية، هذا الحديث عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الايمان اربعة وستون بابا " . قال حدثنا بذلك قتيبة حدثنا بكر بن مضر عن عمارة بن غزية عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء ( شرم اور پاکدامنی ) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور تاکید ) فرمایا: ”حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، واحمد بن منيع، - المعنى واحد قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل وهو يعظ اخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحياء من الايمان " . قال احمد بن منيع في حديثه ان النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يعظ اخاه في الحياء . قال هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي هريرة وابي بكرة وابي امامة
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوا، ہم سب چل رہے تھے، میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے، اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے ( راستے ) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز ( تہجد ) پڑھنا“، پھر آپ نے آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» کی تلاوت «يعملون» تک فرمائی ۱؎، آپ نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”دین کی اصل اسلام ہے ۲؎ اور اس کا ستون ( عمود ) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی، اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“، میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری ماں تم پر روئے، معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ یا نتھنوں کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا عبد الله بن معاذ الصنعاني، عن معمر، عن عاصم بن ابي النجود، عن ابي وايل، عن معاذ بن جبل، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاصبحت يوما قريبا منه ونحن نسير فقلت يا رسول الله اخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار . قال " لقد سالتني عن عظيم وانه ليسير على من يسره الله عليه تعبد الله ولا تشرك به شييا وتقيم الصلاة وتوتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت " . ثم قال " الا ادلك على ابواب الخير الصوم جنة والصدقة تطفي الخطيية كما يطفي الماء النار وصلاة الرجل من جوف الليل " . قال ثم تلا: ( تتجافى جنوبهم عن المضاجع ) حتى بلغ: (يعملون) ثم قال " الا اخبرك براس الامر كله وعموده وذروة سنامه " . قلت بلى يا رسول الله . قال " راس الامر الاسلام وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد " . ثم قال " الا اخبرك بملاك ذلك كله " . قلت بلى يا نبي الله قال فاخذ بلسانه قال " كف عليك هذا " . فقلت يا نبي الله وانا لمواخذون بما نتكلم به فقال " ثكلتك امك يا معاذ وهل يكب الناس في النار على وجوههم او على مناخرهم الا حصايد السنتهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة» الآية ”اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں“ ( سورۃ التوبہ: ۱۸ ) “۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن دراج ابي السمح، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الرجل يتعاهد المسجد فاشهدوا له بالايمان فان الله تعالى يقول: (انما يعمر مساجد الله من امن بالله واليوم الاخر واقام الصلاة واتى الزكاة ) " . الاية . قال ابو عيسى هذا حديث غريب حسن
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بين الكفر والايمان ترك الصلاة
حدثنا هناد، حدثنا اسباط بن محمد، عن الاعمش، بهذا الاسناد نحوه وقال " بين العبد وبين الشرك او الكفر ترك الصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو سفيان اسمه طلحة بن نافع
جابر رضی الله عنہ سے اس سند بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو الزبير اسمه محمد بن مسلم بن تدرس
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے ۱؎ تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، ويوسف بن عيسى، قالا حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، ح وحدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، ح وحدثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، عن الحسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر " . وفي الباب عن انس وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ( رضی الله عنہم ) نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول ( یعنی زبان سے اقرار کرنے ) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی، اگر اس نے توبہ کر لی تو ٹھیک، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بشر بن المفضل، عن الجريري، عن عبد الله بن شقيق العقيلي، قال كان اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم لا يرون شييا من الاعمال تركه كفر غير الصلاة . قال ابو عيسى سمعت ابا مصعب المدني يقول من قال الايمان قول يستتاب فان تاب والا ضربت عنقه
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ( اور خوش ) ہوا اس نے ایمان کا مزہ پا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن العباس بن عبد المطلب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ذاق طعم الايمان من رضي بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں تین خصلتیں ہوں گی اسے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت مل کر رہے گی۔ ( ۱ ) جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ ( ۲ ) وہ جس کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، ( ۳ ) کفر سے اللہ کی طرف سے ملنے والی نجات کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ نے بھی یہ حدیث انس کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاث من كن فيه وجد بهن طعم الايمان من كان الله ورسوله احب اليه مما سواهما وان يحب المرء لا يحبه الا لله وان يكره ان يعود في الكفر بعد اذ انقذه الله منه كما يكره ان يقذف في النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه قتادة عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ۱؎ اور جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، لیکن اس کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عائشہ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے اندر سے نکل کر اس کے سر کے اوپر چھتری جیسا ( معلق ) ہو جاتا ہے، اور جب اس فعل ( شنیع ) سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے“۔ ابو جعفر محمد بن علی ( اس معاملہ میں ) کہتے ہیں: جب وہ ایسی حرکت کرتا ہے تو ایمان سے نکل کر صرف مسلم رہ جاتا ہے۔ علی ابن ابی طالب، عبادہ بن صامت اور خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا اور چوری کے سلسلے میں فرمایا: ”اگر کوئی شخص اس طرح کے کسی گناہ کا مرتکب ہو جائے اور اس پر حد جاری کر دی جائے تو یہ ( حد کا اجراء ) اس کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا۔ اور جس شخص سے اس سلسلے میں کوئی گناہ سرزد ہو گیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو وہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے اگر وہ چاہے تو اسے قیامت کے دن عذاب دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبيدة بن حميد، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مومن ولكن التوبة معروضة " . وفي الباب عن ابن عباس وعايشة وعبد الله بن ابي اوفى . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . - وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنى العبد خرج منه الايمان فكان فوق راسه كالظلة فاذا خرج من ذلك العمل عاد اليه الايمان " . وقد روي عن ابي جعفر محمد بن علي انه قال في هذا خرج من الايمان الى الاسلام . وقد روي من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال في الزنا والسرقة " من اصاب من ذلك شييا فاقيم عليه الحد فهو كفارة ذنبه ومن اصاب من ذلك شييا فستر الله عليه فهو الى الله ان شاء عذبه يوم القيامة وان شاء غفر له " . روى ذلك علي بن ابي طالب وعبادة بن الصامت وخزيمة بن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث الخزاعي، اخبرنا وكيع، عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، قال اول من تكلم في القدر معبد الجهني قال فخرجت انا وحميد بن عبد الرحمن الحميري حتى اتينا المدينة فقلنا لو لقينا رجلا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسالناه عما احدث هولاء القوم . قال فلقيناه يعني عبد الله بن عمر وهو خارج من المسجد قال فاكتنفته انا وصاحبي قال فظننت ان صاحبي سيكل الكلام الى فقلت يا ابا عبد الرحمن ان قوما يقرءون القران ويتقفرون العلم ويزعمون ان لا قدر وان الامر انف قال فاذا لقيت اوليك فاخبرهم اني منهم بريء وانهم مني براء والذي يحلف به عبد الله لو ان احدهم انفق مثل احد ذهبا ما قبل ذلك منه حتى يومن بالقدر خيره وشره . قال ثم انشا يحدث فقال قال عمر بن الخطاب كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه اثر السفر ولا يعرفه منا احد حتى اتى النبي صلى الله عليه وسلم فالزق ركبته بركبته ثم قال يا محمد ما الايمان قال " ان تومن بالله وملايكته وكتبه ورسله واليوم الاخر والقدر خيره وشره " . قال فما الاسلام قال " شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله واقام الصلاة وايتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان " . قال فما الاحسان قال " ان تعبد الله كانك تراه فانك ان لم تكن تراه فانه يراك " . قال في كل ذلك يقول له صدقت . قال فتعجبنا منه يساله ويصدقه . قال فمتى الساعة قال " ما المسيول عنها باعلم من السايل " . قال فما امارتها قال ان تلد الامة ربتها وان ترى الحفاة العراة العالة اصحاب الشاء يتطاولون في البنيان " . قال عمر فلقيني النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك بثلاث فقال " يا عمر هل تدري من السايل ذاك جبريل اتاكم يعلمكم معالم دينكم " . حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا كهمس بن الحسن، بهذا الاسناد نحوه . حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن معاذ، عن كهمس، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . وفي الباب عن طلحة بن عبيد الله وانس بن مالك وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح قد روي من غير وجه نحو هذا عن عمر . وقد روي هذا الحديث عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم والصحيح هو ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم