Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو خواہشیں جوان رہتی ہیں: ایک مال کی ہوس دوسری لمبی عمر کی تمنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يهرم ابن ادم ويشب منه اثنان الحرص على المال والحرص على العمر " . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں، اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو هريرة، محمد بن فراس البصري حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة حدثنا ابو العوام، وهو عمران القطان عن قتادة، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل ابن ادم والى جنبه تسعة وتسعون منية ان اخطاته المنايا وقع في الهرم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا قبيصة، عن سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الطفيل بن ابى بن كعب، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذهب ثلثا الليل قام فقال " يا ايها الناس اذكروا الله اذكروا الله جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه جاء الموت بما فيه " . قال ابى قلت يا رسول الله اني اكثر الصلاة عليك فكم اجعل لك من صلاتي فقال " ما شيت " . قال قلت الربع . قال " ما شيت فان زدت فهو خير لك " . قلت النصف . قال " ما شيت فان زدت فهو خير لك " . قال قلت فالثلثين . قال " ما شيت فان زدت فهو خير لك " . قلت اجعل لك صلاتي كلها . قال " اذا تكفى همك ويغفر لك ذنبك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے“ ۱؎، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ۲؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ۳؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی جیسا کہ اس سے حیاء کرنے کا حق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اس حدیث کو اس سند سے ہم صرف ابان بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اور انہوں نے صباح بن محمد سے روایت کی ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا محمد بن عبيد، عن ابان بن اسحاق، عن الصباح بن محمد، عن مرة الهمداني، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استحيوا من الله حق الحياء " . قال قلنا يا رسول الله انا لنستحيي والحمد لله . قال " ليس ذاك ولكن الاستحياء من الله حق الحياء ان تحفظ الراس وما وعى وتحفظ البطن وما حوى وتتذكر الموت والبلى ومن اراد الاخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحيا من الله حق الحياء " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من هذا الوجه من حديث ابان بن اسحاق عن الصباح بن محمد
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور «من دان نفسه» کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے، ۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور «عرض الأكبر» ( آخرت کی پیشی ) کے لیے تدبیر کرو، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہو گا، ۴- میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابي بكر بن ابي مريم، ح وحدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عمرو بن عون، اخبرنا ابن المبارك، عن ابي بكر بن ابي مريم، عن ضمرة بن حبيب، عن شداد بن اوس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسه هواها وتمنى على الله " . قال هذا حديث حسن . قال ومعنى قوله " من دان نفسه " . يقول حاسب نفسه في الدنيا قبل ان يحاسب يوم القيامة . ويروى عن عمر بن الخطاب قال حاسبوا انفسكم قبل ان تحاسبوا وتزينوا للعرض الاكبر وانما يخف الحساب يوم القيامة على من حاسب نفسه في الدنيا . ويروى عن ميمون بن مهران قال لا يكون العبد تقيا حتى يحاسب نفسه كما يحاسب شريكه من اين مطعمه وملبسه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا ( خوش آمدید ) کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہو گئی اور تو میری طرف آ گیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آ گیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: ”اللہ اس پر ستر اژدہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژدہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن احمد بن مدويه الترمذي، حدثنا القاسم بن الحكم العرني، حدثنا عبيد الله بن الوليد الوصافي، عن عطية، عن ابي سعيد، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مصلاه فراى ناسا كانهم يكتشرون قال " اما انكم لو اكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما ارى فاكثروا من ذكر هاذم اللذات الموت فانه لم يات على القبر يوم الا تكلم فيه فيقول انا بيت الغربة وانا بيت الوحدة وانا بيت التراب وانا بيت الدود . فاذا دفن العبد المومن قال له القبر مرحبا واهلا اما ان كنت لاحب من يمشي على ظهري الى فاذ وليتك اليوم وصرت الى فسترى صنيعي بك . قال فيتسع له مد بصره ويفتح له باب الى الجنة . واذا دفن العبد الفاجر او الكافر قال له القبر لا مرحبا ولا اهلا اما ان كنت لابغض من يمشي على ظهري الى فاذ وليتك اليوم وصرت الى فسترى صنيعي بك . قال فيلتيم عليه حتى تلتقي عليه وتختلف اضلاعه . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم باصابعه فادخل بعضها في جوف بعض قال " ويقيض الله له سبعين تنينا لو ان واحدا منها نفخ في الارض ما انبتت شييا ما بقيت الدنيا فينهشنه ويخدشنه حتى يفضى به الى الحساب " . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما القبر روضة من رياض الجنة او حفرة من حفر النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ چٹائی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے سو میں نے دیکھا کہ چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر اثر کر گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ( وہی آپ کا ازواج مطہرات سے ایلاء کرنے کا قصہ ) ۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، قال سمعت ابن عباس، يقول اخبرني عمر بن الخطاب، قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا هو متكي على رمل حصير فرايت اثره في جنبه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وفي الحديث قصة طويلة
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ عمرو بن عوف رضی الله عنہ ( یہ بنو عامر بن لوی کے حلیف اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ) نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو بھیجا پھر وہ بحرین ( احساء ) سے کچھ مال غنیمت لے کر آئے، جب انصار نے ابوعبیدہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، ادھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو لوگ آپ کے سامنے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: ”شاید تم لوگوں نے یہ بات سن لی ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں“، لوگوں نے کہا جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر و محتاجی سے نہیں ڈرتا ہوں، البتہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی، پھر تم اس میں حرص و رغبت کرنے لگو جیسا کہ ان لوگوں نے حرص و رغبت کی، پھر دنیا تمہیں تباہ و برباد کر دے جیسا کہ اس نے ان کو تباہ و برباد کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، ويونس، عن الزهري، ان عروة بن الزبير، اخبره ان المسور بن مخرمة اخبره ان عمرو بن عوف وهو حليف بني عامر بن لوى وكان شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابا عبيدة بن الجراح فقدم بمال من البحرين وسمعت الانصار بقدوم ابي عبيدة فوافوا صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فتعرضوا له فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين راهم ثم قال " اظنكم سمعتم ان ابا عبيدة قدم بشيء " . قالوا اجل يا رسول الله . قال " فابشروا واملوا ما يسركم فوالله ما الفقر اخشى عليكم ولكني اخشى ان تبسط الدنيا عليكم كما بسطت على من قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها فتهلككم كما اهلكتهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! بیشک یہ مال ہرا بھرا میٹھا ہے، جو اسے خوش دلی سے لے لے گا تو اسے اس میں برکت نصیب ہو گی، اور جو اسے حریص بن کر لے گا اسے اس میں برکت حاصل نہ ہو گی، اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور اوپر کا ہاتھ ( دینے والا ) نیچے کے ہاتھ ( لینے والے ) سے بہتر ہے“، حکیم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! آپ کے بعد میں کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں، پھر ابوبکر رضی الله عنہ، حکیم رضی الله عنہ کو کچھ دینے کے لیے بلاتے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے، ان کے بعد عمر رضی الله عنہ نے بھی انہیں کچھ دینے کے لیے بلایا تو اسے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا، چنانچہ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! میں تم لوگوں کو حکیم پر گواہ بناتا ہوں کہ اس مال غنیمت میں سے میں ان کا حق پیش کرتا ہوں تو وہ اسے لینے سے انکار کرتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکیم رضی الله عنہ نے کسی شخص کے مال سے کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، وابن المسيب، ان حكيم بن حزام، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم قال " يا حكيم ان هذا المال خضرة حلوة فمن اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه وكان كالذي ياكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى " . فقال حكيم فقلت يا رسول الله والذي بعثك بالحق لا ارزا احدا بعدك شييا حتى افارق الدنيا . فكان ابو بكر يدعو حكيما الى العطاء فيابى ان يقبله ثم ان عمر دعاه ليعطيه فابى ان يقبل منه شييا فقال عمر اني اشهدكم يا معشر المسلمين على حكيم اني اعرض عليه حقه من هذا الفىء فيابى ان ياخذه . فلم يرزا حكيم احدا من الناس شييا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى توفي . قال هذا حديث صحيح
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکلیف اور تنگی میں آزمائے گئے تو اس پر ہم نے صبر کیا، پھر آپ کے بعد کی حالت میں کشادگی اور خوشی میں آزمائے گئے تو ہم صبر نہ کر سکے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو صفوان، عن يونس، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن بن عوف، قال ابتلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالضراء فصبرنا ثم ابتلينا بالسراء بعده فلم نصبر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مقصود زندگی آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں استغناء و بےنیازی پیدا کر دیتا ہے، اور اسے دل جمعی عطا کرتا ہے ۱؎، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کا مقصود طلب دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کی جمع خاطر کو پریشان کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہے“۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن الربيع بن صبيح، عن يزيد بن ابان، وهو الرقاشي عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت الاخرة همه جعل الله غناه في قلبه وجمع له شمله واتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت الدنيا همه جعل الله فقره بين عينيه وفرق عليه شمله ولم ياته من الدنيا الا ما قدر له
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن عمران بن زايدة بن نشيط، عن ابيه، عن ابي خالد الوالبي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله تعالى يقول يا ابن ادم تفرغ لعبادتي املا صدرك غنى واسد فقرك والا تفعل ملات يديك شغلا ولم اسد فقرك " . قال هذا حديث حسن غريب . وابو خالد الوالبي اسمه هرمز
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑی سی جو تھی، پھر جتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھر بقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہو گئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہاں عائشہ رضی الله عنہا کے قول «شطر» کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندنا شطر من شعير فاكلنا منه ما شاء الله ثم قلت للجارية كيليه فكالته فلم يلبث ان فني . قالت فلو كنا تركناه لاكلنا منه اكثر من ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . ومعنى قولها شطر تعني شييا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک باریک پردہ تھا جس پر تصویریں بنی تھیں، پردہ میرے دروازے پر لٹک رہا تھا، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”اس کو یہاں سے دور کر دو اس لیے کہ یہ مجھے دینا کی یاد دلاتا ہے“، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہمارے پاس ایک روئیں دار پرانی چادر تھی جس پر ریشم کے نشانات بنے ہوئے تھے اور اسے ہم اوڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن داود بن ابي هند، عن عزرة، عن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت كان لنا قرام ستر فيه تماثيل على بابي فراه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انزعيه فانه يذكرني الدنيا " . قالت وكان لنا سمل قطيفة علمها من حرير كنا نلبسها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ ( بستر ) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت وسادة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي يضطجع عليها من ادم حشوها ليف . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”اس میں سے کچھ باقی ہے؟“ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: ”دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي ميسرة، عن عايشة، انهم ذبحوا شاة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما بقي منها " . قالت ما بقي منها الا كتفها . قال " بقي كلها غير كتفها " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وابو ميسرة هو الهمداني اسمه عمرو بن شرحبيل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے تھے کہ ایک ایک مہینہ چولہا نہیں جلاتے تھے، ہمارا گزر بسر صرف کھجور اور پانی پر ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان كنا ال محمد نمكث شهرا ما نستوقد بنار ان هو الا الماء والتمر . قال هذا حديث صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ کی راہ میں ایسا ڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں، مجھ پر مسلسل تیس دن و رات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والا کھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپا لیتے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ـ اس حدیث میں وہ دن مراد ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ سے بیزار ہو کر مکہ سے نکل گئے تھے اور ساتھ میں بلال رضی الله عنہ تھے، ان کے پاس کچھ کھانا تھا جسے وہ بغل میں دبائے ہوئے تھے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، حدثنا روح بن اسلم ابو حاتم البصري، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد اخفت في الله وما يخاف احد ولقد اوذيت في الله وما يوذى احد ولقد اتت على ثلاثون من بين يوم وليلة وما لي ولبلال طعام ياكله ذو كبد الا شيء يواريه ابط بلال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . - ومعنى هذا الحديث حين خرج النبي صلى الله عليه وسلم فارا من مكة ومعه بلال انما كان مع بلال من الطعام ما يحمله تحت ابطه
علی بن ابی طالب کہتے ہیں کہ ایک ٹھنڈے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے میں نکلا اور ساتھ میں ایک بدبودار چمڑا لے لیا جس کے بال جھڑے ہوئے تھے، پھر بیچ سے میں نے اسے کاٹ کر اپنی گردن میں ڈال لیا اور اپنی کمر کو کھجور کی شاخ سے باندھ دیا، مجھے بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ کھانا ہوتا تو میں اس میں سے ضرور کھا لیتا، چنانچہ میں کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا، راستے میں ایک یہودی کے پاس سے گزرا جو اپنے باغ میں چرخی سے پانی دے رہا تھا، اس کو میں نے دیوار کی ایک سوراخ سے جھانکا تو اس نے کہا: اعرابی! کیا بات ہے؟ کیا تو ایک کھجور پر ایک ڈول پانی کھینچے گا؟ میں نے کہا: ہاں، اور اپنا دروازہ کھول دو تاکہ میں اندر آ جاؤں، اس نے دروازہ کھول دیا اور میں داخل ہو گیا، اس نے مجھے اپنا ڈول دیا، پھر جب بھی میں ایک ڈول پانی نکالتا تو وہ ایک کھجور مجھے دیتا یہاں تک کہ جب میری مٹھی بھر گئی تو میں نے اس کا ڈول چھوڑ دیا اور کہا کہ اتنا میرے لیے کافی ہے، چنانچہ میں نے اسے کھایا اور دو تین گھونٹ پانی پیا، پھر میں مسجد میں آیا اور وہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود پایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، حدثنا يزيد بن زياد، عن محمد بن كعب القرظي، حدثني من، سمع علي بن ابي طالب، يقول خرجت في يوم شات من بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اخذت اهابا معطونا فحولت وسطه فادخلته عنقي وشددت وسطي فحزمته بخوص النخل واني لشديد الجوع ولو كان في بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم طعام لطعمت منه فخرجت التمس شييا فمررت بيهودي في مال له وهو يسقي ببكرة له فاطلعت عليه من ثلمة في الحايط فقال ما لك يا اعرابي هل لك في كل دلو بتمرة قلت نعم فافتح الباب حتى ادخل ففتح فدخلت فاعطاني دلوه فكلما نزعت دلوا اعطاني تمرة حتى اذا امتلات كفي ارسلت دلوه وقلت حسبي فاكلتها ثم جرعت من الماء فشربت ثم جيت المسجد فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کو ایک مرتبہ بھوک لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو صرف ایک ایک کھجور دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عباس الجريري، قال سمعت ابا عثمان النهدي، يحدث عن ابي هريرة، انه اصابهم جوع فاعطاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم تمرة تمرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح