Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما منكم من رجل الا سيكلمه ربه يوم القيامة وليس بينه وبينه ترجمان فينظر ايمن منه فلا يرى شييا الا شييا قدمه ثم ينظر اشام منه فلا يرى شييا الا شييا قدمه ثم ينظر تلقاء وجهه فتستقبله النار ". قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استطاع منكم ان يقي وجهه حر النار ولو بشق تمرة فليفعل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا ابو السايب، حدثنا وكيع، يوما بهذا الحديث عن الاعمش، فلما فرغ وكيع من هذا الحديث قال من كان ها هنا من اهل خراسان فليحتسب في اظهار هذا الحديث بخراسان لان الجهمية ينكرون هذا . اسم ابي السايب سلم بن جنادة بن سلم بن خالد بن جابر بن سمرة الكوفي .هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم «عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے صرف حسین بن قیس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور حسین بن قیس اپنے حفظ کے قبیل سے ضعیف ہیں، ۳- اس باب میں ابوبرزہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا حصين بن نمير ابو محصن، حدثنا حسين بن قيس الرحبي، حدثنا عطاء بن ابي رباح، عن ابن عمر، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تزول قدما ابن ادم يوم القيامة من عند ربه حتى يسال عن خمس عن عمره فيما افناه وعن شبابه فيما ابلاه وماله من اين اكتسبه وفيم انفقه وماذا عمل فيما علم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من حديث الحسين بن قيس . وحسين بن قيس يضعف في الحديث من قبل حفظه . وفي الباب عن ابي برزة وابي سعيد
ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن عبداللہ بن جریج بصریٰ ہیں اور وہ ابوبرزہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، ابوبرزہ کا نام نضلہ بن عبید ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا الاسود بن عامر، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن سعيد بن عبد الله بن جريج، عن ابي برزة الاسلمي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسال عن عمره فيما افناه وعن علمه فيما فعل وعن ماله من اين اكتسبه وفيما انفقه وعن جسمه فيما ابلاه " . قال هذا حديث حسن صحيح . وسعيد بن عبد الله بن جريج هو بصري وهو مولى ابي برزة وابو برزة اسمه نضلة بن عبيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتدرون ما المفلس " . قالوا المفلس فينا يا رسول الله من لا درهم له ولا متاع . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المفلس من امتي من ياتي يوم القيامة بصلاته وصيامه وزكاته وياتي قد شتم هذا وقذف هذا واكل مال هذا وسفك دم هذا وضرب هذا فيقعد فيقتص هذا من حسناته وهذا من حسناته فان فنيت حسناته قبل ان يقتص ما عليه من الخطايا اخذ من خطاياهم فطرح عليه ثم طرح في النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے بندے پر رحم کرے جس کے پاس اس کے بھائی کا عزت یا مال میں کوئی بدلہ ہو، پھر وہ مرنے سے پہلے ہی اس کے پاس آ کے دنیا ہی میں اس سے معاف کرا لے کیونکہ قیامت کے روز نہ تو اس کے پاس دینار ہو گا اور نہ ہی درہم، پھر اگر ظالم کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کی نیکیوں سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں بھی نہیں ہوں گی تو مظلوموں کے گناہ ظالم کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سعید مقبری کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- مالک بن انس نے «عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا هناد، ونصر بن عبد الرحمن الكوفي، قال حدثنا المحاربي، عن ابي خالد، يزيد بن عبد الرحمن عن زيد بن ابي انيسة، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله عبدا كانت لاخيه عنده مظلمة في عرض او مال فجاءه فاستحله قبل ان يوخذ وليس ثم دينار ولا درهم فان كانت له حسنات اخذ من حسناته وان لم تكن له حسنات حملوا عليه من سيياتهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث سعيد المقبري . وقد رواه مالك بن انس عن سعيد المقبري عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لتودن الحقوق الى اهلها حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء " . وفي الباب عن ابي ذر وعبد الله بن انيس . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام لگی ہوتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني سليم بن عامر، حدثنا المقداد، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا كان يوم القيامة ادنيت الشمس من العباد حتى تكون قيد ميل او اثنين " . قال سليم لا ادري اى الميلين عنى امسافة الارض ام الميل الذي تكتحل به العين قال " فتصهرهم الشمس فيكونون في العرق بقدر اعمالهم فمنهم من ياخذه الى عقبيه ومنهم من ياخذه الى ركبتيه ومنهم من ياخذه الى حقويه ومنهم من يلجمه الجاما " . فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير بيده الى فيه اى يلجمه الجاما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي سعيد وابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو زكريا، يحيى بن درست البصري حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال حماد وهو عندنا مرفوع (يوم يقوم الناس لرب العالمين ) قال يقومون في الرشح الى انصاف اذانهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا هناد، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس حال میں ہو گا کہ وہ ننگے بدن، ننگے پیر اور ختنہ کے بغیر ہوں گے، پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، اور ہم اسے ضرور کر کے ہی رہیں گے“ ( الانبیاء: ۱۰۴ ) ، انسانوں میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، اور میری امت کے بعض لوگ دائیں اور بائیں طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں، تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکالیں، اور جب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہو یہ لوگ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے ہیں ۱؎، تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو ( اللہ کے ) نیک بندے عیسیٰ علیہ السلام نے کہی تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ”اگر تو انہیں عذاب دے تو یقیناً یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں تو بخش دے تو یقیناً تو غالب اور حکمت والا ہے“ ( المائدہ: ۱۱۸ ) ۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا كما خلقوا ثم قرا (كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين ) واول من يكسى من الخلايق ابراهيم ويوخذ من اصحابي برجال ذات اليمين وذات الشمال فاقول يا رب اصحابي . فيقال انك لا تدري ما احدثوا بعدك انهم لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم . فاقول كما قال العبد الصالح: (ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم) ". حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن المغيرة بن النعمان، بهذا الاسناد فذكر نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ میدان حشر میں پیدل اور سوار لائے جاؤ گے اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب کے میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انكم محشورون رجالا وركبانا وتجرون على وجوهكم " . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے، اور تیسری بار ان لوگوں کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے ہو گا اور کوئی بائیں ہاتھ میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حسن کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ثابت نہیں ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو «عن علي الرفاعي عن الحسن عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ حسن کا سماع ابوموسیٰ اشعری سے بھی ثابت نہیں ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن علي بن علي، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعرض الناس يوم القيامة ثلاث عرضات فاما عرضتان فجدال ومعاذير واما العرضة الثالثة فعند ذلك تطير الصحف في الايدي فاخذ بيمينه واخذ بشماله " . قال ابو عيسى ولا يصح هذا الحديث من قبل ان الحسن لم يسمع من ابي هريرة . وقد رواه بعضهم عن علي بن علي الرفاعي عن الحسن عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى ولا يصح هذا الحديث من قبل ان الحسن لم يسمع من ابي موسى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس سے حساب و کتاب میں سختی سے پوچھ تاچھ ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه فسوف يحاسب حسابا يسيرا» : ”جس شخص کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا“ ( الانشقاق: ۷ ) ۔ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے، ۲- ایوب نے بھی ابن ابی ملیکہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، عن عثمان بن الاسود، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من نوقش الحساب هلك " . قلت يا رسول الله ان الله تعالى يقول: (فاما من اوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا ) قال " ذلك العرض " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح حسن ورواه ايوب ايضا عن ابن ابي مليكة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کو قیامت کے روز بھیڑ کے بچے کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: میں نے تجھے مال و اسباب سے نواز دے، اور تجھ پر انعام کیا اس میں تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا اور اسے بڑھایا اور دنیا میں اسے پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، سو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج! تاکہ میں ان سب کو لے آؤں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جو کچھ تو نے عمل خیر کیا ہے اسے دکھا، وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا، اسے بڑھایا اور دنیا میں پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، مجھے دوبارہ بھیج تاکہ میں اسے لے آؤں، یہ اس بندے کا حال ہو گا جس نے خیر اور بھلائی کی راہ میں کوئی مال خرچ نہیں کیا ہو گا، چنانچہ اسے اللہ کے حکم کے مطابق جہنم میں ڈال دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی روایت کئی لوگوں نے حسن بصری سے کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ان کا قول ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، ۲- اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا اسماعيل بن مسلم، عن الحسن، وقتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يجاء بابن ادم يوم القيامة كانه بذج فيوقف بين يدى الله فيقول الله له اعطيتك وخولتك وانعمت عليك فماذا صنعت . فيقول يا رب جمعته وثمرته فتركته اكثر ما كان فارجعني اتك به . فيقول له ارني ما قدمت . فيقول يا رب جمعته وثمرته فتركته اكثر ما كان فارجعني اتك به . فاذا عبد لم يقدم خيرا فيمضى به الى النار " . قال ابو عيسى وقد روى هذا الحديث غير واحد عن الحسن قوله ولم يسندوه . واسماعيل بن مسلم يضعف في الحديث من قبل حفظه . وفي الباب عن ابي هريرة وابي سعيد الخدري
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا، باری تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے کان، آنکھ مال اور اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ اور چوپایوں اور کھیتی کو تیرے تابع کر دیا تھا، اور قوم کا تجھے سردار بنا دیا تھا جن سے بھرپور خدمت لیا کرتا تھا، پھر کیا تجھے یہ خیال بھی تھا کہ تو آج کے دن مجھ سے ملاقات کرے گا؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج میں بھی تجھے بھول جاتا ہوں جیسے تو مجھے دنیا میں بھول گیا تھا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اليوم أنساك» کا مطلب یہ ہے کہ آج کے دن میں تجھے عذاب میں ویسے ہی چھوڑ دوں گا جیسے بھولی چیز پڑی رہتی ہے۔ بعض اہل علم نے اسی طرح سے اس کی تفسیر کی ہے، ۳- بعض اہل علم آیت کریمہ «فاليوم ننساهم» کی یہ تفسیر کی ہے کہ آج کے دن ہم تمہیں عذاب میں بھولی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دیں گے۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري البصري، حدثنا مالك بن سعير ابو محمد التميمي الكوفي، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، وعن ابي سعيد، قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوتى بالعبد يوم القيامة فيقول الله له الم اجعل لك سمعا وبصرا ومالا وولدا وسخرت لك الانعام والحرث وتركتك تراس وتربع فكنت تظن انك ملاقي يومك هذا قال فيقول لا . فيقول له اليوم انساك كما نسيتني " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب . ومعنى قوله " اليوم انساك " . يقول اليوم اتركك في العذاب . هكذا فسروه . قال ابو عيسى وقد فسر بعض اهل العلم هذه الاية: ( اليوم ننساهم ) قالوا انما معناه اليوم نتركهم في العذاب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہو گا، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا“، آپ نے فرمایا: ”یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سعيد بن ابي ايوب، حدثنا يحيى بن ابي سليمان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم (يوميذ تحدث اخبارها ) قال " اتدرون ما اخبارها " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فان اخبارها ان تشهد على كل عبد او امة بما عمل على ظهرها ان تقول عمل كذا وكذا يوم كذا وكذا قال فهذه اخبارها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا: «صور» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سليمان التيمي، عن اسلم العجلي، عن بشر بن شغاف، عن عبد الله بن عمرو بن العاصي، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما الصور قال " قرن ينفخ فيه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى غير واحد عن سليمان التيمي ولا نعرفه الا من حديثه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل علیہ السلام «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: ”کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» یعنی ”اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث عطیہ سے کئی سندوں سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا خالد ابو العلاء، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف انعم وصاحب القرن قد التقم القرن واستمع الاذن متى يومر بالنفخ فينفخ " . فكان ذلك ثقل على اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال لهم " قولوا حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي من غير وجه هذا الحديث عن عطية عن ابي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر مومن کا شعار یہ ہو گا: «رب سلم سلم» میرے رب! مجھے سلامت رکھ، مجھے سلامت رکھ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق ( واسطی ہی ) کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شعار المومن على الصراط رب سلم سلم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث المغيرة بن شعبة لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن اسحاق . وفي الباب عن ابي هريرة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا: ”ضرور کروں گا“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟ آپ نے فرمایا: ”سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا“، میں نے عرض کیا: اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے، تو فرمایا: ”تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا“، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو؟ فرمایا: ”اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن الصباح الهاشمي، حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا حرب بن ميمون الانصاري ابو الخطاب، حدثنا النضر بن انس بن مالك، عن ابيه، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم ان يشفع لي يوم القيامة فقال " انا فاعل " . قال قلت يا رسول الله فاين اطلبك قال " اطلبني اول ما تطلبني على الصراط " . قال قلت فان لم القك على الصراط قال " فاطلبني عند الميزان " . قلت فان لم القك عند الميزان قال " فاطلبني عند الحوض فاني لا اخطي هذه الثلاث المواطن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے شفاعت کرے، تو بعض لوگ بعض سے کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلیں، لہٰذا لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے اندر اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا جنہوں نے آپ کا سجدہ کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے۔ کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے؟ آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، یقیناً اس نے مجھے ایک درخت سے منع فرمایا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے، اے نوح! آپ زمین والوں کی طرف بھیجے گئے، پہلے رسول تھے، اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ کہا ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے، نوح علیہ السلام ان لوگوں سے فرمائیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ نہ تو اس سے پہلے ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، میرے لیے ایک مقبول دعا تھی جسے میں نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے استعمال کر لیا، اور آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے ابراہیم! آپ زمین والوں میں سے اللہ کے نبی اور اس کے خلیل ( یعنی گہرے دوست ) ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، اور میں دنیا کے اندر تین جھوٹ بول چکا ہوں ( ابوحیان نے اپنی روایت میں ان تینوں جھوٹ کا ذکر کیا ہے ) آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعے تمام لوگوں پر فضیلت عطا کی ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، دنیا کے اندر میں نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا جسے مارنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، عیسیٰ کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا آپ اللہ کی روح ہیں، آپ نے لوگوں سے گود ہی میں کلام کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، اور انہوں نے اپنی کسی غلطی کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ آج تو میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ وہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور اس کے آخری نبی ہیں، آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجئے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں، ( آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) ”پھر میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کی تعظیم کے لیے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ میرے اوپر اپنے محامد اور حسن ثناء کو اس قدر کھول دے گا کہ مجھ سے پہلے اتنا کسی پر نہیں کھولا ہو گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! اپنے سر کو اٹھاؤ اور سوال کرو، اسے پورا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کر لیں، جن پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے، اور یہ سب ( امت محمد ) دیگر دروازوں میں بھی ( داخل ہونے میں ) اور لوگوں کے ساتھ شریک ہوں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے پٹوں میں سے دو پٹ کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، انس، عقبہ بن عامر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
اخبرنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا ابو حيان التيمي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم فرفع اليه الذراع فاكله وكانت تعجبه فنهس منها نهسة ثم قال " انا سيد الناس يوم القيامة هل تدرون لم ذاك يجمع الله الناس الاولين والاخرين في صعيد واحد فيسمعهم الداعي وينفذهم البصر وتدنو الشمس منهم فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون فيقول الناس بعضهم لبعض الا ترون ما قد بلغكم الا تنظرون من يشفع لكم الى ربكم فيقول الناس بعضهم لبعض عليكم بادم . فياتون ادم فيقولون انت ابو البشر خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وامر الملايكة فسجدوا لك اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه الا ترى ما قد بلغنا فيقول لهم ادم ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وانه قد نهاني عن الشجرة فعصيت نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى نوح . فياتون نوحا فيقولون يا نوح انت اول الرسل الى اهل الارض وقد سماك الله عبدا شكورا اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه الا ترى ما قد بلغنا فيقول لهم نوح ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وانه قد كان لي دعوة دعوتها على قومي نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى ابراهيم . فياتون ابراهيم فيقولون يا ابراهيم انت نبي الله وخليله من اهل الارض اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فيقول ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله واني قد كذبت ثلاث كذبات فذكرهن ابو حيان في الحديث نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى موسى . فياتون موسى فيقولون يا موسى انت رسول الله فضلك الله برسالته وبكلامه على البشر اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فيقول ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله واني قد قتلت نفسا لم اومر بقتلها نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى عيسى . فياتون عيسى فيقولون يا عيسى انت رسول الله وكلمته القاها الى مريم وروح منه وكلمت الناس في المهد اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فيقول عيسى ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله ولم يذكر ذنبا نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى محمد . قال فياتون محمدا فيقولون يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء وقد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فانطلق فاتي تحت العرش فاخر ساجدا لربي ثم يفتح الله على من محامده وحسن الثناء عليه شييا لم يفتحه على احد قبلي ثم يقال يا محمد ارفع راسك سل تعطه واشفع تشفع . فارفع راسي فاقول يا رب امتي يا رب امتي يا رب امتي . فيقول يا محمد ادخل من امتك من لا حساب عليه من الباب الايمن من ابواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الابواب ثم قال والذي نفسي بيده ان ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وهجر وكما بين مكة وبصرى " . وفي الباب عن ابي بكر الصديق وانس وعقبة بن عامر وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حيان التيمي اسمه يحيى بن سعيد بن حيان كوفي وهو ثقة وابو زرعة بن عمرو بن جرير اسمه هرم