احادیث
#2434
سنن ترمذی - The description of the Day of Judgement, Softening of Hearts (Riqāq), and Scrupulousness (Waraʿ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے شفاعت کرے، تو بعض لوگ بعض سے کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلیں، لہٰذا لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے اندر اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا جنہوں نے آپ کا سجدہ کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے۔ کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے؟ آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، یقیناً اس نے مجھے ایک درخت سے منع فرمایا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے، اے نوح! آپ زمین والوں کی طرف بھیجے گئے، پہلے رسول تھے، اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ کہا ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے، نوح علیہ السلام ان لوگوں سے فرمائیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ نہ تو اس سے پہلے ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، میرے لیے ایک مقبول دعا تھی جسے میں نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے استعمال کر لیا، اور آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے ابراہیم! آپ زمین والوں میں سے اللہ کے نبی اور اس کے خلیل ( یعنی گہرے دوست ) ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، اور میں دنیا کے اندر تین جھوٹ بول چکا ہوں ( ابوحیان نے اپنی روایت میں ان تینوں جھوٹ کا ذکر کیا ہے ) آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعے تمام لوگوں پر فضیلت عطا کی ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، دنیا کے اندر میں نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا جسے مارنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، عیسیٰ کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا آپ اللہ کی روح ہیں، آپ نے لوگوں سے گود ہی میں کلام کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہو گا، اور انہوں نے اپنی کسی غلطی کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ آج تو میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ وہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور اس کے آخری نبی ہیں، آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجئے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں، ( آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) ”پھر میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کی تعظیم کے لیے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ میرے اوپر اپنے محامد اور حسن ثناء کو اس قدر کھول دے گا کہ مجھ سے پہلے اتنا کسی پر نہیں کھولا ہو گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! اپنے سر کو اٹھاؤ اور سوال کرو، اسے پورا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کر لیں، جن پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے، اور یہ سب ( امت محمد ) دیگر دروازوں میں بھی ( داخل ہونے میں ) اور لوگوں کے ساتھ شریک ہوں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے پٹوں میں سے دو پٹ کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، انس، عقبہ بن عامر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
اخبرنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا ابو حيان التيمي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم فرفع اليه الذراع فاكله وكانت تعجبه فنهس منها نهسة ثم قال " انا سيد الناس يوم القيامة هل تدرون لم ذاك يجمع الله الناس الاولين والاخرين في صعيد واحد فيسمعهم الداعي وينفذهم البصر وتدنو الشمس منهم فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون فيقول الناس بعضهم لبعض الا ترون ما قد بلغكم الا تنظرون من يشفع لكم الى ربكم فيقول الناس بعضهم لبعض عليكم بادم . فياتون ادم فيقولون انت ابو البشر خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وامر الملايكة فسجدوا لك اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه الا ترى ما قد بلغنا فيقول لهم ادم ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وانه قد نهاني عن الشجرة فعصيت نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى نوح . فياتون نوحا فيقولون يا نوح انت اول الرسل الى اهل الارض وقد سماك الله عبدا شكورا اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه الا ترى ما قد بلغنا فيقول لهم نوح ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وانه قد كان لي دعوة دعوتها على قومي نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى ابراهيم . فياتون ابراهيم فيقولون يا ابراهيم انت نبي الله وخليله من اهل الارض اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فيقول ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله واني قد كذبت ثلاث كذبات فذكرهن ابو حيان في الحديث نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى موسى . فياتون موسى فيقولون يا موسى انت رسول الله فضلك الله برسالته وبكلامه على البشر اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فيقول ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله واني قد قتلت نفسا لم اومر بقتلها نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى عيسى . فياتون عيسى فيقولون يا عيسى انت رسول الله وكلمته القاها الى مريم وروح منه وكلمت الناس في المهد اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فيقول عيسى ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله ولم يذكر ذنبا نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري اذهبوا الى محمد . قال فياتون محمدا فيقولون يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء وقد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر اشفع لنا الى ربك الا ترى ما نحن فيه فانطلق فاتي تحت العرش فاخر ساجدا لربي ثم يفتح الله على من محامده وحسن الثناء عليه شييا لم يفتحه على احد قبلي ثم يقال يا محمد ارفع راسك سل تعطه واشفع تشفع . فارفع راسي فاقول يا رب امتي يا رب امتي يا رب امتي . فيقول يا محمد ادخل من امتك من لا حساب عليه من الباب الايمن من ابواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الابواب ثم قال والذي نفسي بيده ان ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وهجر وكما بين مكة وبصرى " . وفي الباب عن ابي بكر الصديق وانس وعقبة بن عامر وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حيان التيمي اسمه يحيى بن سعيد بن حيان كوفي وهو ثقة وابو زرعة بن عمرو بن جرير اسمه هرم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- The description of the Day of Judgement, Softening of Hearts (Riqāq), and Scrupulousness (Waraʿ)
- Hadith Index
- #2434
- Book Index
- 20
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
