Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا العباس العنبري، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شفاعتي لاهل الكباير من امتي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن جابر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی“۔ محمد بن علی الباقر کہتے ہیں: مجھ سے جابر رضی الله عنہ نے کہا: محمد! جو اہل کبائر میں سے نہ ہوں گے انہیں شفاعت سے کیا تعلق؟ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث جعفر الصادق بن محمد الباقر کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود الطيالسي، عن محمد بن ثابت البناني، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شفاعتي لاهل الكباير من امتي " . قال محمد بن علي فقال لي جابر يا محمد من لم يكن من اهل الكباير فما له وللشفاعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه يستغرب من حديث جعفر بن محمد
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا اور نہ ان پر کوئی عذاب، ( پھر ) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن محمد بن زياد الالهاني، قال سمعت ابا امامة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " وعدني ربي ان يدخل الجنة من امتي سبعين الفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل الف سبعون الفا وثلاث حثيات من حثياته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے“، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ ہو گا“، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، قال كنت مع رهط بايلياء فقال رجل منهم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يدخل الجنة بشفاعة رجل من امتي اكثر من بني تميم " . قيل يا رسول الله سواك قال " سواى " . فلما قام قلت من هذا قالوا هذا ابن ابي الجذعاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابن ابي الجذعاء هو عبد الله وانما يعرف له هذا الحديث الواحد
حسن بصری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان بن عفان رضی الله عنہ قیامت کے دن قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر، لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے“۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، محمد بن يزيد الكوفي حدثنا يحيى بن اليمان، عن جسر ابي جعفر، عن الحسن البصري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يشفع عثمان بن عفان يوم القيامة في مثل ربيعة ومضر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، اخبرنا الفضل بن موسى، عن زكريا بن ابي زايدة، عن عطية، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من امتي من يشفع للفيام ومنهم من يشفع للقبيلة ومنهم من يشفع للعصبة ومنهم من يشفع للرجل حتى يدخلوا الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عوف بن مالک اشجعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا ( جبرائیل علیہ السلام ) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو، چنانچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوملیح نے ایک اور صحابی سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ( لیکن ) اس میں عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا، اس حدیث میں ایک طویل قصہ مذکور ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي المليح، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني ات من عند ربي فخيرني بين ان يدخل نصف امتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة وهي لمن مات لا يشرك بالله شييا " . وقد روي عن ابي المليح عن رجل اخر من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر عن عوف بن مالك وفي الحديث قصة طويلة . حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن ابي المليح، عن عوف بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میرے حوض پر آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پیالے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا بشر بن شعيب بن ابي حمزة، حدثني ابي، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان في حوضي من الاباريق بعدد نجوم السماء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک حوض ہو گا، اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر پانی پینے والے زیادہ جمع ہوتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر ( اللہ کے فضل سے ) سب سے زیادہ لوگ جمع ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن علي بن نيزك البغدادي، حدثنا محمد بن بكار الدمشقي، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي حوضا وانهم يتباهون ايهم اكثر واردة واني ارجو ان اكون اكثرهم واردة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد روى الاشعث بن عبد الملك هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ولم يذكر فيه عن سمرة وهو اصح
ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے میرے پاس بلاوے کا پیغام بھیجا، چنانچہ میں ڈاک سواری خچر پر سوار ہو کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ڈاک سواری خچر کی سواری مجھ پر شاق گزری تو انہوں نے کہا: ابو سلام! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن میں نے تمہارے بارے میں یہ سنا ہے کہ تم ثوبان رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہو، چنانچہ میری یہ خواہش ہوئی کہ وہ حدیث تم سے براہ راست سن لوں، ابو سلام نے کہا: ثوبان رضی الله عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے اردن والے عمان تک کا فاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا، سب سے پہلے اس پر فقراء مہاجرین پہنچیں گے، جن کے سر دھول سے اٹے ہوں گے اور ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے، جو ناز و نعم عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے جاہ و منزلت کے دروازے کھولے جاتے“۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح کیا اور میرے لیے جاہ و منزلت کے دروازے بھی کھولے گئے، میں نے فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اپنے سر کو نہیں دھوتا یہاں تک کہ وہ غبار آلود نہ ہو جائے اور اپنے بدن کے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوتا جب تک کہ میلے نہ ہو جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث معدان بن ابی طلحہ کے واسطے سے «عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ۳- ابو سلام حبشی کا نام ممطور ہے، یہ شامی ہیں اور ثقہ راوی ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا يحيى بن صالح، حدثنا محمد بن المهاجر، عن العباس، عن ابي سلام الحبشي، قال بعث الى عمر بن عبد العزيز فحملت على البريد . قال فلما دخل عليه قال يا امير المومنين لقد شق على مركبي البريد . فقال يا ابا سلام ما اردت ان اشق عليك ولكن بلغني عنك حديث تحدثه عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم في الحوض فاحببت ان تشافهني به . قال ابو سلام حدثني ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " حوضي من عدن الى عمان البلقاء ماوه اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل واكاويبه عدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظما بعدها ابدا اول الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا الدنس ثيابا الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم السدد " . قال عمر لكني نكحت المتنعمات وفتح لي السدد ونكحت فاطمة بنت عبد الملك لا جرم اني لا اغسل راسي حتى يشعث ولا اغسل ثوبي الذي يلي جسدي حتى يتسخ . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث عن معدان بن ابي طلحة عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو سلام الحبشي اسمه ممطور وهو شامي ثقة
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً اس کے برتن تاروں سے بھی زیادہ ہیں اس تاریک رات میں جس میں آسمان سے بادل چھٹ گیا ہو، اور اس کے پیالے جنت کے برتنوں میں سے ہوں گے، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس کا فاصلہ اتنا ہے جتنا عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ بن یمان، عبداللہ بن عمرو، ابوبرزہ اسلمی، ابن عمر، حارثہ بن وہب اور مستورد بن شداد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کا فاصلہ اتنا ہے جتنا کوفہ سے حجر اسود تک کا فاصلہ ہے“۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عبد الصمد العمي عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا ابو عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قلت يا رسول الله ما انية الحوض قال " والذي نفسي بيده لانيته اكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في ليلة مظلمة مصحية من انية الجنة من شرب منها شربة لم يظما اخر ما عليه عرضه مثل طوله ما بين عمان الى ايلة ماوه اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وفي الباب عن حذيفة بن اليمان وعبد الله بن عمرو وابي برزة الاسلمي وابن عمر وحارثة بن وهب والمستورد بن شداد . - وروي عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " حوضي كما بين الكوفة الى الحجر الاسود
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا، تو آپ نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے، آپ اپنے سر کو بلند کیجئے اور دیکھئیے: تو یکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ کی امت میں ستر ہزار اور ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ سے اس کی بابت نہیں پوچھ سکے اور نہ ہی آپ نے ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کی، چنانچہ ان میں سے بعض صحابہ نے کہا: شاید وہ ہم ہی لوگ ہوں اور بعض نے کہا: شاید ہماری وہ اولاد ہیں جو فطرت اسلام پر پیدا ہوئیں۔ لوگ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدن پر داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑ پھونک اور منتر کرواتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں، وہ صرف اپنے رب پر توکل و اعتماد کرتے ہیں“، اسی اثناء میں عکاشہ بن محصن رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( تم بھی انہی میں سے ہو ) پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”عکاشہ نے تم پر سبقت حاصل کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو حصين عبد الله بن احمد بن يونس، كوفي حدثنا عبثر بن القاسم، حدثنا حصين، هو ابن عبد الرحمن عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما اسري بالنبي صلى الله عليه وسلم جعل يمر بالنبي والنبيين ومعهم القوم والنبي والنبيين ومعهم الرهط والنبي والنبيين وليس معهم احد حتى مر بسواد عظيم فقلت من هذا قيل موسى وقومه ولكن ارفع راسك فانظر . قال فاذا سواد عظيم قد سد الافق من ذا الجانب ومن ذا الجانب فقيل هولاء امتك وسوى هولاء من امتك سبعون الفا يدخلون الجنة بغير حساب . فدخل ولم يسالوه ولم يفسر لهم فقالوا نحن هم . وقال قايلون هم ابناونا الذين ولدوا على الفطرة والاسلام . فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فقال " هم الذين لا يكتوون ولا يسترقون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون " . فقام عكاشة بن محصن فقال انا منهم يا رسول الله قال " نعم " . ثم قام اخر فقال انا منهم فقال " سبقك بها عكاشة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں وہ چیزیں نہیں دیکھتا جن پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کرتے تھے، راوی حدیث ابوعمران جونی نے کہا: کیا آپ نماز نہیں دیکھتے؟ انس رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم لوگوں نے نماز میں وہ سب نہیں کیا جو تم جانتے ہو؟ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوعمران جونی کی روایت سے غریب حسن ہے، ۲- یہ حدیث انس کے واسطے سے اس کے علاوہ اور کئی سندوں سے مروی ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن بزيع، حدثنا زياد بن الربيع، حدثنا ابو عمران الجوني، عن انس بن مالك، قال ما اعرف شييا مما كنا عليه على عهد النبي صلى الله عليه وسلم . فقلت اين الصلاة قال اولم تصنعوا في صلاتكم ما قد علمتم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ابي عمران الجوني وقد روي من غير وجه عن انس
اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین کو شبہات سے ملائے، اور برا ہے وہ بندہ جسے لالچ اپنی طرف کھینچ لے، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کا ہوائے نفسانی گمراہ کر دے اور برا ہے وہ بندہ جسے حرص ذلیل و رسوا کر دے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي البصري، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا هاشم، وهو ابن سعيد الكوفي حدثني زيد الخثعمي، عن اسماء بنت عميس الخثعمية، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بيس العبد عبد تخيل واختال ونسي الكبير المتعال بيس العبد عبد تجبر واعتدى ونسي الجبار الاعلى بيس العبد عبد سها ولها ونسي المقابر والبلى بيس العبد عبد عتا وطغى ونسي المبتدا والمنتهى بيس العبد عبد يختل الدنيا بالدين بيس العبد عبد يختل الدين بالشبهات بيس العبد عبد طمع يقوده بيس العبد عبد هوى يضله بيس العبد عبد رغب يذله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وليس اسناده بالقوي
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن بندہ کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے گا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی پیاسے مومن کو پانی پلائے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے «الرحيق المختوم» ( مہر بند شراب ) پلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی ننگے بدن والے مومن کو کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث عطیہ کے واسطے سے ابو سعید خدری سے موقوفا مروی ہے، اور ہمارے نزدیک یہی سند سب سے زیادہ اقرب اور صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المودب، حدثنا عمار بن محمد ابن اخت، سفيان الثوري حدثنا ابو الجارود الاعمى، واسمه، زياد بن المنذر الهمداني عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما مومن اطعم مومنا على جوع اطعمه الله يوم القيامة من ثمار الجنة وايما مومن سقى مومنا على ظما سقاه الله يوم القيامة من الرحيق المختوم وايما مومن كسا مومنا على عرى كساه الله من خضر الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وقد روي هذا عن عطية عن ابي سعيد موقوف وهو اصح عندنا واشبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دشمن کے حملہ سے ڈرا اور شروع رات ہی میں سفر میں نکل پڑا وہ منزل کو پہنچ گیا ۱؎، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان بڑی قیمت والا ہے، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان جنت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب ہے، اسے ہم صرف ابونضر ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي النضر، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو عقيل الثقفي، حدثنا ابو فروة، يزيد بن سنان التميمي حدثني بكير بن فيروز، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خاف ادلج ومن ادلج بلغ المنزل الا ان سلعة الله غالية الا ان سلعة الله الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابي النضر
عطیہ سعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی حرج نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے، جس میں برائی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي النضر، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو عقيل الثقفي عبد الله بن عقيل، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثني ربيعة بن يزيد، وعطية بن قيس، عن عطية السعدي، وكان، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين حتى يدع ما لا باس به حذرا لما به الباس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری وہی کیفیت رہے، جیسی میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے پروں سے تم پر سایہ کریں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حنظلہ اسیدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سند کے علاوہ دیگر سندوں سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا ابو داود، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن يزيد بن عبد الله بن الشخير، عن حنظلة الاسيدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو انكم تكونون كما تكونون عندي لاظلتكم الملايكة باجنحتها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن حنظلة الاسيدي عن النبي صلى الله عليه وسلم . وفي الباب عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
حدثنا يوسف بن سلمان ابو عمر البصري، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان لكل شيء شرة ولكل شرة فترة فان كان صاحبها سدد وقارب فارجوه وان اشير اليه بالاصابع فلا تعدوه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . - وقد روي عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " بحسب امري من الشر ان يشار اليه بالاصابع في دين او دنيا الا من عصمه الله
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع خط ( یعنی چوکور ) لکیر کھینچی اور ایک لکیر درمیان میں اس سے باہر نکلتا ہوا کھینچی، اور اس درمیانی لکیر کے بغل میں چند چھوٹی چھوٹی لکیریں اور کھینچی، پھر فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے اور یہ لکیر اس کی موت کی ہے جو ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔ اور یہ درمیان والی لکیر انسان ہے ( یعنی اس کی آرزوئیں ہیں ) اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں انسان کو پیش آنے والے حوادث ہیں، اگر ایک حادثہ سے وہ بچ نکلا تو دوسرا اسے ڈس لے گا اور باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن ابي يعلى، عن الربيع بن خثيم، عن عبد الله بن مسعود، قال خط لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطا مربعا وخط في وسط الخط خطا وخط خارجا من الخط خطا وحول الذي في الوسط خطوطا فقال " هذا ابن ادم وهذا اجله محيط به وهذا الذي في الوسط الانسان وهذه الخطوط عروضه ان نجا من هذا ينهشه هذا والخط الخارج الامل " . هذا حديث صحيح