Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین سو کی تعداد میں بھیجا، ہم اپنا اپنا زاد سفر اٹھائے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہر آدمی کے حصہ میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی، ان سے کہا گیا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا؟ جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، انہوں نے فرمایا: ہم سمندر کے کنارے پہنچے آخر ہمیں ایک مچھلی ملی، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، چنانچہ ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک جس طرح چاہا سیر ہو کر کھاتے رہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث جابر کے واسطے سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، ۳- اس حدیث کو مالک بن انس نے وہب بن کیسان سے اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن ثلاثماية نحمل زادنا على رقابنا ففني زادنا حتى ان كان يكون للرجل منا كل يوم تمرة . فقيل له يا ابا عبد الله واين كانت تقع التمرة من الرجل فقال لقد وجدنا فقدها حين فقدناها واتينا البحر فاذا نحن بحوت قد قذفه البحر فاكلنا منه ثمانية عشر يوما ما احببنا . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر بن عبد الله . ورواه مالك بن انس عن وهب بن كيسان اتم من هذا واطول
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر ۱؎ آئے ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز و نعمت کو دیکھ کر رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں ان دنوں تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جب کہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا اور اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اٹھایا جائے گا، اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردہ ڈالو گے جیسا کہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے؟ ۲؎“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت و مشقت سے بچ جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یزید بن زیاد سے مراد یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے روایت کی ہے اور ( دوسرے ) یزید بن زیاد دمشقی وہ ہیں جنہوں نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان سے ( یعنی دمشقی سے ) وکیع اور مروان بن معاویہ نے روایت کیا ہے، اور ( تیسرے ) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں ۳؎۔
حدثنا هناد، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، حدثني يزيد بن زياد، عن محمد بن كعب القرظي، حدثني من، سمع علي بن ابي طالب، يقول انا لجلوس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد اذ طلع علينا مصعب بن عمير ما عليه الا بردة له مرقوعة بفرو فلما راه رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى للذي كان فيه من النعمة والذي هو اليوم فيه ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف بكم اذا غدا احدكم في حلة وراح في حلة ووضعت بين يديه صحفة ورفعت اخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة " . قالوا يا رسول الله نحن يوميذ خير منا اليوم نتفرغ للعبادة ونكفى المونة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لانتم اليوم خير منكم يوميذ " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ويزيد بن زياد هو ابن ميسرة وهو مدني وقد روى عنه مالك بن انس وغير واحد من اهل العلم ويزيد بن زياد الدمشقي الذي روى عن الزهري روى عنه وكيع ومروان بن معاوية ويزيد بن ابي زياد كوفي روى عنه سفيان وشعبة وابن عيينة وغير واحد من الايمة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ مال اور اہل و عیال والے نہ تھے، قسم ہے اس معبود کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بھوک کی شدت سے میں اپنا پیٹ زمین پر رکھ دیتا تھا اور بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں لوگوں کی گزرگاہ پر بیٹھ گیا، اس طرف سے ابوبکر رضی الله عنہ گزرے تو میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت اس وجہ سے پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں لیکن وہ چلے گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لیا، پھر عمر رضی الله عنہ گزرے، ان سے بھی میں نے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں مگر وہ بھی آگے بڑھ گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ پھر ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر مسکرایا اور فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”ساتھ چلو“ اور آپ چل پڑے، میں بھی ساتھ میں ہو لیا، آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر میں نے بھی اجازت چاہی، چنانچہ مجھے اجازت دے دی گئی، وہاں آپ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، دریافت فرمایا: ”یہ دودھ کہاں سے ملا؟“ عرض کیا گیا: فلاں نے اسے ہدیہ بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اہل صفہ کو بلا لاؤ“، یہ مسلمانوں کے مہمان تھے ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، گھربار تھا نہ کوئی مال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی صدقہ آتا تھا تو اسے ان کے پاس بھیج دیتے تھے، اس میں سے آپ کچھ نہیں لیتے تھے، اور جب کوئی ہدیہ آتا تو ان کو بلا بھیجتے، اس میں سے آپ بھی کچھ لے لیتے، اور ان کو بھی اس میں شریک فرماتے، لیکن اس ذرا سے دودھ کے لیے آپ کا مجھے بھیجنا ناگوار گزرا اور میں نے ( دل میں ) کہا: اہل صفہ کا کیا بنے گا؟ اور میں انہیں بلانے جاؤں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہی حکم دیں گے کہ اس پیالے میں جو کچھ ہے انہیں دوں، مجھے یقین ہے کہ اس میں سے مجھے کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ضرور ملے گا جو میرے لیے کافی ہو جائے گا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چنانچہ میں ان سب کو بلا لایا، جب وہ سب آپ کے پاس آئے اور اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ پیالہ ان لوگوں کو دے دو“، چنانچہ میں وہ پیالہ ایک ایک کو دینے لگا، جب ایک شخص پی کر سیر ہو جاتا تو میں دوسرے شخص کو دیتا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، ساری قوم سیر ہو چکی تھی ( یا سب لوگ سیر ہو چکے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ لے کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا پھر اپنا سر اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ دودھ پیو“، چنانچہ میں نے پیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اسے پیو“ میں پیتا رہا اور آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق لے کر بھیجا ہے اب میں پینے کی گنجائش نہیں پاتا، پھر آپ نے پیالہ لیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور بسم اللہ کہہ کر دودھ پیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله القرشي، حدثنا يحيى البكاء، عن ابن عمر، قال تجشا رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كف عنا جشاءك فان اكثرهم شبعا في الدنيا اطولهم جوعا يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن ابي جحيفة
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے کپڑے اون کے ہوتے تھے، جب اس پر بارش کا پانی پڑتا تو اس سے بھیڑ کی جیسی بو آنے لگتی تھی ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، قال يا بنى لو رايتنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم واصابتنا السماء لحسبت ان ريحنا ريح الضان . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . ومعنى هذا الحديث انه كان ثيابهم الصوف فكان اذا اصابهم المطر يجيء من ثيابهم ريح الضان
ابوحمزہ سے روایت ہے کہ ابراہیم نخعی کہتے ہیں: گھر مکان سب کا سب ہر عمارت باعث وبال ہے، میں نے کہا: اس مکان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جسے بنائے بغیر چارہ نہیں انہوں نے کہا: نہ اس میں کوئی اجر ہے اور نہ کوئی گناہ۔
حدثنا الجارود بن معاذ، حدثنا الفضل بن موسى، عن سفيان الثوري، عن ابي حمزة، عن ابراهيم النخعي، قال البناء كله وبال قلت ارايت ما لا بد منه قال لا اجر ولا وزر
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص زینت کا لباس خالص اللہ کی رضا مندی اور اس کی تواضع کی خاطر چھوڑ دے باوجود یہ کہ وہ اسے میسر ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے دن تمام خلائق کے سامنے بلائے گا تاکہ وہ اہل ایمان کے لباس میں سے جسے چاہے پسند کرے، اور پہنے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- «حلل الإيمان» سے جنت کے وہ لباس مراد ہیں جو اہل ایمان کو دیئے جائیں گے۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، عن ابي مرحوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ترك اللباس تواضعا لله وهو يقدر عليه دعاه الله يوم القيامة على رءوس الخلايق حتى يخيره من اى حلل الايمان شاء يلبسها " . هذا حديث حسن . ومعنى قوله " حلل الايمان " . يعني ما يعطى اهل الايمان من حلل الجنة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا زافر بن سليمان، عن اسراييل، عن شبيب بن بشير، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النفقة كلها في سبيل الله الا البناء فلا خير فيه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . هكذا قال محمد بن حميد شبيب بن بشير وانما هو شبيب بن بشر
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب رضی الله عنہ کے پاس عیادت کرنے کے لیے آئے، انہوں نے اپنے بدن میں سات داغ لگوا رکھے تھے، انہوں نے کہا: یقیناً میرا مرض بہت لمبا ہو گیا ہے، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ”موت کی تمنا نہ کرو“، تو میں ضرور اس کی تمنا کرتا، اور آپ نے فرمایا: ”آدمی کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے“، یا فرمایا: ”گھر بنانے میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب، قال اتينا خبابا نعوده وقد اكتوى سبع كيات فقال لقد تطاول مرضي ولولا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تمنوا الموت " . لتمنيت وقال " يوجر الرجل في نفقته كلها الا التراب او قال في البناء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حصین کہتے ہیں کہ ایک سائل نے آ کر ابن عباس رضی الله عنہما سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: تم نے سوال کیا اور سائل کا حق ہوتا ہے، بیشک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں، چنانچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کو کوئی کپڑا پہناتا ہے تو وہ اللہ کی امان میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی اس پر باقی رہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا خالد بن طهمان ابو العلاء، حدثنا حصين، قال جاء سايل فسال ابن عباس فقال ابن عباس للسايل اتشهد ان لا، اله الا الله قال نعم . قال اتشهد ان محمدا رسول الله قال نعم . قال وتصوم رمضان قال نعم . قال سالت وللسايل حق انه لحق علينا ان نصلك . فاعطاه ثوبا ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من مسلم كسا مسلما ثوبا الا كان في حفظ الله ما دام منه عليه خرقة " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ کو دیکھوں، پھر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، اور سب سے پہلی بات جو آپ نے کہی وہ یہ تھی ”لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، ومحمد بن جعفر، وابن ابي عدي، ويحيى بن سعيد، عن عوف بن ابي جميلة الاعرابي، عن زرارة بن اوفى، عن عبد الله بن سلام، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة انجفل الناس اليه وقيل قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فجيت في الناس لانظر اليه فلما استبنت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم عرفت ان وجهه ليس بوجه كذاب وكان اول شيء تكلم به ان قال " ايها الناس افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا والناس نيام تدخلون الجنة بسلام " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا ( اجر و ثواب میں ) صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا محمد بن معن المدني الغفاري، حدثني ابي، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الطاعم الشاكر بمنزلة الصايم الصابر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس مہاجرین نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ان سے بڑھ کر ہم نے کوئی قوم ایسی نہیں دیکھی جو اپنے مال بہت زیادہ خرچ کرنے والی ہے اور تھوڑے مال ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کے ساتھ غم خواری کرنے والی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہم کو محنت و مشقت سے باز رکھا اور ہم کو آرام و راحت میں شریک کیا یہاں تک کہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری ساری نیکیوں کا ثواب کہیں انہیں کو نہ مل جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات ایسی نہیں ہے جیسا تم نے سمجھا ہے جب تک تم لوگ اللہ سے ان کے لیے دعائے خیر کرتے رہو گے اور ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الحسين بن الحسن المروزي، بمكة حدثنا ابن ابي عدي، حدثنا حميد، عن انس، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة اتاه المهاجرون فقالوا يا رسول الله ما راينا قوما ابذل من كثير ولا احسن مواساة من قليل من قوم نزلنا بين اظهرهم لقد كفونا المونة واشركونا في المهنا حتى خفنا ان يذهبوا بالاجر كله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ما دعوتم الله لهم واثنيتم عليهم " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے؟ جہنم کی آگ لوگوں کے قریب رہنے والے، آسانی کرنے والے، اور نرم اخلاق والے پر حرام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن عمرو الاودي، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم بمن يحرم على النار او بمن تحرم عليه النار على كل قريب هين لين سهل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں مشغول ہو جاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہو جاتا تو کھڑے ہوتے اور نماز پڑھنے لگتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود بن يزيد، قال قلت لعايشة اى شيء كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع اذا دخل بيته قالت كان يكون في مهنة اهله فاذا حضرت الصلاة قام فصلى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عمران بن زيد التغلبي، عن زيد العمي، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا استقبله الرجل فصافحه لا ينزع يده من يده حتى يكون الرجل الذي ينزع ولا يصرف وجهه عن وجهه حتى يكون الرجل هو الذي يصرفه ولم ير مقدما ركبتيه بين يدى جليس له . قال هذا حديث غريب
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے اگلی امتوں میں سے ایک شخص ایک جوڑا پہن کر اس میں اتراتا ہوا نکلا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا، پس وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خرج رجل ممن كان قبلكم في حلة له يختال فيها فامر الله الارض فاخذته فهو يتجلجل فيها او قال يتلجلج فيها الى يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متکبر ( گھمنڈ کرنے والے ) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایا جائے گا، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام «بولس» ہے۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے «طينة الخبال» کہتے ہیں، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن محمد بن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحشر المتكبرون يوم القيامة امثال الذر في صور الرجال يغشاهم الذل من كل مكان فيساقون الى سجن في جهنم يسمى بولس تعلوهم نار الانيار يسقون من عصارة اهل النار طينة الخبال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غصہ پر قابو پا لیا اس حال میں کہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ وہ جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے پسند کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، وعباس بن محمد الدوري، قالا حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، حدثني ابو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كظم غيظا وهو يقدر على ان ينفذه دعاه الله على رءوس الخلايق يوم القيامة حتى يخيره في اى الحور شاء " . قال هذا حديث حسن غريب
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین خصلتیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے اندر پائی جائیں تو قیامت کے روز اللہ اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھے گا، اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ ( ۱ ) ضعیفوں کے ساتھ نرم برتاؤ کرے ( ۲ ) ماں باپ کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرے، ( ۳ ) لونڈیوں اور غلاموں پر احسان کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الله بن ابراهيم الغفاري المدني، حدثني ابي، عن ابي بكر بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث من كن فيه نشر الله عليه كنفه وادخله جنته رفق بالضعيف وشفقة على الوالدين واحسان الى المملوك " قال هذا حديث حسن غريب . وابو بكر بن المنكدر هو اخو محمد بن المنكدر
حدثنا هناد، حدثنا يونس بن بكير، حدثني عمر بن ذر، حدثنا مجاهد، عن ابي هريرة، قال كان اهل الصفة اضياف اهل الاسلام لا ياوون على اهل ولا مال والله الذي لا اله الا هو ان كنت لاعتمد بكبدي على الارض من الجوع واشد الحجر على بطني من الجوع ولقد قعدت يوما على طريقهم الذي يخرجون فيه فمر بي ابو بكر فسالته عن اية من كتاب الله ما سالته الا ليستتبعني فمر ولم يفعل ثم مر بي عمر فسالته عن اية من كتاب الله ما اساله الا ليستتبعني فمر ولم يفعل ثم مر بي ابو القاسم صلى الله عليه وسلم فتبسم حين راني وقال " ابا هريرة " . قلت لبيك يا رسول الله . قال " الحق " . ومضى فاتبعته ودخل منزله فاستاذنت فاذن لي فوجد قدحا من لبن فقال " من اين هذا اللبن لكم " . قيل اهداه لنا فلان . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابا هريرة " . قلت لبيك . فقال " الحق الى اهل الصفة فادعهم " . وهم اضياف اهل الاسلام لا ياوون على اهل ولا مال اذا اتته صدقة بعث بها اليهم ولم يتناول منها شييا واذا اتته هدية ارسل اليهم فاصاب منها واشركهم فيها فساءني ذلك وقلت ما هذا القدح بين اهل الصفة وانا رسوله اليهم فسيامرني ان اديره عليهم فما عسى ان يصيبني منه وقد كنت ارجو ان اصيب منه ما يغنيني ولم يكن بد من طاعة الله وطاعة رسوله فاتيتهم فدعوتهم فلما دخلوا عليه فاخذوا مجالسهم فقال " ابا هريرة خذ القدح واعطهم " . فاخذت القدح فجعلت اناوله الرجل فيشرب حتى يروى ثم يرده فاناوله الاخر حتى انتهيت به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد روي القوم كلهم فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم القدح فوضعه على يديه ثم رفع راسه فتبسم فقال " ابا هريرة اشرب " . فشربت ثم قال " اشرب " . فلم ازل اشرب ويقول " اشرب " . حتى قلت والذي بعثك بالحق ما اجد له مسلكا فاخذ القدح فحمد الله وسمى ثم شرب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح