Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، اس لیے تم سب مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، اور تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جسے میں غنی ( مالدار ) کر دوں، اس لیے تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں رزق دوں گا، اور تم سب گنہگار ہو، سوائے اس کے جسے میں عافیت دوں سو جسے یہ معلوم ہے کہ میں بخشنے پر قادر ہوں پھر وہ مجھ سے مغفرت چاہتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار بندے کی طرح ہو جائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر اضافہ نہ ہو گا، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ شقی و بدبخت کی طرح ہو جائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر کمی نہ ہو گی، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب ایک ہی زمین پر جمع ہو جائیں اور تم میں سے ہر انسان مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں اور میں تم میں سے ہر سائل کو دے دوں تو بھی میری سلطنت میں کچھ بھی فرق واقع نہ ہو گا مگر اتنا ہی کہ تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ میں سخی، بزرگ ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا، اور میرا عذاب صرف کہہ دینا ہے، کسی چیز کے لیے جب میں چاہتا ہوں تو میرا حکم یہی ہے کہ میں کہتا ہوں ”ہو جا“ بس وہ ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو بطریق: «عن شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ليث، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله تعالى يا عبادي كلكم ضال الا من هديته فسلوني الهدى اهدكم وكلكم فقير الا من اغنيت فسلوني ارزقكم وكلكم مذنب الا من عافيت فمن علم منكم اني ذو قدرة على المغفرة فاستغفرني غفرت له ولا ابالي ولو ان اولكم واخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على اتقى قلب عبد من عبادي ما زاد ذلك في ملكي جناح بعوضة ولو ان اولكم واخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على اشقى قلب عبد من عبادي ما نقص ذلك من ملكي جناح بعوضة ولو ان اولكم واخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا في صعيد واحد فسال كل انسان منكم ما بلغت امنيته فاعطيت كل سايل منكم ما سال ما نقص ذلك من ملكي الا كما لو ان احدكم مر بالبحر فغمس فيه ابرة ثم رفعها اليه ذلك باني جواد ماجد افعل ما اريد عطايي كلام وعذابي كلام انما امري لشيء اذا اردته ان اقول له كن فيكون " . قال هذا حديث حسن . وروى بعضهم هذا الحديث عن شهر بن حوشب عن معديكرب عن ابي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے اگر میں نے اسے ایک یا دو بار سنا ہوتا یہاں تک کہ سات مرتبہ گنا تو میں اسے تم سے بیان نہ کرتا، لیکن میں نے اسے اس سے زیادہ مرتبہ سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ کے کرنے سے پرہیز نہیں کرتا تھا، چنانچہ اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اسے ساٹھ دینار اس لیے دیے کہ وہ اس سے بدکاری کرے گا، لیکن جب وہ اس کے آگے بیٹھا جیسا کہ مرد اپنی بیوی کے آگے بیٹھتا ہے تو وہ کانپ اٹھی اور رونے لگی، اس شخص نے پوچھا: تم کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟ وہ بولی: نہیں، لیکن آج میں وہ کام کر رہی ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا اور اس کام کے کرنے پر مجھے سخت ضرورت نے مجبور کیا ہے، چنانچہ اس نے کہا: تم ایسا غلط کام کرنے جا رہی ہے جسے تم نے کبھی نہیں کیا، اس لیے تم جاؤ، وہ سب دینار بھی تمہارے لیے ہیں، پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کبھی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا، پھر اسی رات میں اس کا انتقال ہو گیا، چنانچہ صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا ”بیشک اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا““۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے شیبان اور دیگر لوگوں نے اعمش سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بعض لوگوں نے اسے اعمش سے غیر مرفوع روایت کیا ہے، ابوبکر بن عیاش نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے لیکن اس میں غلطی کی ہے، اور «عن عبد الله بن عبد الله عن سعيد بن جبير عن ابن عمر» کہا ہے جو کہ غیر محفوظ ہے۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن عبد الله الرازي، عن سعد، مولى طلحة عن ابن عمر، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يحدث حديثا لو لم اسمعه الا مرة او مرتين حتى عد سبع مرات ولكني سمعته اكثر من ذلك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كان الكفل من بني اسراييل لا يتورع من ذنب عمله فاتته امراة فاعطاها ستين دينارا على ان يطاها فلما قعد منها مقعد الرجل من امراته ارعدت وبكت فقال ما يبكيك ااكرهتك قالت لا ولكنه عمل ما عملته قط وما حملني عليه الا الحاجة فقال تفعلين انت هذا وما فعلته اذهبي فهي لك . وقال لا والله لا اعصي الله بعدها ابدا . فمات من ليلته فاصبح مكتوبا على بابه ان الله قد غفر للكفل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . قد رواه شيبان وغير واحد عن الاعمش نحو هذا ورفعوه وروى بعضهم عن الاعمش فلم يرفعه . وروى ابو بكر بن عياش هذا الحديث عن الاعمش فاخطا فيه وقال عن عبد الله بن عبد الله عن سعيد بن جبير عن ابن عمر وهو غير محفوظ وعبد الله بن عبد الله الرازي هو كوفي وكانت جدته سرية لعلي بن ابي طالب وروى عن عبد الله بن عبد الله الرازي عبيدة الضبي والحجاج بن ارطاة وغير واحد من كبار اهل العلم
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے دو حدیثیں بیان کیں، ایک اپنی طرف سے اور دوسری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ( یعنی ایک موقوف اور دوسری مرفوع ) عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: مومن اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کی جڑ میں ہے۔ ڈرتا ہے کہ اس پر وہ گر نہ پڑے ۱؎، اور فاجر اپنے گناہ کو ایک مکھی کے مانند دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی ہے، اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی ۲؎۔
حدثنا هناد، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن الحارث بن سويد، حدثنا عبد الله بن مسعود، بحديثين احدهما عن نفسه، والاخر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال عبد الله ان المومن يرى ذنوبه كانه في اصل جبل يخاف ان يقع عليه وان الفاجر يرى ذنوبه كذباب وقع على انفه قال به هكذا فطار
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تم میں سے ایک شخص کی توبہ پر اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں ہے اور اس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہے جس پر اس کا توشہ، کھانا پانی اور دیگر ضرورتوں کی چیز رکھی ہوئی ہے، پھر اس کی اونٹنی کھو جاتی ہے اور وہ اسے ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے تو وہ سوچتا ہے: میں اسی جگہ لوٹ جاؤں جہاں سے میری اونٹنی کھو گئی تھی، اور وہیں مر جاؤں چنانچہ وہ لوٹ کر اسی جگہ پہنچتا ہے، اور اس پر نیند طاری ہو جاتی ہے، پھر جب بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی اس کے سر کے پاس موجود ہے اس پر اس کا کھانا پانی اور حاجت کی چیز بھی موجود ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، نعمان بن بشیر اور انس بن مالک رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
وقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لله افرح بتوبة احدكم من رجل بارض دوية مهلكة معه راحلته�� عليها زاده وطعامه وشرابه وما يصلحه فاضلها فخرج في طلبها حتى اذا ادركه الموت قال ارجع الى مكاني الذي اضللتها فيه فاموت فيه فرجع الى مكانه فغلبته عينه فاستيقظ فاذا راحلته عند راسه عليها طعامه وشرابه وما يصلحه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفيه عن ابي هريرة والنعمان بن بشير وانس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے انسان خطاکار ہیں اور خطا کاروں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف علی بن مسعدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا علي بن مسعدة الباهلي، حدثنا قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل ابن ادم خطاء وخير الخطايين التوابون " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث علي بن مسعدة عن قتادة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وفي الباب عن عايشة وانس وابي شريح العدوي الكعبي الخزاعي واسمه خويلد بن عمرو
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خاموش رہا اس نے نجات پائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن عمرو المعافري، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صمت نجا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابن لهيعة . وابو عبد الرحمن الحبلي هو عبد الله بن يزيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیشک صفیہ ایک عورت ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، گویا یہ مراد لے رہی تھیں کہ صفیہ پستہ قد ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک تم نے اپنی باتوں میں ایسی بات ملائی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن علي بن الاقمر، عن ابي حذيفة، وكان، من اصحاب ابن مسعود عن عايشة، قالت حكيت للنبي صلى الله عليه وسلم رجلا فقال " ما يسرني اني حكيت رجلا وان لي كذا وكذا " . قالت فقلت يا رسول الله ان صفية امراة وقالت بيدها هكذا كانها تعني قصيرة . فقال " لقد مزجت بكلمة لو مزجت بها ماء البحر لمزج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن علي بن الاقمر، عن ابي حذيفة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احب اني حكيت احدا وان لي كذا وكذا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حذيفة هو كوفي من اصحاب ابن مسعود ويقال اسمه سلمة بن صهيبة
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ کی روایت سے اس سند سے صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا ابو اسامة، حدثنا بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى المسلمين افضل قال " من سلم المسلمون من لسانه ويده " . هذا حديث صحيح غريب من هذا الوجه من حديث ابي موسى
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی دینی بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا تو اس کی موت نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس سے وہ گناہ صادر ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے، اور خالد بن معدان کی ملاقات معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے، خالد بن معدان سے مروی ہے کہ انہوں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی ہے، اور معاذ بن جبل کی وفات عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوئی، اور خالد بن معدان نے معاذ کے کئی شاگردوں کے واسطہ سے معاذ سے کئی حدیثیں روایت کی ہے، ۳- احمد بن منیع نے کہا: اس سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ شخص توبہ کر چکا ہو۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا محمد بن الحسن بن ابي يزيد الهمداني، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عير اخاه بذنب لم يمت حتى يعمله " . قال احمد من ذنب قد تاب منه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وليس اسناده بمتصل . وخالد بن معدان لم يدرك معاذ بن جبل وروي عن خالد بن معدان انه ادرك سبعين من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . ومات معاذ بن جبل في خلافة عمر بن الخطاب وخالد بن معدان روى عن غير واحد من اصحاب معاذ عن معاذ غير حديث
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- مکحول کا سماع واثلہ بن اسقع، انس بن مالک اور ابوھند داری سے ثابت ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا سماع ان تینوں صحابہ کے علاوہ کسی سے ثابت نہیں ہے، ۳- یہ مکحول شامی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے، یہ ایک غلام تھے بعد میں انہیں آزاد کر دیا گیا تھا، ۴- اور ایک مکحول ازدی بصریٰ بھی ہیں ان کا سماع عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے ان سے عمارہ بن زاذان روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے مکحول شامی کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ «ندانم» ( میں نہیں جانتا ) کہتے تھے۔
حدثنا عمر بن اسماعيل بن مجالد بن سعيد الهمداني، حدثنا حفص بن غياث، ح قال واخبرنا سلمة بن شبيب، حدثنا امية بن القاسم الحذاء البصري، حدثنا حفص بن غياث، عن برد بن سنان، عن مكحول، عن واثلة بن الاسقع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تظهر الشماتة لاخيك فيرحمه الله ويبتليك " . قال هذا حديث حسن غريب . ومكحول قد سمع من واثلة بن الاسقع وانس بن مالك وابي هند الداري ويقال انه لم يسمع من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الا من هولاء الثلاثة . ومكحول شامي يكنى ابا عبد الله وكان عبدا فاعتق ومكحول الازدي بصري سمع من عبد الله بن عمر يروي عنه عمارة بن زاذان . حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن تميم بن عطية، قال كثيرا ما كنت اسمع مكحولا يسال فيقول ندانم
یحییٰ بن وثاب نے ایک بزرگ صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن ابی عدی نے کہا: شعبہ کا خیال ہے کہ شیخ صحابی ( بزرگ صحابی ) سے مراد ابن عمر رضی الله عنہما ہیں۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان الاعمش، عن يحيى بن وثاب، عن شيخ، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "المسلم اذا كان يخالط الناس ويصبر على اذاهم خير من المسلم الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على اذاهم " . قال ابو موسى قال ابن ابي عدي كان شعبة يرى انه ابن عمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپسی پھوٹ اور بغض و عداوت کی برائی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ ( دین کو ) مونڈنے والی ہے ۱؎، آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور «الحالقة» مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو يحيى، محمد بن عبد الرحيم البغدادي حدثنا معلى بن منصور، حدثنا عبد الله بن جعفر المخرمي، هو من ولد المسور بن مخرمة عن عثمان بن محمد الاخنسي، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم وسوء ذات البين فانها الحالقة " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من هذا الوجه . ومعنى قوله " وسوء ذات البين " . انما يعني العداوة والبغضاء وقوله " الحالقة " . يقول انها تحلق الدين
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو درجہ میں صلاۃ، صوم اور صدقہ سے بھی افضل ہے، صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ ضرور بتائیے“، آپ نے فرمایا: ”وہ آپس میں میل جول کرا دینا ہے ۱؎ اس لیے کہ آپس کی پھوٹ دین کو مونڈنے والی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”یہی چیز مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین کو مونڈ نے والی ہے“۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم بافضل من درجة الصيام والصلاة والصدقة " . قالوا بلى . قال " صلاح ذات البين فان فساد ذات البين هي الحالقة " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . ويروى عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " هي الحالقة لا اقول تحلق الشعر ولكن تحلق الدين
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے، یہ مونڈنے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین مونڈنے والی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو: تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یحییٰ بن ابی کثیر سے اس حدیث کے روایت کرنے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث: «عن يحيى بن أبي كثير عن يعيش بن الوليد عن مولى الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اس میں زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حرب بن شداد، عن يحيى بن ابي كثير، عن يعيش بن الوليد، ان مولى الزبير، حدثه ان الزبير بن العوام حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " دب اليكم داء الامم قبلكم الحسد والبغضاء هي الحالقة لا اقول تحلق الشعر ولكن تحلق الدين والذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تومنوا ولا تومنوا حتى تحابوا افلا انبيكم بما يثبت ذاكم لكم افشوا السلام بينكم " . قال ابو عيسى هذا حديث قد اختلفوا في روايته عن يحيى بن ابي كثير فروى بعضهم عن يحيى بن ابي كثير عن يعيش بن الوليد عن مولى الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكروا فيه عن الزبير
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کا مرتکب زیادہ لائق ہے کہ اس کو اللہ کی جانب سے دنیا میں بھی جلد سزا دی جائے اور آخرت کے لیے بھی اسے باقی رکھا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن عيينة بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ذنب اجدر ان يعجل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخر له في الاخرة من البغى وقطيعة الرحم " . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر لکھے گا اور جس کے اندر وہ موجود نہ ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر اور شاکر نہیں لکھے گا، پہلی خصلت یہ ہے کہ جس شخص نے دین کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے کو دیکھا اور اس کی پیروی کی اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھا پھر اس فضل و احسان کا شکر ادا کیا جو اللہ نے اس پر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھے گا۔ اور دوسری خصلت یہ ہے کہ جس نے دین کے اعتبار سے اپنے سے کم اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ پر نظر کی پھر جس سے وہ محروم رہ گیا ہے اس پر اس نے افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر نہیں لکھے گا“ ۱؎۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، عن المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن جده عبد الله بن عمرو، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكرا صابرا ومن لم تكونا فيه لم يكتبه الله شاكرا ولا صابرا من نظر في دينه الى من هو فوقه فاقتدى به ونظر في دنياه الى من هو دونه فحمد الله على ما فضله به عليه كتبه الله شاكرا صابرا ومن نظر في دينه الى من هو دونه ونظر في دنياه الى من هو فوقه فاسف على ما فاته منه لم يكتبه الله شاكرا ولا صابرا " . اخبرنا موسى بن حزام الرجل الصالح، حدثنا علي بن اسحاق، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال هذا حديث حسن غريب ولم يذكر سويد بن نصر في حديثه عن ابيه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کی طرف دیکھو جو دنیاوی اعتبار سے تم سے کم تر ہوں اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہوں، اس طرح زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کی ناقدری نہ کرو، جو اس کی طرف سے تم پر ہوئی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انظروا الى من هو اسفل منكم ولا تنظروا الى من هو فوقكم فانه اجدر ان لا تزدروا نعمة الله عليكم " . هذا حديث صحيح
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ سے روایت ہے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے) ، وہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس سے روتے ہوئے گزرا تو انہوں نے کہا: حنظلہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے ( بات یہ ہے ) کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بچوں میں واپس چلے آتے ہیں تو اس نصیحت میں سے بہت کچھ بھول جاتے ہیں، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ چلو ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، چنانچہ ہم دونوں چل پڑے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”حنظلہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے، جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں تو ان وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بال بچوں میں واپس لوٹ جاتے ہیں تو بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں۔ حنظلہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو تو یقین جانو کہ فرشتے تمہاری مجلسوں میں، تمہارے راستوں میں اور تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں، لیکن اے حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا بشر بن هلال البصري، حدثنا جعفر بن سليمان، عن سعيد الجريري، ح قال وحدثنا هارون بن عبد الله البزاز، حدثنا سيار، حدثنا جعفر بن سليمان، عن سعيد الجريري المعنى، واحد، عن ابي عثمان النهدي، عن حنظلة الاسيدي، وكان، من كتاب النبي صلى الله عليه وسلم انه مر بابي بكر وهو يبكي فقال ما لك يا حنظلة قال نافق حنظلة يا ابا بكر نكون عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرنا بالنار والجنة كانا راى عين فاذا رجعنا الى الازواج والضيعة نسينا كثيرا . قال فوالله انا لكذلك انطلق بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . فانطلقنا فلما راه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما لك يا حنظلة " . قال نافق حنظلة يا رسول الله نكون عندك تذكرنا بالنار والجنة كانا راى عين فاذا رجعنا عافسنا الازواج والضيعة ونسينا كثيرا . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تدومون على الحال الذي تقومون بها من عندي لصافحتكم الملايكة في مجالسكم وفي طرقكم وعلى فرشكم ولكن يا حنظلة ساعة وساعة وساعة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح