Loading...

Loading...
کتب
۱۰۸ احادیث
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مومن کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن شعبة، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يومن احدكم حتى يحب لاخيه ما يحب لنفسه " . قال هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور ( تقدیر کے ) صحیفے خشک ہو گئے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا ليث بن سعد، وابن، لهيعة عن قيس بن الحجاج، قال وحدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا ابو الوليد، حدثنا ليث بن سعد، حدثني قيس بن الحجاج المعنى، واحد، عن حنش الصنعاني، عن ابن عباس، قال كنت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال " يا غلام اني اعلمك كلمات احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده تجاهك اذا سالت فاسال الله واذا استعنت فاستعن بالله واعلم ان الامة لو اجتمعت على ان ينفعوك بشيء لم ينفعوك الا بشيء قد كتبه الله لك ولو اجتمعوا على ان يضروك بشيء لم يضروك الا بشيء قد كتبه الله عليك رفعت الاقلام وجفت الصحف " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے باندھ دو، پھر توکل کرو“۔ عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ حدیث منکر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ ۲- اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا المغيرة بن ابي قرة السدوسي، قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رجل يا رسول الله اعقلها واتوكل او اطلقها واتوكل قال " اعقلها وتوكل " . قال عمرو بن علي قال يحيى وهذا عندي حديث منكر . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب من حديث انس لا نعرفه الا من هذا الوجه وقد روي عن عمرو بن امية الضمري عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی الله عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے، اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے“ ۱؎، اور اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوالحوراء سعدی کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔
حدثنا ابو موسى الانصاري، حدثنا عبد الله بن ادريس، حدثنا شعبة، عن بريد بن ابي مريم، عن ابي الحوراء السعدي، قال قلت للحسن بن علي ما حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم " دع ما يريبك الى ما لا يريبك فان الصدق طمانينة وان الكذب ريبة " . وفي الحديث قصة . قال وابو الحوراء السعدي اسمه ربيعة بن شيبان . قال وهذا حديث حسن صحيح . حدثنا بندار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن بريد، فذكر نحوه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو عبادت و ریاضت میں مشہور تھا اور ایک دوسرے شخص کا ذکر کیا گیا جو ورع و پرہیزگاری میں مشہور تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی عبادت ورع و پرہیزگاری کے برابر نہیں ہو سکتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي البصري، حدثنا ابراهيم بن ابي الوزير، حدثنا عبد الله بن جعفر المخرمي، عن محمد بن عبد الرحمن بن نبيه، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال ذكر رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم بعبادة واجتهاد وذكر عنده اخر برعة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تعدل بالرعة " . وعبد الله بن جعفر هو من ولد المسور بن مخرمة وهو مدني ثقة عند اهل الحديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حلال کھائے، سنت پر عمل کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں، وہ جنت میں داخل ہو گا“، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے لوگ تو اس زمانے میں بہت پائے جاتے ہیں؟“، آپ نے فرمایا: ”ایسے لوگ میرے بعد کے زمانوں میں بھی ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو اسرائیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا هناد، وابو زرعة وغير واحد قالوا اخبرنا قبيصة، عن اسراييل، عن هلال بن مقلاص الصيرفي، عن ابي بشر، عن ابي وايل، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل طيبا وعمل في سنة وامن الناس بوايقه دخل الجنة " . فقال رجل يا رسول الله ان هذا اليوم في الناس لكثير . قال " وسيكون في قرون بعدي " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث اسراييل
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے دیا اور اللہ کی رضا کے لیے روکا اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے محبت کی، اور اللہ کی رضا کے لیے عداوت و دشمنی کی اور اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا تو یقیناً اس کا ایمان مکمل ہو گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
حدثنا عباس الدوري، حدثنا يحيى بن ابي بكير، عن اسراييل، بهذا الاسناد نحوه . وسالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث، فلم يعرفه الا من حديث اسراييل ولم يعرف اسم ابي بشر . حدثنا عباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، عن ابي مرحوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اعطى لله ومنع لله واحب لله وابغض لله وانكح لله فقد استكمل ايمانه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں جو پہلا گروہ داخل ہو گا ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی صورت ہوں گے اور دوسرے گروہ کے چہرے اس بہتر روشن اور چمکدار ستارے کی طرح ہوں گے جو آسمان میں ہے، ان میں سے ہر شخص کو دو دو بیویاں ملیں گی، ہر بیوی کے بدن پر لباس کے ستر جوڑے ہوں گے، پھر بھی اس کی پنڈلی کا گودا باہر سے ( گوشت کے پیچھے سے ) دکھائی دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا العباس الدوري حدثنا عبيد الله بن موسى اخبرنا شيبان عن فراس عن عطية عن ابي سعيد الخدري ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " اول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر ، والثانية على لون احسن كوكب دري في السماء ، لكل رجل منهم زوجتان على كل زوجة سبعون حلة يبدو مخ ساقها من ورايها