احادیث
#2460
سنن ترمذی - The description of the Day of Judgement, Softening of Hearts (Riqāq), and Scrupulousness (Waraʿ)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا ( خوش آمدید ) کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہو گئی اور تو میری طرف آ گیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آ گیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: ”اللہ اس پر ستر اژدہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژدہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن احمد بن مدويه الترمذي، حدثنا القاسم بن الحكم العرني، حدثنا عبيد الله بن الوليد الوصافي، عن عطية، عن ابي سعيد، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مصلاه فراى ناسا كانهم يكتشرون قال " اما انكم لو اكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما ارى فاكثروا من ذكر هاذم اللذات الموت فانه لم يات على القبر يوم الا تكلم فيه فيقول انا بيت الغربة وانا بيت الوحدة وانا بيت التراب وانا بيت الدود . فاذا دفن العبد المومن قال له القبر مرحبا واهلا اما ان كنت لاحب من يمشي على ظهري الى فاذ وليتك اليوم وصرت الى فسترى صنيعي بك . قال فيتسع له مد بصره ويفتح له باب الى الجنة . واذا دفن العبد الفاجر او الكافر قال له القبر لا مرحبا ولا اهلا اما ان كنت لابغض من يمشي على ظهري الى فاذ وليتك اليوم وصرت الى فسترى صنيعي بك . قال فيلتيم عليه حتى تلتقي عليه وتختلف اضلاعه . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم باصابعه فادخل بعضها في جوف بعض قال " ويقيض الله له سبعين تنينا لو ان واحدا منها نفخ في الارض ما انبتت شييا ما بقيت الدنيا فينهشنه ويخدشنه حتى يفضى به الى الحساب " . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما القبر روضة من رياض الجنة او حفرة من حفر النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- The description of the Day of Judgement, Softening of Hearts (Riqāq), and Scrupulousness (Waraʿ)
- Hadith Index
- #2460
- Book Index
- 46
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirVery Daif
- Al-AlbaniVery Daif
- Zubair Ali ZaiDaif
