Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کی روٹی کھائی ہے؟ سہل نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی دیکھی بھی نہیں یہاں تک کہ رحلت فرما گئے۔ پھر ان سے پوچھا گیا: کیا آپ لوگوں کے پاس عہد نبوی میں چھلنی تھی؟ کہا ہم لوگوں کے پاس چھلنی نہیں تھی۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ جو کے آٹے کو کیسے صاف کرتے تھے؟ تو کہا: پہلے ہم اس میں پھونکیں مارتے تھے تو جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا تھا پھر ہم اس میں پانی ڈال کر اسے گوندھ لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے بھی ابوحازم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، اخبرنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، انه قيل له اكل رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي يعني الحوارى فقال سهل ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي حتى لقي الله . فقيل له هل كانت لكم مناخل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما كانت لنا مناخل . قيل فكيف كنتم تصنعون بالشعير قال كنا ننفخه فيطير منه ما طار ثم نثريه فنعجنه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه مالك بن انس عن ابي حازم
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں خون بہایا ( یعنی کافر کو قتل کیا ) اور میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا، میں نے اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے دیکھا ہے، کھانے کے لیے ہم درختوں کے پتے اور «حبلہ» ( خاردار درخت کے پھل ) کے علاوہ اور کچھ نہیں پاتے تھے، یہاں تک کہ ہم لوگ بکریوں اور اونٹوں کی طرح قضائے حاجت میں مینگنیاں نکالتے تھے، اور قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں طعن و تشنیع کرتے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے تمام اعمال ضائع و برباد ہو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عمر بن اسماعيل بن مجالد بن سعيد، حدثنا ابي، عن بيان، عن قيس بن ابي حازم، قال سمعت سعد بن ابي وقاص، يقول اني لاول رجل اهراق دما في سبيل الله واني لاول رجل رمى بسهم في سبيل الله ولقد رايتني اغزو في العصابة من اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ما ناكل الا ورق الشجر والحبلة حتى ان احدنا ليضع كما تضع الشاة او البعير واصبحت بنو اسد يعزروني في الدين لقد خبت اذا وضل عملي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث بيان
سعد بن مالک (ابی وقاص) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عرب کا پہلا شخص ہوں جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا، اور ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے وقت دیکھا ہے کہ ہمارے پاس خاردار درختوں کے پھل اور کیکر کے درخت کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہم لوگ قضائے حاجت میں بکریوں کی طرح مینگنیاں نکالا کرتے تھے ۱؎، اور اب قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں ملامت کرنے لگے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے اعمال ضائع ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عتبہ بن غزوان سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا قيس، قال سمعت سعد بن مالك، يقول اني اول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله ولقد رايتنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وما لنا طعام الا الحبلة وهذا السمر حتى ان احدنا ليضع كما تضع الشاة ثم اصبحت بنو اسد يعزروني في الدين لقد خبت اذا وضل عملي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عتبة بن غزوان
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی الله عنہ کی خدمت میں موجود تھے، آپ کے پاس گیرو سے رنگے ہوئے دو کتان کے کپڑے تھے، انہوں نے ایک کپڑے میں ناک پونچھی اور کہا: واہ واہ، ابوہریرہ! کتان میں ناک پونچھتا ہے، حالانکہ ایک وہ زمانہ بھی تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، اور حجرہ عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان بھوک کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو کر گر پڑتا تو کوئی آنے والا آتا اور میری گردن پر اپنا پاؤں رکھ دیتا اور سمجھتا کہ میں پاگل ہوں، حالانکہ میں پاگل نہیں ہوتا تھا ایسا صرف بھوک کی شدت کی وجہ سے ہوتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اور اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، قال كنا عند ابي هريرة وعليه ثوبان ممشقان من كتان فتمخط في احدهما ثم قال بخ بخ يتمخط ابو هريرة في الكتان لقد رايتني واني لاخر فيما بين منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وحجرة عايشة من الجوع مغشيا على فيجيء الجايي فيضع رجله على عنقي يرى ان بي الجنون وما بي جنون وما هو الا الجوع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو صف میں کھڑے بہت سے لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے گر پڑتے تھے، یہ لوگ اصحاب صفہ تھے، یہاں تک کہ اعراب ( دیہاتی لوگ ) کہتے کہ یہ سب پاگل اور مجنون ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: اگر تم لوگوں کو اللہ کے نزدیک اپنا مرتبہ معلوم ہو جائے تو تم اس سے کہیں زیادہ فقر و فاقہ اور حاجت کو پسند کرتے“ ۱؎، فضالہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة بن شريح، اخبرني ابو هاني الخولاني، ان ابا علي، عمرو بن مالك الجنبي اخبره عن فضالة بن عبيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى بالناس يخر رجال من قامتهم في الصلاة من الخصاصة وهم اصحاب الصفة حتى تقول الاعراب هولاء مجانين او مجانون فاذا صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف اليهم فقال " لو تعلمون ما لكم عند الله لاحببتم ان تزدادوا فاقة وحاجة " . قال فضالة وانا يوميذ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس ابوبکر رضی الله عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی“، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا“، چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو ( ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو پورا نہ کر سکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے (مرسل) روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما گھر سے نکلے، اس کے بعد راوی نے مذکورہ حدیث جیسی حدیث بیان کی، لیکن اس میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، شیبان کی ( سابقہ ) حدیث ابو عوانہ کی ( اس ) حدیث سے زیادہ مکمل اور زیادہ طویل ہے، شیبان محدثین کے نزدیک ثقہ اور صاحب کتاب ہیں ۱؎، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، اور یہ حدیث ابن عباس سے بھی مروی ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يوما وابو بكر وعمر فذكر نحو هذا الحديث ولم يذكر فيه عن ابي هريرة وحديث شيبان اتم من حديث ابي عوانة واطول . وشيبان ثقة عندهم صاحب كتاب . وقد روي عن ابي هريرة هذا الحديث من غير هذا الوجه وروي عن ابن عباس ايضا
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ( جنگ خندق کے دوران ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا جن پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا سو آپ نے اپنے مبارک پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا سيار بن حاتم، عن سهل بن اسلم، عن يزيد بن ابي منصور، عن انس بن مالك، عن ابي طلحة، قال شكونا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع ورفعنا عن بطوننا عن حجر حجر فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حجرين . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ تم لوگ جو چاہتے ہو کھاتے پیتے ہو حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ ردی کھجوریں بھی اس مقدار میں آپ کو میسر نہ تھیں جن سے آپ اپنا پیٹ بھرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول الستم في طعام وشراب ما شيتم لقد رايت نبيكم صلى الله عليه وسلم وما يجد من الدقل ما يملا بطنه . قال وهذا حديث صحيح . قال ابو عيسى وروى ابو عوانة وغير واحد عن سماك بن حرب نحو حديث ابي الاحوص . وروى شعبة هذا الحديث عن سماك عن النعمان بن بشير عن عمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالداری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل مالداری نفس کی مالداری ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن بديل بن قريش اليامي الكوفي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حصين اسمه عثمان بن عاصم الاسدي
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد المقبري، عن ابي الوليد، قال سمعت خولة بنت قيس، وكانت، تحت حمزة بن عبد المطلب تقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان هذا المال خضرة حلوة من اصابه بحقه بورك له فيه ورب متخوض فيما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ليس له يوم القيامة الا النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو الوليد اسمه عبيد سنوطى
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار کا بندہ ملعون ہے، درہم کا بندہ ملعون ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ «عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے اور یہ بھی سند اس سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن يونس، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعن عبد الدينار لعن عبد الدرهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا اتم من هذا واطول
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن زكريا بن ابي زايدة، عن محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، عن ابن كعب بن مالك الانصاري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ذيبان جايعان ارسلا في غنم بافسد لها من حرص المرء على المال والشرف لدينه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويروى في هذا الباب عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا يصح اسناده
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سو گئے، نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان پڑ گیا تھا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے لیے ایک بچھونا بنا دیں تو بہتر ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا مطلب ہے، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سوار ہو جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے بیٹھے، پھر وہاں سے کوچ کر جائے اور درخت کو اسی جگہ چھوڑ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي، حدثنا زيد بن حباب، اخبرني المسعودي، حدثنا عمرو بن مرة، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال نام رسول الله صلى الله عليه وسلم على حصير فقام وقد اثر في جنبه فقلنا يا رسول الله لو اتخذنا لك وطاء . فقال " ما لي وما للدنيا ما انا في الدنيا الا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها " . قال وفي الباب عن عمر وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، وابو داود قالا حدثنا زهير بن محمد، حدثني موسى بن وردان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرجل على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے کے ساتھ قبر تک تین چیزیں جاتی ہیں، پھر دو چیزیں لوٹ آتی ہیں اور ساتھ میں ایک باقی رہ جاتی ہے، اس کے رشتہ دار، اس کا مال اور اس کے اعمال ساتھ میں جاتے ہیں پھر رشتہ دار، اور مال لوٹ آتے ہیں اور صرف اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن ابي بكر، هو ابن محمد بن عمرو بن حزم الانصاري قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يتبع الميت ثلاث فيرجع اثنان ويبقى واحد يتبعه اهله وماله وعمله فيرجع اهله وماله ويبقى عمله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا، آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا اسماعيل بن عياش، حدثني ابو سلمة الحمصي، وحبيب بن صالح، عن يحيى بن جابر الطايي، عن مقدام بن معديكرب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما ملا ادمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن ادم اكلات يقمن صلبه فان كان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه " . حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، نحوه . وقال المقدام بن معديكرب عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ریاکاری کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کر دے گا، اور جو اللہ کی عبادت شہرت کے لیے کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے رسوا و ذلیل کرے گا“، فرمایا: ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جندب اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يرايي يرايي الله به ومن يسمع يسمع الله به " . قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لا يرحم الناس لا يرحمه الله " . وفي الباب عن جندب وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
عقبہ بن مسلم سے شفیا اصبحی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ میں داخل ہوئے، اچانک ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاس کچھ لوگ جمع تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے جواباً عرض کیا: یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہیں، شفیا اصبحی کا بیان ہے کہ میں ان کے قریب ہوا یہاں تک کہ ان کے سامنے بیٹھ گیا اور وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے، جب وہ حدیث بیان کر چکے اور تنہا رہ گئے تو میں نے ان سے کہا: میں آپ سے اللہ کا باربار واسطہ دے کر پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہو۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے، یقیناً میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جسے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اور میں نے اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہے۔ پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، تھوڑی دیر بعد جب افاقہ ہوا تو فرمایا: یقیناً میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اسی گھر میں بیان کیا تھا جہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا، پھر دوبارہ ابوہریرہ نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، پھر جب افاقہ ہوا تو اپنے چہرے کو پونچھا اور فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، اپنے چہرے کو پونچھا اور پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو کر منہ کے بل زمین پر گر پڑے، میں نے بڑی دیر تک انہیں اپنا سہارا دیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے: ”قیامت کے دن جب ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کے لیے نزول فرمائے گا، پھر اس وقت فیصلہ کے لیے سب سے پہلے ایسے شخص کو بلایا جائے گا جو قرآن کا حافظ ہو گا، دوسرا شہید ہو گا اور تیسرا مالدار ہو گا، اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے کہے گا: کیا میں نے تجھے اپنے رسول پر نازل کردہ کتاب کی تعلیم نہیں دی تھی؟ وہ کہے گا: یقیناً اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو علم تجھے سکھایا گیا اس کے مطابق تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں اس قرآن کے ذریعے راتوں دن تیری عبادت کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ تو نے جھوٹ کہا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: ( قرآن سیکھنے سے ) تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں، سو تجھے کہا گیا، پھر صاحب مال کو پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھے ہر چیز کی وسعت نہ دے رکھی تھی، یہاں تک کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا؟ وہ عرض کرے گا: یقیناً میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے جو چیزیں دی تھیں اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ و خیرات کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں سخی کہا جائے، سو تمہیں سخی کہا گیا، اس کے بعد شہید کو پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تجھے کس لیے قتل کیا گیا؟ وہ عرض کرے گا: مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا چنانچہ میں نے جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تو نے جھوٹ کہا، فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا مقصد یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو تجھے کہا گیا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا: ابوہریرہ! یہی وہ پہلے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ولید ابوعثمان کہتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے مجھے خبر دی کہ شفیا اصبحی ہی نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس جا کر انہیں اس حدیث سے باخبر کیا تھا۔ ابوعثمان کہتے ہیں: علاء بن ابی حکیم نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ معاویہ رضی الله عنہ کے جلاد تھے، پھر معاویہ کے پاس ایک آدمی پہنچا اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اس حدیث سے انہیں باخبر کیا تو معاویہ نے کہا: ان تینوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا، یہ کہہ کر معاویہ زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ وہ زندہ نہیں بچیں گے، اور ہم لوگوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ شخص شر لے کر آیا ہے، پھر جب معاویہ رضی الله عنہ کو افاقہ ہوا تو انہوں نے اپنے چہرے کو صاف کیا اور فرمایا: ”یقیناً اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اور اس آیت کریمہ کی تلاوت کی «من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما كانوا يعملون» ”جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کو چاہے گا تو ہم دنیا ہی میں اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دیں گے اور کوئی کمی نہیں کریں گے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں جہنم کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہے اور دنیا کے اندر ہی ان کے سارے اعمال ضائع اور باطل ہو گئے“ ( سورۃ ہود: ۱۶ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «جب الحزن» ( غم کی وادی ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے“، پھر صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ریاکار قراء ( اس میں داخل ہوں گے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثني المحاربي، عن عمار بن سيف الضبي، عن ابي معان البصري، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعوذوا بالله من جب الحزن " . قالوا يا رسول الله وما جب الحزن قال " واد في جهنم تتعوذ منه جهنم كل يوم ماية مرة " . قلنا يا رسول الله ومن يدخله قال " القراء المراءون باعمالهم " . قال هذا حديث حسن غريب
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شيبان ابو معاوية، حدثنا عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم في ساعة لا يخرج فيها ولا يلقاه فيها احد فاتاه ابو بكر فقال " ما جاء بك يا ابا بكر " . فقال خرجت القى رسول الله صلى الله عليه وسلم وانظر في وجهه والتسليم عليه . فلم يلبث ان جاء عمر فقال " ما جاء بك يا عمر " . قال الجوع يا رسول الله قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وانا قد وجدت بعض ذلك " . فانطلقوا الى منزل ابي الهيثم بن التيهان الانصاري وكان رجلا كثير النخل والشاء ولم يكن له خدم فلم يجدوه فقالوا لامراته اين صاحبك فقالت انطلق يستعذب لنا الماء . فلم يلبثوا ان جاء ابو الهيثم بقربة يزعبها فوضعها ثم جاء يلتزم النبي صلى الله عليه وسلم ويفديه بابيه وامه ثم انطلق بهم الى حديقته فبسط لهم بساطا ثم انطلق الى نخلة فجاء بقنو فوضعه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افلا تنقيت لنا من رطبه " . فقال يا رسول الله اني اردت ان تختاروا او قال تخيروا من رطبه وبسره . فاكلوا وشربوا من ذلك الماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا والذي نفسي بيده من النعيم الذي تسالون عنه يوم القيامة ظل بارد ورطب طيب وماء بارد " . فانطلق ابو الهيثم ليصنع لهم طعاما فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تذبحن ذات در " . قال فذبح لهم عناقا او جديا فاتاهم بها فاكلوا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل لك خادم " . قال لا . قال " فاذا اتانا سبى فايتنا " . فاتي النبي صلى الله عليه وسلم براسين ليس معهما ثالث فاتاه ابو الهيثم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اختر منهما " . فقال يا نبي الله اختر لي . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان المستشار موتمن خذ هذا فاني رايته يصلي واستوص به معروفا " . فانطلق ابو الهيثم الى امراته فاخبرها بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت امراته ما انت ببالغ ما قال فيه النبي صلى الله عليه وسلم الا ان تعتقه قال فهو عتيق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله لم يبعث نبيا ولا خليفة الا وله بطانتان بطانة تامره بالمعروف وتنهاه عن المنكر وبطانة لا تالوه خبالا ومن يوق بطانة السوء فقد وقي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا حيوة بن شريح، اخبرني الوليد بن ابي الوليد ابو عثمان المدني، ان عقبة بن مسلم، حدثه ان شفيا الاصبحي حدثه انه، دخل المدينة فاذا هو برجل قد اجتمع عليه الناس فقال من هذا فقالوا ابو هريرة . فدنوت منه حتى قعدت بين يديه وهو يحدث الناس فلما سكت وخلا قلت له انشدك بحق وبحق لما حدثتني حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم عقلته وعلمته . فقال ابو هريرة افعل لاحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم عقلته وعلمته . ثم نشغ ابو هريرة نشغة فمكث قليلا ثم افاق فقال لاحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا البيت ما معنا احد غيري وغيره . ثم نشغ ابو هريرة نشغة اخرى ثم افاق فمسح وجهه فقال لاحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا وهو في هذا البيت ما معنا احد غيري وغيره . ثم نشغ ابو هريرة نشغة اخرى ثم افاق ومسح وجهه فقال افعل لاحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا معه في هذا البيت ما معه احد غيري وغيره . ثم نشغ ابو هريرة نشغة شديدة ثم مال خارا على وجهه فاسندته على طويلا ثم افاق فقال حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله تبارك وتعالى اذا كان يوم القيامة ينزل الى العباد ليقضي بينهم وكل امة جاثية فاول من يدعو به رجل جمع القران ورجل قتل في سبيل الله ورجل كثير المال فيقول الله للقاري الم اعلمك ما انزلت على رسولي قال بلى يا رب . قال فماذا عملت فيما علمت قال كنت اقوم به اناء الليل واناء النهار . فيقول الله له كذبت وتقول له الملايكة كذبت ويقول الله له بل اردت ان يقال ان فلانا قاري فقد قيل ذاك . ويوتى بصاحب المال فيقول الله له الم اوسع عليك حتى لم ادعك تحتاج الى احد قال بلى يا رب . قال فماذا عملت فيما اتيتك قال كنت اصل الرحم واتصدق . فيقول الله له كذبت وتقول له الملايكة كذبت ويقول الله تعالى بل اردت ان يقال فلان جواد فقد قيل ذاك . ويوتى بالذي قتل في سبيل الله فيقول الله له في ماذا قتلت فيقول امرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت . فيقول الله تعالى له كذبت وتقول له الملايكة كذبت ويقول الله بل اردت ان يقال فلان جريء فقد قيل ذاك " . ثم ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على ركبتي فقال " يا ابا هريرة اوليك الثلاثة اول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة " . وقال الوليد ابو عثمان فاخبرني عقبة بن مسلم ان شفيا هو الذي دخل على معاوية فاخبره بهذا . قال ابو عثمان وحدثني العلاء بن ابي حكيم انه كان سيافا لمعاوية فدخل عليه رجل فاخبره بهذا عن ابي هريرة فقال معاوية قد فعل بهولاء هذا فكيف بمن بقي من الناس ثم بكى معاوية بكاء شديدا حتى ظننا انه هالك وقلنا قد جاءنا هذا الرجل بشر ثم افاق معاوية ومسح عن وجهه وقال صدق الله ورسوله : (من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف اليهم اعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون * اوليك الذين ليس لهم في الاخرة الا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما كانوا يعملون ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب