Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ اللہ پر توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي، حدثنا ابن المبارك، عن حيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو، عن عبد الله بن هبيرة، عن ابي تميم الجيشاني، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو انكم كنتم توكلون على الله حق توكله لرزقتم كما ترزق الطير تغدو خماصا وتروح بطانا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من هذا الوجه . وابو تميم الجيشاني اسمه عبد الله بن مالك
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال كان اخوان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فكان احدهما ياتي النبي صلى الله عليه وسلم والاخر يحترف فشكا المحترف اخاه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لعلك ترزق به " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبیداللہ بن محصن خطمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف مروان بن معاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور «حيزت» کا مطلب یہ ہے کہ جمع کی گئی۔
حدثنا عمرو بن مالك ومحمود بن خداش البغدادي قالا حدثنا مروان بن معاوية حدثنا عبد الرحمن بن ابي شميلة الانصاري عن سلمة بن عبيد الله بن محصن الخطمي عن ابيه وكانت له صحبة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من اصبح منكم امنا في سربه معافى في جسده عنده قوت يومه فكانما حيزت له الدنيا قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث مروان بن معاوية وحيزت جمعت حدثنا بذلك محمد بن اسمعيل حدثنا الحميدي حدثنا مروان بن معاوية نحوه وفي الباب عن ابي الدرداء
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے دوستوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کرنے کے لائق وہ مومن ہے جو مال اور اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، نماز میں جسے راحت ملتی ہو، اپنے رب کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرنے والا ہو، اور خلوت میں بھی اس کا مطیع و فرماں بردار رہا ہو، لوگوں کے درمیان ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہا ہو کہ انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا، اور اس کا رزق بقدر «کفاف» ہو پھر بھی اس پر صابر رہے، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور فرمایا: ”جلدی اس کی موت آئے تاکہ اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوں اور اس کی میراث کم ہو“۔
اخبرنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن يحيى بن ايوب، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اغبط اوليايي عندي لمومن خفيف الحاذ ذو حظ من الصلاة احسن عبادة ربه واطاعه في السر وكان غامضا في الناس لا يشار اليه بالاصابع وكان رزقه كفافا فصبر على ذلك " . ثم نفض بيده فقال " عجلت منيته قلت بواكيه قل تراثه " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " عرض على ربي ليجعل لي بطحاء مكة ذهبا قلت لا يا رب ولكن اشبع يوما واجوع يوما او قال ثلاثا او نحو هذا فاذا جعت تضرعت اليك وذكرتك واذا شبعت شكرتك وحمدتك " . قال هذا حديث حسن . وفي الباب عن فضالة بن عبيد . والقاسم هذا هو ابن عبد الرحمن ويكنى ابا عبد الرحمن وهو مولى عبد الرحمن بن خالد بن يزيد بن معاوية وهو شامي ثقة وعلي بن يزيد ضعيف الحديث ويكنى ابا عبد الملك
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، عن شرحبيل بن شريك، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قد افلح من اسلم وكان رزقه كفافا وقنعه الله " . قال هذا حديث حسن صحيح
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مبارکبادی ہو اس شخص کو جسے اسلام کی ہدایت ملی اور اسے بقدر «کفاف» روزی ملی پھر وہ اسی پر قانع و مطمئن رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوہانی کا نام حمید بن ہانی ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، اخبرنا حيوة بن شريح، اخبرني ابو هاني الخولاني، ان ابا علي، عمرو بن مالك الجنبي اخبره عن فضالة بن عبيد، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " طوبى لمن هدي الى الاسلام وكان عيشه كفافا وقنع " . قال وابو هاني اسمه حميد بن هاني . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو“، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو“، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اسی طرح تین دفعہ کہا تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو فقر و محتاجی کا ٹاٹ تیار رکھو اس لیے کہ جو شخص مجھے دوست بنانا چاہتا ہے اس کی طرف فقر اتنی تیزی سے جاتا ہے کہ اتنا تیز سیلاب کا پانی بھی اپنے بہاؤ کے رخ پر نہیں جاتا“۔
حدثنا محمد بن عمرو بن نبهان بن صفوان الثقفي البصري، حدثنا روح بن اسلم، حدثنا شداد ابو طلحة الراسبي، عن ابي الوازع، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله والله اني لاحبك . فقال " انظر ماذا تقول " . قال والله اني لاحبك . فقال " انظر ماذا تقول " . قال والله اني لاحبك . ثلاث مرات فقال " ان كنت تحبني فاعد للفقر تجفافا فان الفقر اسرع الى من يحبني من السيل الى منتهاه " . حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابي، عن شداد ابي طلحة، نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو الوازع الراسبي اسمه جابر بن عمرو وهو بصري
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن موسى البصري، حدثنا زياد بن عبد الله، عن الاعمش، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل اغنيايهم بخمسماية سنة " . وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن عمرو وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين يوم القيامة» ”یااللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا“، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے قربت اختیار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن واصل الكوفي، حدثنا ثابت بن محمد العابد الكوفي، حدثنا الحارث بن النعمان الليثي، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم احيني مسكينا وامتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين يوم القيامة " . فقالت عايشة لم يا رسول الله قال " انهم يدخلون الجنة قبل اغنيايهم باربعين خريفا يا عايشة لا تردي المسكين ولو بشق تمرة يا عايشة احبي المساكين وقربيهم فان الله يقربك يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو برس پہلے داخل ہوں گے اور یہ قیامت کے آدھا دن کے برابر ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يدخل الفقراء الجنة قبل الاغنياء بخمسماية عام نصف يوم " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے اور یہ آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا المحاربي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يدخل فقراء المسلمين الجنة قبل اغنيايهم بنصف يوم وهو خمسماية عام " . وهذا حديث صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، عن عمرو بن جابر الحضرمي، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يدخل فقراء المسلمين الجنة قبل اغنيايهم باربعين خريفا " . هذا حديث حسن
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمارے لیے کھانا طلب کیا اور کہا کہ میں کسی کھانے سے سیر نہیں ہوتی ہوں کہ رونا چاہتی ہوں پھر رونے لگتی ہوں۔ میں نے سوال کیا: ایسا کیوں؟ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں اس حالت کو یاد کرتی ہوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اللہ کی قسم! آپ روٹی اور گوشت سے ایک دن میں دو بار کبھی سیر نہیں ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عباد بن عباد المهلبي، عن مجالد، عن الشعبي، عن مسروق، قال دخلت على عايشة فدعت لي بطعام وقالت ما اشبع من طعام فاشاء ان ابكي الا بكيت . قال قلت لم قالت اذكر الحال التي فارق عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم الدنيا والله ما شبع من خبز ولحم مرتين في يوم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روز متواتر جو کی روٹی کبھی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد، يحدث عن الاسود بن يزيد، عن عايشة، قالت ما شبع رسول الله صلى الله عليه وسلم من خبز شعير يومين متتابعين حتى قبض . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ نے مسلسل تین دن تک گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ رحلت فرما گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا المحاربي، حدثنا يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال ما شبع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله ثلاثا تباعا من خبز البر حتى فارق الدنيا . هذا حديث صحيح حسن غريب من هذا الوجه
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے جو کی روٹی ( اہل خانہ کی ) ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یحییٰ بن ابی بکیر کوفی ہیں، ابوبکیر جو یحییٰ کے والد ہیں سفیان ثوری نے ان کی حدیث روایت کی ہے، ۳- یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر مصری ہیں اور لیث کے شاگرد ہیں۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا حريز بن عثمان، عن سليم بن عامر، قال سمعت ابا امامة، يقول ما كان يفضل عن اهل، بيت النبي صلى الله عليه وسلم خبز الشعير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . ويحيى بن ابي بكير هذا كوفي وابو بكير والد يحيى روى له سفيان الثوري ويحيى بن عبد الله بن بكير مصري صاحب الليث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے مسلسل کئی راتیں خالی پیٹ گزار دیتے، اور رات کا کھانا نہیں پاتے تھے۔ اور ان کی اکثر خوراک جو کی روٹی ہوتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا ثابت بن يزيد، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبيت الليالي المتتابعة طاويا واهله لا يجدون عشاء وكان اكثر خبزهم خبز الشعير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اجعل رزق ال محمد قوتا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث «عن جعفر بن سليمان عن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلا بھی مروی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يدخر شييا لغد . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وقد روي هذا الحديث عن جعفر بن سليمان عن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکی ( یا میز ) پر کھانا کبھی نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی باریک آٹے کی روٹی کھائی یہاں تک کہ دنیا سے کوچ کر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث سعید بن ابی عروبہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، قال ما اكل رسول الله صلى الله عليه وسلم على خوان ولا اكل خبزا مرققا حتى مات . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث سعيد بن ابي عروبة